@special_service_group_12: مارخور_کی_داستان ۔💀😎 میری کلاس کی اسی فیصد لڑکیاں لفٹینوں سے باقی بیس فیصد لڑکیاں کم سے کم کسی تگڑے بیوروکریٹس سے شادی کرنا چاہتی تھیں۔میں خاموشی سے یونيورسٹی کے دو سال اپنی کلاس فیلو لڑکیوں کے ہر ہفتے نٸے سے نٸے اور امیر سے امیر گھروں سے آۓ رشتوں کی کہانیاں سنتا رہتا اور ہر بار وہ خود فریبی کا شکار لڑکیاں کلاس میں فخر سے ہم غریب لڑکوں کو سنانیں یا پھر اپنے اپنے دل بہلانے کیلے باآواز بلند کلاس میں بتاتی کہ کس طرع ایک اسسٹنٹ کمشنر لڑکے کے گھر والے ان کی منتیں کرتے رہے مگر وہ نہیں مانیں۔ احساس کمتری کی ان آخری حدوں کو چھوتی ان لڑکیوں کے پاس میں کبھی نہیں گیا اور خاموشی سے یونيورسٹی کے دو سال کلاس کے سب سے غریب اور خاموش لڑکے کی حثیت سے گزار دے۔ہاں اگر کوٸی پسند آٸی بھی تو میری غربت میری پسند کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گٸ اور جس پرانی اور کھٹارا باٸیک پر میں یونيورسٹی دو سال سے آرہا تھا کچھ اس کی حالت دیکھ کر بھی میرا پیار اور ان کا اظہار ٹھنڈا پڑجاتا۔ یہ یونيورسٹی کے آخری دن اور ہمارا آخری لانگ ٹرپ تھا۔واپسی کی آخری رات سب لڑکے لڑکیاں اپنی اپنی ڈاٸری پر ایک دوسرے کو الودعی آٹو گرافس دے رہے تھے۔میری ڈاٸری پر ہر لڑکی نے تعزیت کی حدوں کو چھوتی ہمدردی میں میرے لیۓ دعا کی کہ زندگی میں مجھے اچھی جاب اچھا گھر نصیب ہو اور ہاں جس لڑکی سے کبھی پیار کی بھیک میں دھتکارا گیا تھا وہ لڑکی کچھ شرمندہ سی تھی اس نے آٹو گراف میں لکھا کاش ہمارے فیملی سٹیٹس ایک سے ہوتے تو دنیا میں کیا ممکن نہیں کاش۔۔ یہ لانگ ٹرپ کا اختتامی سفر تھا آخری لمحات میں آخری سا سفر جس نے دو سال سے چھپاۓ سارے راز کھول دۓ مگر تب جب بہت دیر ہوچکی تھی اور سب کے سب اپنی ظرف اور ذات سیمت تولے جا چکے تھے۔ ہمارے (ہیڈ آف ڈیپاڈمنٹ) ڈین کی اور کلاس کی تمام لڑکیوں لڑکوں کی بے انتہاہ فرماٸش پر ہماری بس ایک اہم سرکاری ادارے کی وسیع و عریض عمارت کے سامنے کھڑی تھی اور وردی میں ملبوس ایک سرکاری اہلکار حیران پریشان مسلسل ہمارے سینٸر ترین استاد کی اس بات پر بے عزتی کررہا تھا کہ ہم یونيورسٹی کے سٹوڈنٹس اور سٹاف اس بلڈنگ کے اندر کیسے اور کیونکر جاسکتے ہیں۔😲 میں کبھی مر کر بھی نہیں چاہتا تھا کہ جو راز دو سال سے کسی کے اگے اشکار نہیں ہوا اج ہوجاۓ مگر اج سوال باپ جیسے استاد کی عزت کا تھا اور پھر اسی خیال میں نے بس کی سب سے پیچھے والی سیٹ سے اس سرکاری اہلکار کو ایک بلکل مختلف لہجے انداز اور آواز سے بلایا یہ لہجہ اور آواز اج اتنا مختلف تھا کہ پوری بس نے پیچھے مڑ کر میری طرف حیرت سے دیکھا اور سوچا کہ جب اتنے سینٸر لوگ کوٸی بات نہیں منوا سکتے تو مجھے آخر کیا سوجھی اپنی بے عزتی کروانے۔۔😲 قربان جاو ان اہلکاروں پر جو شکلوں لہجوں اور انداز کو کڑوڑوں میں پہچان جاتے ہیں وہی بدتمیز اہلکار تقریباً دوڑتا ہوا آیا باآواز بلند کہا یس سر !! میں نے اپنا کارڈ دیکھایا پھر میں نے آہستہ سے پوچھا یہاں ایڈجوٹینٹ صاحب کون ہیں؟؟ اس اہلکار نے میرا کارڈ دیکھ کر سب سے پہلے مجھے سلیوٹ کیا پھر اپنے ایڈجوٹینٹ کا نام بتایا اس کے کچھ دیر بعد کے مناظر کچھ اس طرع کے تھے کہ ایک پروٹوکول تھا سلیوٹ تھے اور ایک حیرت تھی جو کلاس کے ہر لڑکے خصوصاً لڑکیوں کے چہروں پر تھی۔۔ مجھے ان ہمدردوں سے نکل کر محبتوں میں تبدیل ہوتی شکلوں سے آج کوٸی سروکار نہیں تھا کہ ظرف اور ذاتیں آزماٸی جاچکی تھیں۔بچھڑتے ان لمحوں میں ملنے کو اور نام و منصب کے مرہون پیار کرنے کو اب بہت دیر ہوچکی تھی۔ چند دنوں میں مجھے واپس اپنی یونٹ رپورٹ کرنا تھی مجھے جو اس یونيورسٹی کی آڑ میں مشن دیا گیا تھا وہ میں نے بخوبی پورا کردیا اب کہی اور کسی اور جگہ مختلف پہچان کے ساتھ موجود ہوں گا۔۔✋😎💖 ایک رٸیل مارخور کی دستان SSG 💀🔥✌👈