@wordsbykanwal: ایک مرد سے دھوکا کھا کر بھی عورت نے شاید کوئی سبق نہیں سیکھا، پھر کسی دوسرے مرد کے وعدوں کو سچ سمجھ بیٹھی۔ شاید اسے دھوکا کھانے کی عادت نہیں تھی، اسے صرف محبت پر یقین کرنے کی عادت تھی۔ دل بھی کتنا معصوم ہوتا ہے نا... ایک بار ٹوٹتا ہے، بہت روتا ہے، خود کو سمیٹتا ہے، قسم کھاتا ہے کہ اب کسی پر اعتبار نہیں کرے گا، مگر پھر کوئی آتا ہے، چند نرم لہجے بولتا ہے، محبت کا یقین دلاتا ہے، مستقبل کے خواب دکھاتا ہے اور دل دوبارہ اُس کے لفظوں پر یقین کرنے لگتا ہے۔ زخم وہیں رہتے ہیں، مگر بھروسہ پھر بھی نیا ہو جاتا ہے۔ عورت شاید پچھلے شخص کو نہیں بھولی ہوتی، وہ صرف یہ امید رکھتی ہے کہ ہر مرد ایک جیسا نہیں ہوتا۔ شاید اس بار کوئی اُس کے ٹوٹے ہوئے دل کو مزید نہیں توڑے گا۔ شاید اس بار وعدے صرف الفاظ نہیں ہوں گے۔ شاید اس بار محبت کے ساتھ وفاداری بھی ہوگی۔ مگر سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ بعض لوگ انسان کے اسی معصوم یقین کو اُس کی کمزوری سمجھ لیتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ سامنے والا محبت کو سنجیدگی سے لے رہا ہے، پھر بھی وعدے کرتے ہیں۔ جانتے ہیں کہ کوئی اُن کے الفاظ کو دل میں جگہ دے رہا ہے، پھر بھی ایسی امیدیں دلاتے ہیں جنہیں پورا کرنے کا اُن کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا۔ اور جب سب کچھ ختم ہو جاتا ہے تو کہتے ہیں: "تم نے میری باتوں کو اتنا سنجیدہ کیوں لیا؟" کاش لوگ سمجھیں کہ محبت میں کہے گئے الفاظ صرف الفاظ نہیں ہوتے۔ کسی کے لیے وہ پوری زندگی کے فیصلے بن جاتے ہیں۔ اس لیے اگر محبت نہیں نبھانی تو وعدے مت کرو۔ اگر ساتھ نہیں دینا تو کسی کو مستقبل کے خواب مت دکھاؤ۔ اگر دل بدل سکتا ہے تو کسی کے دل کو ہمیشہ رہنے کا یقین مت دلاؤ۔ کیونکہ کچھ لوگ دھوکے کے بعد بھی محبت کرنا نہیں چھوڑتے، بس اُن کے اندر ایک خوف ہمیشہ کے لیے رہ جاتا ہے۔ اور شاید عورت کی سب سے بڑی کمزوری یہی نہیں کہ وہ دوبارہ محبت کر لیتی ہے... اصل بات یہ ہے کہ اتنے زخموں کے باوجود اُس کے دل میں محبت پر یقین ابھی زندہ رہتا ہے۔ 🤍 #محبت #دھوکا #اعتماد #عورت #اردو_تحریر