@khizarsreflections: ایرک نیومن نے خبردار کیا تھا کہ اگر فن گرا ہوا ہے، تو ہم خود بھی گرے ہوئے ہیں۔ یہ بات آج کے خالی مواد پر حرف بہ حرف صادق آتی ہے۔ جو فضول مواد ہم روزمرہ نگل رہے ہیں، اس نے وہ ذہن پیدا کر دیا ہے جو گہرائی سے بھاگتا ہے، معنی سے خوفزدہ ہے اور صرف سنسنی کا عادی ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ فن کا بیڑہ غرق ہو گیا۔ فن کبھی درد، سوال اور وجود کی کشمکش سے جنم لیتا تھا۔ اب توجہ کی معیشت نے اسے نمائش، ریل اور فوری لذت میں بدل دیا۔ جو چیز سوچنے پر مجبور کرے، وہ بوجھ لگتی ہے۔ جو خاموشی میں بیٹھے، وہ بوریت محسوس ہوتی ہے۔ ہم نے ایسا ذہن پال لیا ہے جو صرف سطح پر تیرتا ہے اور گہرائی کو دشمن سمجھتا ہے۔ نیومن جس "بڑھتی ہوئی سیاہی" اور "نگلتا ہوا ڈریگن" کی بات کرتا ہے، وہ یہی اندھیرا ہے یعنی تنہائی، بیگانگی اور ثقافتی معیار کا ٹوٹنا۔ یہ زوال صرف مواد بنانے والوں کا نہیں۔ یہ ہمارا اجتماعی زوال ہے۔ جب ہم خالی چیزوں کو کامیابی مان لیتے ہیں، جب ہم فن کو صرف تفریح سمجھ لیتے ہیں، تو ہم خود اس گراوٹ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ فن تب مرے گا جب دیکھنے والا مر جائے اور آج دیکھنے والا ذہن مر رہا ہے۔ جو درد سے بھاگے، وہ حقیقت سے بھی بھاگے گا۔ اور جو حقیقت سے بھاگے، اس کے حصے میں صرف اندھیرا رہ جاتا ہے۔ . . . . . . . . #khizarsreflections #foryoupage #viralreels #PoliticalAwareness #exploremore