@exho.reality: آنکھیں تو کھلی رہتی ہیں ہر دم، مگر دل کبھی سچ دیکھنا نہیں چاہتا۔ جو نظر نیت پہچان لے، وہ عقل مند ہے — مگر جو نیت جانتے ہوئے بھی نظر انداز کرے، وہ خود سے بے وفا ہے۔ سچائی دستک دیتی ہے آہستہ سے، مگر ہم دروازہ نہیں کھولتے۔ کیونکہ سچ کے ساتھ آنا پڑتا ہے ہر اُس خواب کا خاتمہ، جو ہم نے خود بُنا تھا۔ جب دھوکہ کھاتے ہیں ہم بار بار، تو الزام آنکھوں کو نہیں دیا جاتا — اصل قصور اُس امید کا ہے جو ہم نے سچائی پر ترجیح دی۔ اک دن آئینہ سامنے آتا ہے، اور سوال صرف ایک ہوتا ہے: “تم نے دھوکہ کھایا — یا کھانا چاہا؟” اور جواب، اکثر، خاموشی ہوتی ہے۔❤️🩹