حد سے زیادہ سمجھداری انسان کو بور کردیتی ہے ـ
اس لیے شرارتیں کریں اور حوش رہیں زندگی کو محسوس کریں
2026-08-19 16:09:20
1
ᑎᗩKᗩᖇᗩ_ᗩᒪᗩK :
: ګډه شه ګډه شه
اس کلام میں غنی خان انسان کے اندر کی آواز یا لاشعور میں اندر کی احساس یا اپنے دل کے مفتی کی طرف سے اٹھنے والی پکار کا تذکرہ کررہا ہے ۔ یہ وہ خوبصورت آواز ہے جو دل کی گہرائیوں سے قلبی کیفیات کے زور پر اٹھتی ہے اور ہر اس عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی ہے جو انسان اپنے نفس کے بے قابو گھوڑے پر سوار انسانیت کی حدود پھلانگنے کی کوشش کرتا ہے ، یا تو اخلاقیات کے بندھن توڑتا ہے یا اپنی معاشرتی بداعمالیوں سے معاشرے کے امن اورچین میں خلل پیدا کرتا ہے۔ تو اندر کا احساس اسے روکنے کی کوشش کرتا ہے اور یہ آواز انسان کو حرکت میں لاتی ہیں ارے بھائی ایسا نہ کر ۔ ۔۔ ۔
کبھی گناہ کے فلسفے کو سمجھانے کی کوشش کرتی ہے،
کبھی خاندانی شہرت پر داغ لگنے کی دھمکی دیتی ہے ، کبھی ذاتی بے راہ روی کے طعنے دیتی ہے،
کبھی آخرت کے عذاب کا خوف دلاتی ہے،
کبھی معاشرتی تنقید کا ڈر ذہن میں بٹھاتی ہے، اور جب یہ سارے حربے ناکام ہوجاتے ہیں تو یہ احساس انسان کے اندر ایک ندامت کی شکل اختیار کر لیتا ہے ۔یہ وہ منبع ہے جو انسان کے اندر سے پھوٹتا ہے ۔ یہ دل و دماغ کی وہ کیفیتیں ہیں جو خواہشات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی ہیں ۔چونکہ انسان دنیاوی طلب میں اس قدر حریص اور بے پرواہ ہوتا ہے ۔ لذت کے شوق کی وجہ سے اخلاقی بندھن سے بے پرواہ ، رزقِ حلال اور حرام میں تمیز کئے بغیر آگے بڑھنے کا عادی ہے لیکن یہ احساس اس کو روکنے کے لیے ایک لگام کا کام دیتا ہے ۔
اس لئے غنی خان کہہ رہا ہے یہ ایک متحرک شاعری ہیں جو انسان دل و دماغ اور جسم میں حرکت پیدا کرتے ہیں جس کی وجہ سے ایک اچھے معاشرے کا حصہ بن سکتا ہے اور وہ ایک چلتا پھرتا قرآن کا نمونہ پیش کر سکتا ہے اگر ہم صحابہ کی سیرت کو غور سے مطالعہ کریں تو اس زمانے میں قرآن پاک ایک مکمل کتابی شکل میں بھی موجود نہیں تھا لیکن اندر کے ایمانی احساس کی وجہ سے ہر ایک صحابی ایک چلتا پھرتا قرآن تھا اس لیے غنی خان کہہ رہا ہے کہ یہ دیکھنے والا قرآن ہے کیونکہ آج تو قرآن کو ہم نے نفوس کی بجائے نقوش میں قلم بند کر دیا ہے ۔ مزید کہہ رہا ہے کہ یہ جہالت کی منطق ہے اور بہروں کی پکار ہے اس کا مطلب ہے کہ یہ اندر کا احساس ہر انسان کے پاس موجود ہے اس کیلئے نہ بندے کو کوئی سند یا سرٹیفکیٹ کی ضرورت ہے نہ اس کے لیے کسی زبان کی ضرورت ہے جو اس کی ترجمانی کریں بلکہ یہ تو اندر کی آواز ہے جو بہرہ بھی یہ سن سکتا ہے اور جاھل بھی اس کو سمجھ سکتا ہے بغیر کسی مدرسے میں آٹھ سال گزرانے کے یا عصری تعلیم میں سولہ سال کی ڈگری حاصل کرنے کے۔ اور اسی طرح اس کے لیے کسی خاص مذہب کا ہونا بھی
2026-08-19 15:34:41
0
♞ᴬ ᴷ♞ :
❤️❤️❤️
2026-08-19 18:40:04
0
ALONE YAHYA 🥺❤️🩹 :
❤️❤️❤️
2026-08-19 18:29:29
0
GYM BOY 🏋️♀️💪 :
❤️❤️❤️
2026-08-19 18:21:30
0
️🔥亗 𝗦𝗮𝗵𝗶𝗹 𝗞𝗵𝗮𝗻 亗🔥 :
💖💖💖
2026-08-19 18:08:42
0
👾 ⳏ⳽ⲩⲥⲏⲟⳏⲇτⲏ :
🫴🏻💜
2026-08-19 18:07:12
0
🌹َزر٘یَا٘بٰ عٰلَ٘ی٘🫀 :
❤️❤️❤️
2026-08-19 17:53:32
0
804khan :
😳😳😳
2026-08-19 17:24:24
0
.. 𝐔 𝐅 𝐊👾 :
🌸
2026-08-19 17:03:11
0
TamجیD ZیB :
🥀🥀🥀
2026-08-19 16:59:05
0
Romi📿🕊️ :
🥰🥰🥰
2026-08-19 16:41:26
0
Wasسm🫀BaDشHA :
♥️♥️♥️
2026-08-19 16:21:20
0
▄︻デA̷z̷a̷n̷o̷o̷ ̷8̷0̷4̷☠̷️̷══━ :
🥺🥺🥺
2026-08-19 16:14:31
0
👑 ZOHAIB 👑 KHAN 👑 :
🥰🥰🥰
2026-08-19 15:44:37
0
it'x"talحa*🫀🍂 :
❣️❣️❣️
2026-08-19 15:40:50
0
ƘⱭƤƬⱭⱭƝ ƘӀ diwani :
😇😇
2026-08-19 15:29:49
0
Ali Hassan A ♥️ J :
♥️♥️♥️
2026-08-19 15:27:46
0
♛Mr【S】【K】♛🚩 :
🥰🥰🥰
2026-08-19 15:16:18
0
نــازولـــــــ💔ـــــے :
♥️♥️♥️
2026-08-19 15:01:28
0
💫علاؤالدین💫 :
❤️❤️❤️
2026-08-19 14:53:22
0
To see more videos from user @talhaahmad3232, please go to the Tikwm
homepage.