@aishadda2: “Skincare routine untuk kulit kusam ✨ Dr Leo Glowing Set ada toner, serum dan cream yang bantu bagi kulit nampak lebih cerah dan glowing. #drleo #brighteningskincare #skincareroutine #kulitglowing #skincareviral ”

Adda Suhada
Adda Suhada
Open In TikTok:
Region: MY
Wednesday 19 August 2026 11:04:41 GMT
10
2
1
0

Music

Download

Comments

aishadda2
Adda Suhada :
best dooh
2026-08-19 11:08:57
0
To see more videos from user @aishadda2, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

محمد نواز ولد گل تاسیر شاہ  ضلع تورغر  مبینہ تشدد کیس: 48 گھنٹوں سے نہ بول سکا  نہ کچھ کھا پی سکا شفاف تحقیقات کا مطالبہ راولپنڈی: ضلع تورغر کے تحصیل جدباء تپہ نصرت خیل سے تعلق رکھنے والے حافظ القرآن محمد نواز ولد گل تاسیر شاہ پر مبینہ تشدد کے معاملے نے سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ محمد نواز اس وقت ڈی ایچ کیو ہسپتال  فوارہ چوک راولپنڈی میں زیرِ علاج ہے اور حفیظ خان کے مطابق وہ گزشتہ تقریباً 48 گھنٹوں سے نہ کچھ کھا پی سکا ہے اور نہ ہی بات کرنے کے قابل ہے۔ حفیظ خان کے مطابق واقعہ تقریباً تین روز قبل اس وقت پیش آیا جب صدر بازار راولپنڈی میں موٹر سائیکل سوار دو مبینہ ڈاکوؤں نے ایک خاتون سے موبائل فون  چھین لیا۔ خاتون کی شکایت پر پولیس نے مبینہ طور پر دو افراد کو گرفتار کرکے تھانے منتقل کیا۔ حفیظ خان کا دعویٰ ہے کہ بعد ازاں ان افراد کو مبینہ طور پر رقم لینے کے بعد چھوڑ دیا گیا۔ اس دعوے کی بھی متعلقہ حکام سے مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ حفیظ خان کے مطابق اس کے بعد پولیس نے اردو بازار میں ایک لسی کی دکان سے حافظ القرآن محمد نواز ضلع تورغر کو حراست میں لیا اور مبینہ طور پر اس پر مذکورہ واردات کا اقرار کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ محمد نواز نے مبینہ طور پر یہ کہنے سے انکار کیا کہ واردات اس نے کی ہے اور مؤقف اختیار کیا کہ جب اس نے کوئی جرم نہیں کیا تو وہ اقرار کیسے کرے۔ حفیظ خان کے مطابق محمد نواز کو تھانے منتقل کیا گیا جہاں مبینہ طور پر اسے پائپ سے مارا گیا اور بعد ازاں پوری رات ایک کمرے میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ حفیظ خان کا کہنا ہے کہ مبینہ تشدد اس قدر شدید تھا کہ محمد نواز کی موجودہ حالت انتہائی تشویشناک ہے اور وہ نہ بول پا رہا ہے اور نہ ہی کچھ کھا پی رہا ہے۔ حفیظ خان کے مطابق پولیس کی جانب سے بعد میں اسے مبینہ طور پر یہ پیشکش بھی کی گئی کہ ایک لاکھ روپے دیے جائیں گے، جن میں سے 50 ہزار روپے وہ خود رکھ لے اور 50 ہزار روپے وکیل کو دے کر معاملہ ختم کر دیا جائے۔ حفیظ خان نے مبینہ طور پر رقم لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے محمد نواز کا علاج ضروری ہے اس کے بعد میڈیکل رپورٹ اور قانونی کارروائی کے ذریعے حقائق سامنے لائے جائیں گے۔ محمد نواز کے ساتھ اس وقت صرف حفیظ خان موجود ہیں  جو گزشتہ دو تین روز سے مسلسل ہسپتال تھانے اور قانونی معاملات کے سلسلے میں بھاگ دوڑ کر رہے ہیں۔ حفیظ خان نے قانونی کارروائی کے لیے وکیل بھی کر لیا ہے اور ایک طرف ہسپتال میں محمد نواز کی تیمارداری کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب انصاف کے حصول کے لیے قانونی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہسپتال میں علاج کے حوالے سے بھی سوالات حفیظ خان کے مطابق گزشتہ روز ہسپتال کی دن کی شفٹ میں طبی عملہ مبینہ طور پر پولیس کے کہنے پر محمد نواز کا علاج شروع کرنے کے لیے تیار نہیں تھا  تاہم نائٹ شفٹ کے عملے کے آنے کے بعد علاج شروع کیا گیا۔ اس دعوے کی بھی مکمل اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ محمد نواز کو بروقت طبی امداد کیوں فراہم نہیں کی گئی۔ وفاقی و صوبائی حکومت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ محمد نواز کے معاملے پر لواحقین اور متعلقہ افراد نے وفاقی حکومت حکومتِ خیبر پختونخوا  پنجاب حکومت  آئی جی پنجاب سی پی او راولپنڈی اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے اور تھانہ کینٹ پولیس راولپنڈی کے کردار سمیت پورے واقعے کی مکمل  شفاف اور غیرجانبدارانہ انکوائری کرائی جائے۔ مطالبہ کیا گیا ہے کہ صدر بازار میں ہونے والی مبینہ ڈکیتی  اس سلسلے میں گرفتار کیے گئے افراد  ان کی مبینہ رہائی  محمد نواز کی گرفتاری  تھانے میں مبینہ تشدد  علاج میں مبینہ رکاوٹ اور رقم کی مبینہ پیشکش تمام پہلوؤں کی تحقیقات کی جائیں تاکہ حقیقت کیا ہے  الزام کیا ہے اور جھوٹ و سچ کیا ہے سب کچھ شفاف طریقے سے عوام کے سامنے آ سکے۔ تورغر کے سیاسی و سماجی رہنماؤں سے اپیل حفیظ خان اور متعلقہ افراد نے تورغر کے تمام سیاسی قائدین  منتخب نمائندگان سماجی شخصیات اور راولپنڈی و اسلام آباد میں مقیم تورغر کے افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مشکل وقت میں محمد نواز اور حفیظ خان کے ساتھ کھڑے ہوں  محمد نواز کے بہتر علاج معالجے کے لیے ہر ممکن تعاون کریں اور انصاف کے حصول کے لیے آواز بلند کریں۔ محمد نواز ایک غریب خاندان سے تعلق رکھنے والا حافظ القرآن بتایا جاتا ہے۔ مطالبہ ہے کہ اسے فوری طور پر بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں  اس کا مکمل میڈیکل معائنہ اور قانونی تقاضوں کے مطابق میڈیکل رپورٹ تیار کی جائے  جبکہ واقعے میں ملوث تمام افراد کا بلاامتیاز تعین کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
محمد نواز ولد گل تاسیر شاہ ضلع تورغر مبینہ تشدد کیس: 48 گھنٹوں سے نہ بول سکا نہ کچھ کھا پی سکا شفاف تحقیقات کا مطالبہ راولپنڈی: ضلع تورغر کے تحصیل جدباء تپہ نصرت خیل سے تعلق رکھنے والے حافظ القرآن محمد نواز ولد گل تاسیر شاہ پر مبینہ تشدد کے معاملے نے سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ محمد نواز اس وقت ڈی ایچ کیو ہسپتال فوارہ چوک راولپنڈی میں زیرِ علاج ہے اور حفیظ خان کے مطابق وہ گزشتہ تقریباً 48 گھنٹوں سے نہ کچھ کھا پی سکا ہے اور نہ ہی بات کرنے کے قابل ہے۔ حفیظ خان کے مطابق واقعہ تقریباً تین روز قبل اس وقت پیش آیا جب صدر بازار راولپنڈی میں موٹر سائیکل سوار دو مبینہ ڈاکوؤں نے ایک خاتون سے موبائل فون چھین لیا۔ خاتون کی شکایت پر پولیس نے مبینہ طور پر دو افراد کو گرفتار کرکے تھانے منتقل کیا۔ حفیظ خان کا دعویٰ ہے کہ بعد ازاں ان افراد کو مبینہ طور پر رقم لینے کے بعد چھوڑ دیا گیا۔ اس دعوے کی بھی متعلقہ حکام سے مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ حفیظ خان کے مطابق اس کے بعد پولیس نے اردو بازار میں ایک لسی کی دکان سے حافظ القرآن محمد نواز ضلع تورغر کو حراست میں لیا اور مبینہ طور پر اس پر مذکورہ واردات کا اقرار کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ محمد نواز نے مبینہ طور پر یہ کہنے سے انکار کیا کہ واردات اس نے کی ہے اور مؤقف اختیار کیا کہ جب اس نے کوئی جرم نہیں کیا تو وہ اقرار کیسے کرے۔ حفیظ خان کے مطابق محمد نواز کو تھانے منتقل کیا گیا جہاں مبینہ طور پر اسے پائپ سے مارا گیا اور بعد ازاں پوری رات ایک کمرے میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ حفیظ خان کا کہنا ہے کہ مبینہ تشدد اس قدر شدید تھا کہ محمد نواز کی موجودہ حالت انتہائی تشویشناک ہے اور وہ نہ بول پا رہا ہے اور نہ ہی کچھ کھا پی رہا ہے۔ حفیظ خان کے مطابق پولیس کی جانب سے بعد میں اسے مبینہ طور پر یہ پیشکش بھی کی گئی کہ ایک لاکھ روپے دیے جائیں گے، جن میں سے 50 ہزار روپے وہ خود رکھ لے اور 50 ہزار روپے وکیل کو دے کر معاملہ ختم کر دیا جائے۔ حفیظ خان نے مبینہ طور پر رقم لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے محمد نواز کا علاج ضروری ہے اس کے بعد میڈیکل رپورٹ اور قانونی کارروائی کے ذریعے حقائق سامنے لائے جائیں گے۔ محمد نواز کے ساتھ اس وقت صرف حفیظ خان موجود ہیں جو گزشتہ دو تین روز سے مسلسل ہسپتال تھانے اور قانونی معاملات کے سلسلے میں بھاگ دوڑ کر رہے ہیں۔ حفیظ خان نے قانونی کارروائی کے لیے وکیل بھی کر لیا ہے اور ایک طرف ہسپتال میں محمد نواز کی تیمارداری کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب انصاف کے حصول کے لیے قانونی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہسپتال میں علاج کے حوالے سے بھی سوالات حفیظ خان کے مطابق گزشتہ روز ہسپتال کی دن کی شفٹ میں طبی عملہ مبینہ طور پر پولیس کے کہنے پر محمد نواز کا علاج شروع کرنے کے لیے تیار نہیں تھا تاہم نائٹ شفٹ کے عملے کے آنے کے بعد علاج شروع کیا گیا۔ اس دعوے کی بھی مکمل اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ محمد نواز کو بروقت طبی امداد کیوں فراہم نہیں کی گئی۔ وفاقی و صوبائی حکومت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ محمد نواز کے معاملے پر لواحقین اور متعلقہ افراد نے وفاقی حکومت حکومتِ خیبر پختونخوا پنجاب حکومت آئی جی پنجاب سی پی او راولپنڈی اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے اور تھانہ کینٹ پولیس راولپنڈی کے کردار سمیت پورے واقعے کی مکمل شفاف اور غیرجانبدارانہ انکوائری کرائی جائے۔ مطالبہ کیا گیا ہے کہ صدر بازار میں ہونے والی مبینہ ڈکیتی اس سلسلے میں گرفتار کیے گئے افراد ان کی مبینہ رہائی محمد نواز کی گرفتاری تھانے میں مبینہ تشدد علاج میں مبینہ رکاوٹ اور رقم کی مبینہ پیشکش تمام پہلوؤں کی تحقیقات کی جائیں تاکہ حقیقت کیا ہے الزام کیا ہے اور جھوٹ و سچ کیا ہے سب کچھ شفاف طریقے سے عوام کے سامنے آ سکے۔ تورغر کے سیاسی و سماجی رہنماؤں سے اپیل حفیظ خان اور متعلقہ افراد نے تورغر کے تمام سیاسی قائدین منتخب نمائندگان سماجی شخصیات اور راولپنڈی و اسلام آباد میں مقیم تورغر کے افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مشکل وقت میں محمد نواز اور حفیظ خان کے ساتھ کھڑے ہوں محمد نواز کے بہتر علاج معالجے کے لیے ہر ممکن تعاون کریں اور انصاف کے حصول کے لیے آواز بلند کریں۔ محمد نواز ایک غریب خاندان سے تعلق رکھنے والا حافظ القرآن بتایا جاتا ہے۔ مطالبہ ہے کہ اسے فوری طور پر بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اس کا مکمل میڈیکل معائنہ اور قانونی تقاضوں کے مطابق میڈیکل رپورٹ تیار کی جائے جبکہ واقعے میں ملوث تمام افراد کا بلاامتیاز تعین کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

About