@atiq__typist2: "کسی کو پسند کرنا گناہ نہیں ہے۔ پسند پر انسان کا اختیار نہیں ہوتا، اختیار اس بات پر ہوتا ہے کہ اُس پسند کے بعد وہ کیا کرتا ہے۔" دلوں کے معاملات عجیب ہوتے ہیں۔ کب، کہاں اور کس سے لگ جائیں، یہ اکثر انسان کے اختیار میں نہیں ہوتا۔ بعض لوگ برسوں ساتھ رہ کر بھی دل میں جگہ نہیں بنا پاتے، اور بعض لوگ چند لمحوں میں انسان کے خیالوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔ کسی کو پسند کر لینا، اُس کی موجودگی سے خوشی محسوس کرنا، اُس کی خیر چاہنا یا اُس کی فکر کرنا کوئی گناہ نہیں۔ یہ تو دل کی کیفیت ہے، اور دل پر انسان کی مکمل حکومت نہیں ہوتی۔ اصل امتحان اُس کے بعد شروع ہوتا ہے۔ یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ انسان اپنی پسند کو عزت دیتا ہے یا ضد بنا لیتا ہے۔ وہ محبت کو پاکیزگی کے ساتھ نبھاتا ہے یا اسے گناہ کے راستوں پر لے جاتا ہے۔ وہ دوسرے انسان کی حدود، عزت اور مرضی کا خیال رکھتا ہے یا اپنی خواہشات کو سب کچھ سمجھ لیتا ہے۔ بہت سے لوگ پسند کو محبت سمجھ لیتے ہیں، اور محبت کو ملکیت۔ حالانکہ محبت کا مطلب کسی پر حق جتانا نہیں، بلکہ اُس کی عزت کرنا ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص آپ کی زندگی کا حصہ نہ بن سکے تو بھی اُس کے لیے دل میں خیر باقی رکھنا محبت ہے۔ اگر کوئی آپ کی خواہش نہ بن سکے مگر آپ کی دعا بن جائے تو یہ بھی محبت ہے۔ اور اگر کسی کو چاہنے کے باوجود آپ اُس کی حدود اور اپنے رب کے احکامات کا خیال رکھیں، تو یہی محبت کے اخلاص کی نشانی ہے۔ کیونکہ گناہ پسند کرنے میں نہیں... گناہ اُس راستے میں ہوتا ہے جو انسان اپنی پسند کے بعد اختیار کرتا ہے۔ اور خوبصورت محبت وہی ہوتی ہے جو انسان کو اپنے رب سے دور نہیں، بلکہ قریب کر دے۔ ❤️🩹 #fyp