@mrs_student_choppa: 🥲#trending #fyp #viral

Mrs_student_chopp💸❤️🙌🏽
Mrs_student_chopp💸❤️🙌🏽
Open In TikTok:
Region: JM
Tuesday 18 August 2026 16:09:19 GMT
705
61
3
2

Music

Download

Comments

iluvmomo5
🧠 MōMō 🧠 :
2026-08-19 01:17:04
1
thereal_dene
Dené🤍 :
U gone be okay mama I’m here for u🫂🤍
2026-08-19 17:16:11
0
rockigrant2
Rocki :
2026-08-20 21:52:49
0
unclesam573
unclesam573 :
💯💯💯
2026-08-27 18:40:22
0
To see more videos from user @mrs_student_choppa, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

دو ہزار روپے کا چالان کرنا ہو تو صرف نمبر پلیٹ کافی ہے، شناختی کارڈ سے شہری کی شناخت چند لمحوں میں ہو جاتی ہے، مگر جب اسی غریب موٹر سائیکل سوار کو چند روپے کا پٹرول ریلیف دینا ہو تو اسے معلومات، تصدیق اور پیغامات کے ایسے چکر میں ڈال دیا جاتا ہے کہ ریلیف سے پہلے ہی اس کی ہمت جواب دینے لگتی ہے۔ شناختی کارڈ نمبر دو، اپنے نام کی سم بتاؤ، گاڑی کا نمبر لکھو، صوبے کا کوڈ تلاش کرو، رجسٹریشن کی تاریخ یاد کرو، SMS بھیجو، تصدیقی پیغام کا انتظار کرو، پھر TOK کا SMS لو، اور آخر میں پٹرول پمپ پر ٹوکن لے کر جاؤ۔ سوال یہ نہیں کہ تصدیق کیوں ہو رہی ہے، سوال یہ ہے کہ غریب کے لیے ہر سہولت اتنی مشکل کیوں بنا دی جاتی ہے؟ جس انسان کے پاس مہینے کے آخر میں گھر کا راشن خریدنے کے پیسے نہیں ہوتے، جو موٹر سائیکل میں پٹرول ڈلوانے سے پہلے جیب ٹٹولتا ہے، جو چند سو روپے بچانے کے لیے لمبا راستہ پیدل طے کر لیتا ہے، اُس کے لیے ریلیف کا مطلب آسانی، عزت اور سہارا ہونا چاہیے۔ مگر جب ریلیف لینے کے لیے بھی اسے بار بار اپنی شناخت ثابت کرنی پڑے، مختلف مراحل سے گزرنا پڑے اور نظام کی پیچیدگیوں سے لڑنا پڑے، تو دل میں ایک سوال ضرور اٹھتا ہے: کیا غریب کو سہولت دی جا رہی ہے، یا سہولت کے نام پر ایک اور آزمائش میں ڈالا جا رہا ہے؟ اگر حکومت کے پاس شہری کا شناختی کارڈ، موبائل نمبر، ایکسائز کا ریکارڈ اور گاڑی کی معلومات پہلے سے موجود ہیں، تو پھر ان معلومات کی تصدیق کا بوجھ اسی غریب شہری کے کندھوں پر کیوں رکھا جائے؟ غریب کو خیرات نہیں، اپنے حق تک آسان اور باعزت رسائی چاہیے۔ ایسا نظام چاہیے جہاں مستحق شہری کو بار بار دفاتر، پیغامات اور تصدیقی مراحل کے پیچھے نہ بھاگنا پڑے، بلکہ حکومت خود دستیاب ریکارڈ سے تصدیق کرے اور ریلیف کو واقعی آسان بنائے۔ کیونکہ جس سہولت تک پہنچنے کے لیے انسان کو اتنی مشقت اٹھانی پڑے، اُس کے بارے میں سوال اٹھنا فطری ہے: 🔥 ریلیف غریب کی مشکل کم کرنے کے لیے ہے، یا غریب کو ریلیف لینے کی مشکل سمجھانے کے لیے؟ حکومت سے گزارش ہے: نظام آسان بنائیں، تصدیق خود کریں اور غریب کو سہولت کے نام پر مزید پریشان نہ کریں۔ کیونکہ غریب پہلے ہی زندگی کی بہت سی آزمائشیں برداشت کر رہا ہے، اسے اپنے حق کے لیے ایک اور امتحان میں نہ ڈالیں۔ #fyppppppppppppppppppppppp #deepthoughts #viralvideo #dontunderreviewmyvideo #fypシ゚viral
دو ہزار روپے کا چالان کرنا ہو تو صرف نمبر پلیٹ کافی ہے، شناختی کارڈ سے شہری کی شناخت چند لمحوں میں ہو جاتی ہے، مگر جب اسی غریب موٹر سائیکل سوار کو چند روپے کا پٹرول ریلیف دینا ہو تو اسے معلومات، تصدیق اور پیغامات کے ایسے چکر میں ڈال دیا جاتا ہے کہ ریلیف سے پہلے ہی اس کی ہمت جواب دینے لگتی ہے۔ شناختی کارڈ نمبر دو، اپنے نام کی سم بتاؤ، گاڑی کا نمبر لکھو، صوبے کا کوڈ تلاش کرو، رجسٹریشن کی تاریخ یاد کرو، SMS بھیجو، تصدیقی پیغام کا انتظار کرو، پھر TOK کا SMS لو، اور آخر میں پٹرول پمپ پر ٹوکن لے کر جاؤ۔ سوال یہ نہیں کہ تصدیق کیوں ہو رہی ہے، سوال یہ ہے کہ غریب کے لیے ہر سہولت اتنی مشکل کیوں بنا دی جاتی ہے؟ جس انسان کے پاس مہینے کے آخر میں گھر کا راشن خریدنے کے پیسے نہیں ہوتے، جو موٹر سائیکل میں پٹرول ڈلوانے سے پہلے جیب ٹٹولتا ہے، جو چند سو روپے بچانے کے لیے لمبا راستہ پیدل طے کر لیتا ہے، اُس کے لیے ریلیف کا مطلب آسانی، عزت اور سہارا ہونا چاہیے۔ مگر جب ریلیف لینے کے لیے بھی اسے بار بار اپنی شناخت ثابت کرنی پڑے، مختلف مراحل سے گزرنا پڑے اور نظام کی پیچیدگیوں سے لڑنا پڑے، تو دل میں ایک سوال ضرور اٹھتا ہے: کیا غریب کو سہولت دی جا رہی ہے، یا سہولت کے نام پر ایک اور آزمائش میں ڈالا جا رہا ہے؟ اگر حکومت کے پاس شہری کا شناختی کارڈ، موبائل نمبر، ایکسائز کا ریکارڈ اور گاڑی کی معلومات پہلے سے موجود ہیں، تو پھر ان معلومات کی تصدیق کا بوجھ اسی غریب شہری کے کندھوں پر کیوں رکھا جائے؟ غریب کو خیرات نہیں، اپنے حق تک آسان اور باعزت رسائی چاہیے۔ ایسا نظام چاہیے جہاں مستحق شہری کو بار بار دفاتر، پیغامات اور تصدیقی مراحل کے پیچھے نہ بھاگنا پڑے، بلکہ حکومت خود دستیاب ریکارڈ سے تصدیق کرے اور ریلیف کو واقعی آسان بنائے۔ کیونکہ جس سہولت تک پہنچنے کے لیے انسان کو اتنی مشقت اٹھانی پڑے، اُس کے بارے میں سوال اٹھنا فطری ہے: 🔥 ریلیف غریب کی مشکل کم کرنے کے لیے ہے، یا غریب کو ریلیف لینے کی مشکل سمجھانے کے لیے؟ حکومت سے گزارش ہے: نظام آسان بنائیں، تصدیق خود کریں اور غریب کو سہولت کے نام پر مزید پریشان نہ کریں۔ کیونکہ غریب پہلے ہی زندگی کی بہت سی آزمائشیں برداشت کر رہا ہے، اسے اپنے حق کے لیے ایک اور امتحان میں نہ ڈالیں۔ #fyppppppppppppppppppppppp #deepthoughts #viralvideo #dontunderreviewmyvideo #fypシ゚viral

About