@toota_hua_dil_.3: انجانی سزا ہر وقت مجھے انجانی سی سزا ملتی رہی، مگر میں نے کبھی اپنی تقدیر سے شکوہ نہیں کیا۔ دل میں ہزاروں سوال تھے، مگر جواب ایک بھی نہ تھا۔ جنہیں اپنا سمجھا، وہی آہستہ آہستہ دور ہوتے گئے۔ ہر جدائی میرے دل پر ایک نیا زخم چھوڑ گئی۔ رات کی خاموشی میں میں خود سے پوچھتا رہا، آخر میرا قصور کیا تھا؟ میں نے تو ہر رشتے کو سچی دل سے نبھایا تھا۔ پھر بھی ہر موڑ پر قسمت نے مجھے تنہا کر دیا۔ کبھی سوچتا ہوں شاید میرے نصیب میں خوشیاں ہی کم تھیں۔ اب کسی سے گلہ نہیں، بس دل خاموش رہتا ہے۔ مرشد، اب تقدیر سے بھی سوال کرنے کو دل نہیں کرتا، ڈر لگتا ہے کہیں جواب میں ایک اور سزا نہ مل جائے۔ #TootaHuaDil #UrduPoetry #DardBhariKahani #SadStory #HeartBroken