@gospel.chronicles37: #gospelchronicles #gospeltrends #gospelvibes #aflewonyeri

Gospel chronicles 😹😹
Gospel chronicles 😹😹
Open In TikTok:
Region: KE
Wednesday 19 August 2026 07:10:39 GMT
9957
564
68
214

Music

Download

Comments

zello_moviez
zello :
Woooi hio ngoma naskianga kuicheza napotea. Definitely not for the weak
2026-08-19 17:20:01
0
peshie715
peshie :
backup wakunywe soda😁😁😁🥰🥰🥰
2026-08-19 12:23:09
4
janetkyvzxq
alyce :
when is aflewo nakuru
2026-08-19 17:56:55
0
.gospelsongskenya
Joy🥰🥰 :
say hi to mary Kinja
2026-08-19 15:31:34
1
enekigera
Mwarí wa Kigera :
Twendeeee,Hatukuenda😭😭😭
2026-08-19 08:36:37
7
njogu_muturi
Njogu Muturi :
aki ni data yangu mmefanya hivyo?
2026-08-19 12:50:19
4
cessceo
cess🦋 :
😂😂😂Hawa watu hukuwa wameiva bana,am sure hapa walikuwa wamebeat Yao yote😂😂
2026-08-19 10:24:38
6
psalmistbonnie
Psalmist Bonface Obiero :
waaaaaaaah 😂😂😂mambo Gani hayaaa
2026-08-19 12:16:51
3
danixbazz
danixbazz🎸🥇 :
kwani ilikuwa mbayaa hivi na hii ni song ya kitambo jameni🥺🥺🥺🥺🥺🥺🥺🥺
2026-08-19 13:45:17
2
tilly_tova414
Tilly_Tova🦋✨❤️ :
na nikiwa nimepigia band makofi 😹😹
2026-08-19 14:21:43
1
ministerprincepraise1
Minister Prince Praise 🙏 :
hii ndio maana hua sichezi duplicate ya wimbo koz kikikuramba mnaachwa hapo😅😅😅😅
2026-08-19 13:50:13
1
kip_brian
Brian :
Sasa haya ni mambo gani jamani 😂😂😂
2026-08-19 17:26:38
0
jowzey90
Joseph Daniel 🇹🇿🇰🇪 :
😂😂 hayaaaa
2026-08-19 13:13:34
1
user726361570618
Godfrey Cabs/Taxi Nyeri :
Yani tulitrend 😭
2026-08-19 17:51:22
0
andoke254
Ando KE🇰🇪 :
kwishaa 😭😅🤣😂
2026-08-19 17:10:22
0
To see more videos from user @gospel.chronicles37, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

“جو میری آنکھوں نے دیکھا لوگو، تمہیں بتا دوں تو کیا کرو گے؟” یہ کلام عابی مکھنوی کا جب پہلی بار ہماری سماعتوں تک پہنچا تو صرف الفاظ نہیں تھے، بلکہ ایک پوری کیفیت تھی۔ آواز میں ایسا درد تھا کہ دل ٹھہر سا گیا اور ذہن میں صرف ایک سوال گردش کرنے لگا کہ آخر یہ آواز کس خاتون کی ہے؟ ہم نے بہت تلاش کیا۔ کبھی سوچا پاکستان میں کہیں سے یہ آواز اٹھ رہی ہے، کبھی خیال آیا شاید کشمیر کے کسی کونے سے کوئی باہمت خاتون اپنے لوگوں کا مقدمہ بیان کر رہی ہے۔ مگر بہت تلاش کے باوجود معلوم نہ ہو سکا کہ یہ آواز کس کی ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا، لوگوں کی زبان پر آیا اور مظلوموں کے احساسات کی ترجمانی بن گیا، لیکن ہمیں پھر بھی اس آواز کے پیچھے موجود چہرے کا علم نہیں تھا۔ پھر جب سردار اُم حبیبہ کو فورتھ شیڈیول میں ڈالے جانے کی خبر سامنے آئی تو پہلی مرتبہ ہمیں معلوم ہوا کہ وہ آواز کس کی تھی۔ یہ وہی اُم حبیبہ ہیں جن کا تعلق عباس پور، ضلع پونچھ سے ہے اور اس وقت وہ منہاج گرلز کالج بانڈی گوپال پور کی پرنسپل ہیں۔ یہ پی ایچ ڈی کے بعد شعبۂ تعلیم سے وابستہ ہوئیں۔ ایک استاد ہیں، ایک سماجی کارکن ہیں اور سب سے بڑھ کر اپنے لوگوں کے دکھ درد کو محسوس کرنے والی ایک باہمت خاتون ہیں، جن کی آواز ہم تلاش کر رہے تھے۔ وہ آواز کسی گمنام شخص کی نہیں تھی۔ وہ ایک پڑھی لکھی استاد کی آواز تھی، ایک ایسی عورت کی آواز تھی جس نے اپنے قلم اور اپنے لہجے کو مظلوموں کی ترجمانی کے لیے استعمال کیا۔ اور آج سوال یہ نہیں کہ اُم حبیبہ کون ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جس آواز کو ہم نے ایک درد مند اور بے خوف آواز سمجھ کر سنا، وہ آواز آخر اتنی خطرناک کیسے ہوگئی کہ اسے فورتھ شیڈیول تک پہنچا دیا گیا؟ اگر کسی استاد کا قلم عوام کے حقوق کی بات کرے، اگر کسی عورت کی آواز مظلوم کے لیے اٹھے، اگر کوئی شہری اپنے لوگوں کے مسائل دنیا کے سامنے رکھے، تو کیا اس کا جواب خاموشی ہے یا دہشتگردی کی دفعات؟ اُم حبیبہ کی کہانی ہمیں ایک بات ضرور سوچنے پر مجبور کرتی ہے: آواز کو دبایا جا سکتا ہے، مگر اس آواز سے جنم لینے والے سوالات کو نہیں۔ وہ کلام آج بھی ہمارے کانوں میں گونجتا ہے: “جو میری آنکھوں نے دیکھا لوگو، تمہیں بتا دوں تو کیا کرو گے؟” ہمیں اس وقت معلوم نہیں تھا کہ یہ آواز کس کی ہے۔ آج معلوم ہوا تو احساس ہوا کہ آواز صرف ایک خاتون کی نہیں تھی، یہ اپنے لوگوں کے درد کی آواز تھی۔ اور درد کی آواز کو سننے کے لیے کسی تعارف کی ضرورت نہیں ہوتی۔ محترمہ کے خلاف ایسے اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ #releaseshaukatnawazmir #جموں_کشمیر_جوائنٹ_عوامی_ایکشن_کمیٹی #RightsMovementAJK #StandWithKashmir
“جو میری آنکھوں نے دیکھا لوگو، تمہیں بتا دوں تو کیا کرو گے؟” یہ کلام عابی مکھنوی کا جب پہلی بار ہماری سماعتوں تک پہنچا تو صرف الفاظ نہیں تھے، بلکہ ایک پوری کیفیت تھی۔ آواز میں ایسا درد تھا کہ دل ٹھہر سا گیا اور ذہن میں صرف ایک سوال گردش کرنے لگا کہ آخر یہ آواز کس خاتون کی ہے؟ ہم نے بہت تلاش کیا۔ کبھی سوچا پاکستان میں کہیں سے یہ آواز اٹھ رہی ہے، کبھی خیال آیا شاید کشمیر کے کسی کونے سے کوئی باہمت خاتون اپنے لوگوں کا مقدمہ بیان کر رہی ہے۔ مگر بہت تلاش کے باوجود معلوم نہ ہو سکا کہ یہ آواز کس کی ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا، لوگوں کی زبان پر آیا اور مظلوموں کے احساسات کی ترجمانی بن گیا، لیکن ہمیں پھر بھی اس آواز کے پیچھے موجود چہرے کا علم نہیں تھا۔ پھر جب سردار اُم حبیبہ کو فورتھ شیڈیول میں ڈالے جانے کی خبر سامنے آئی تو پہلی مرتبہ ہمیں معلوم ہوا کہ وہ آواز کس کی تھی۔ یہ وہی اُم حبیبہ ہیں جن کا تعلق عباس پور، ضلع پونچھ سے ہے اور اس وقت وہ منہاج گرلز کالج بانڈی گوپال پور کی پرنسپل ہیں۔ یہ پی ایچ ڈی کے بعد شعبۂ تعلیم سے وابستہ ہوئیں۔ ایک استاد ہیں، ایک سماجی کارکن ہیں اور سب سے بڑھ کر اپنے لوگوں کے دکھ درد کو محسوس کرنے والی ایک باہمت خاتون ہیں، جن کی آواز ہم تلاش کر رہے تھے۔ وہ آواز کسی گمنام شخص کی نہیں تھی۔ وہ ایک پڑھی لکھی استاد کی آواز تھی، ایک ایسی عورت کی آواز تھی جس نے اپنے قلم اور اپنے لہجے کو مظلوموں کی ترجمانی کے لیے استعمال کیا۔ اور آج سوال یہ نہیں کہ اُم حبیبہ کون ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جس آواز کو ہم نے ایک درد مند اور بے خوف آواز سمجھ کر سنا، وہ آواز آخر اتنی خطرناک کیسے ہوگئی کہ اسے فورتھ شیڈیول تک پہنچا دیا گیا؟ اگر کسی استاد کا قلم عوام کے حقوق کی بات کرے، اگر کسی عورت کی آواز مظلوم کے لیے اٹھے، اگر کوئی شہری اپنے لوگوں کے مسائل دنیا کے سامنے رکھے، تو کیا اس کا جواب خاموشی ہے یا دہشتگردی کی دفعات؟ اُم حبیبہ کی کہانی ہمیں ایک بات ضرور سوچنے پر مجبور کرتی ہے: آواز کو دبایا جا سکتا ہے، مگر اس آواز سے جنم لینے والے سوالات کو نہیں۔ وہ کلام آج بھی ہمارے کانوں میں گونجتا ہے: “جو میری آنکھوں نے دیکھا لوگو، تمہیں بتا دوں تو کیا کرو گے؟” ہمیں اس وقت معلوم نہیں تھا کہ یہ آواز کس کی ہے۔ آج معلوم ہوا تو احساس ہوا کہ آواز صرف ایک خاتون کی نہیں تھی، یہ اپنے لوگوں کے درد کی آواز تھی۔ اور درد کی آواز کو سننے کے لیے کسی تعارف کی ضرورت نہیں ہوتی۔ محترمہ کے خلاف ایسے اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ #releaseshaukatnawazmir #جموں_کشمیر_جوائنٹ_عوامی_ایکشن_کمیٹی #RightsMovementAJK #StandWithKashmir

About