@hadith.nabvi: اس حدیث کا بنیادی مقصد انسان کو ہر قسم کے حرام رزق اور ذرائع (مثلاً سود، رشوت، چوری، دھوکہ دہی، یا ناپ تول میں کمی) سے بچانا ہے۔ حرام سے پرورش پانے والا گوشت: اس سے مراد وہ انسان ہے جس کا جسم یا وجود حرام رزق کے ذریعے پلے اور بڑھے۔ جنت میں داخل نہیں ہوگا: اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اپنے جسم کی پرورش اور دیکھ بھال حرام مال سے کرتا ہے، وہ سیدھا اور بلا حساب کتاب جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ جہنم کی آگ ہی اس کی زیادہ حق دار ہے: اس کا مطلب یہ ہے کہ حرام مال سے بننے والا جسم یا اس کی غلط پرورش، اسے جہنم کی سزا کی طرف لے جانے کا باعث بنتی ہے، جب تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے معاف نہ فرما دے یا انسان سچی توبہ نہ کر لے۔ حاصلِ کلام: یہ حدیثِ مبارکہ اس بات کی ہدایت دیتی ہے کہ انسان کو ہمیشہ حلال روزی کمانے اور کھانے کی کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ رزقِ حلال میں برکت ہوتی ہے اور رزقِ حرام انسان کی عبادت اور اعمال کی قبولیت میں رکاوٹ بنتا ہے۔