new story bta di ub Allah hum sub pr rehm frmay ameeen summa ameeen
2026-08-19 18:10:39
2
zindgi khubsuret ha :
Great scholar
2026-08-20 18:45:26
0
Mrs Waqar 💖❤️ :
ہر بندے نے اپنی دکان کھولی ہوئی
2026-08-20 13:54:03
3
Muhammad Zubair Raja :
سادہ جواب ہے کہ ایک بار دی گئی تین طلاق ایک ہوتی ہے۔ یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کا طریقہ رہا ہے۔ اسلام کا راستہ بہت آ سان ہے فرقوں نے اس راستے کو جلیبی کی طرح کر دیا ہے۔
2026-08-19 22:27:32
8
Muhammad Izhar Khan :
سوال چنا اور جواب گندم.
اس نے طلاق دینے کا طریقہ نہیں پوچھا
بلکہ یہ پوچھا ہے کہ کوئی دو یا تین طلاق اکھٹی دے تو پھر کیا حکم ہے.....؟؟؟
اور غامدی صاحب کا بڑا شکریہ کہ انہوں نے ٹھنڈے دماغ کیساتھ رومینٹک موڈ کی شرط نہیں لگائی
2026-08-19 16:43:07
6
M®.Yaa®🌹 :
حرام فعل کا ارتکاب رو کر رہےہیں لیکن وہ حرام کام منعقد ہو جاتا ہے۔
ایسا نہیں کہ طلاق واقع نہیں ہوتی
2026-08-20 09:17:17
1
tauskhan :
بہت خوب
2026-08-19 16:47:06
3
Ganian Wala :
Beautiful explanation 🥰
2026-08-19 19:19:56
1
Mudassar🇵🇹 :
تین ماہ تو ٹھیک ھیں لیکن تین طلاق کا مطلب اسی تینُماہ کے عرصے میں احساس کروانے کے لیے بار بار نوٹس دیا جا رہا ہوتا ہے تاکہ ہو سکتا ھے اسے احساس ہو جائے
2026-08-19 21:12:33
2
Kiran :
bilkul thek kha yhi quran m h r yhi nbi pak ki hdees
2026-08-19 19:31:55
2
Huzaifa Hussain Shaikh 🇵🇰 :
behtareen tareqqe qaar 🔥
2026-08-20 01:31:38
1
Sheikhspear :
اگر عدت کا بنیادی مقصد عورت کی رحم کی حالت اور حمل کے امکان کو معلوم کرنا ہے، تو آج جب حمل کا تعین چند دنوں یا ہفتوں میں طبی طور پر ممکن ہے، تین ماہ کی عدت کو اسی قدیم ضرورت کے ساتھ باندھنے کی عقلی بنیاد کیا رہ جاتی ہے؟ کیا شریعت کا یہ حکم کسی مستقل اخلاقی اصول پر قائم ہے، یا اس زمانے کی طبی محدودیت کو ایک دائمی مذہبی حکم بنا دیا گیا؟؟؟؟؟؟؟؟؟
2026-08-19 23:15:06
0
❤پنڈ آ لے🔥 :
buhat khooob
2026-08-19 19:28:46
1
Syed Nasir Ali Shah :
یک مشت تین کا کیا ھے
2026-08-20 02:56:32
1
Khan Khan :
قرآن نے بہت واضع عمل بتایا ہے قرآن پڑھہں
2026-08-20 18:18:18
0
Sheikhspear :
سورۃ البقرہ ۲:۲۲۹-۲۳۰ کے اس صریح تسلسل کو دیکھتے ہوئے، شاید جاوید احمد غامدی صاحب کو ان دونوں آیات کو ایک بار پھر غور سے پڑھنے کی ضرورت ہے؛ کیونکہ ’’الطلاق مرتان‘‘ کے بعد ’’فإن طلقها‘‘ کو نظرانداز کرکے قرآن میں تین طلاق کے تصور ہی کی نفی کرنا آسان نہیں!!!!؟؟؟
2026-08-19 23:19:45
0
iznae 1 ✌️✌️✌️ :
Shia ky talaq Quran ky mutabiq hai.
2026-08-19 23:04:34
2
Mudassar🇵🇹 :
عقل سے دور بات لگ رہی ھے۔
2026-08-19 21:10:59
1
safa :
ghamdu Sahab jab Kisi NY Haram tareeqy Sy mtlab Jo tareeqa Islam Mai nai hai mtlab 3 talaqein akathi dein hein to phr humy iss ka Hal hazrat Umar KY zariye mil gaya hai.wo sahabi thy unho NY aap (SAW) KY sath waqt guzara..iss Mai confusion ki BAAT hi nai rehti
2026-08-20 14:27:50
1
Brownbunny :
طلاق دینے کا ایک احسن طریقہ ہوتا ہے اور خراب طریقہ- کسی نے جو بھی طریقہ اختیار کیا وہ اس کا اپنا مسلہ ہے اور حقیقت یہی ہے کہ تین بار طلاق کہنے سے طلاق ہوجاتی ہے - ایک ساتھ دو یا الگ الگ طریقے سے - طلاق کے تین بار کہنا لازم ہے-
2026-08-20 09:40:45
1
Sheikhspear :
قرآن کی سورۃ البقرہ ۲:۲۲۹ میں صاف الفاظ ہیں: ’’الطلاق مرتان‘‘ — ’’طلاق دو مرتبہ ہے‘‘؛ اور اگلی آیت ۲:۲۳۰ کہتی ہے: ’’فَإِنْطَلّقَهَا‘‘ — ’’پھر اگر وہ اسے طلاق دے دے‘‘۔ اگر پہلی آیت دو طلاقوں اور دوسری آیت اس کے بعد والی طلاق کا ذکر کر رہی ہے، تو پھر یہ کہنا کہ قرآن میں تین طلاق کا کوئی تصور ہی نہیں، قرآن کے صریح تسلسل سے کیسے درست ہو سکتا ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ترجمہ طلاق دو مرتبہ ہے، پھر یا تو بھلے طریقے سے روک لینا ہے یا اچھے طریقے سے رخصت کر دینا ہے۔ ترجمہ پھر اگر وہ اسے (تیسری مرتبہ) طلاق دے دے تو وہ اس کے لیے حلال نہیں رہتی جب تک کسی دوسرے شوہر سے نکاح نہ کرے۔
2026-08-19 23:18:28
0
It's Haider :
thkk hai Bhai ye bb biwi ko thandy dimagh se daingy talaq phrr wohii baat Jo b ho jaye sardio k bad he talaq Dunga next 😂
2026-08-19 20:15:36
0
Chaudhary amjad :
🥰🥰🥰
2026-08-19 21:40:09
1
Praise Worthy :
💞💞💞
2026-08-19 12:37:49
1
To see more videos from user @science.and.islam5, please go to the Tikwm
homepage.