@meenoshahzadi17: کیسی تھکن ہے جو نہ سکون سے کم ہوتی ہے، نہ کھانے سے، نہ سونے سے۔ جسم تھکا ہوا نہیں ہوتا، پھر بھی دل چاہتا ہے کہ سب کچھ چھوڑ کر کسی ایسی جگہ چلا جاؤں جہاں کوئی سوال نہ ہو، کوئی وضاحت نہ دینی پڑے، کوئی یہ نہ پوچھے کہ "کیا ہوا ہے؟" کیونکہ کبھی کبھی انسان کے پاس اپنے دکھ کی کوئی واضح وجہ بھی نہیں ہوتی، بس دل مسلسل بوجھل رہتا ہے۔ بظاہر زندگی معمول کے مطابق چل رہی ہوتی ہے، ہم لوگوں سے بات کرتے ہیں، مسکراتے ہیں، اپنے کام کرتے ہیں، سب کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ ہم ٹھیک ہیں، مگر اندر ایک ایسی جنگ جاری ہوتی ہے جس کی آواز صرف ہمیں سنائی دیتی ہے۔ سب سے عجیب بات یہ ہے کہ دل کا بوجھ کندھوں پر رکھا ہوا نہیں ہوتا کہ اسے اتار کر کہیں رکھ دیا جائے۔ یہ تو سانسوں میں گھل جاتا ہے، خاموشیوں میں اتر جاتا ہے، راتوں کو آنکھوں میں جاگتا ہے اور دن بھر انسان کے ساتھ چلتا ہے۔ کبھی کسی کی ایک معمولی سی بات دل کو توڑ دیتی ہے، کبھی بغیر کسی وجہ کے آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، اور کبھی انسان خود بھی نہیں سمجھ پاتا کہ آخر اسے کس چیز کی کمی محسوس ہو رہی ہے۔ شاید کسی اپنے کی، شاید گزرے ہوئے وقت کی، شاید اس سکون کی جو کبھی زندگی کا حصہ ہوا کرتا تھا۔ کچھ تھکنیں ایسی ہوتی ہیں جو بہت زیادہ رونے کے بعد بھی ختم نہیں ہوتیں، کیونکہ مسئلہ آنکھوں کا نہیں، دل کا ہوتا ہے۔ انسان رو کر بھی ہلکا نہیں ہو پاتا، سو کر بھی تازہ نہیں ہوتا، لوگوں کے درمیان بیٹھ کر بھی تنہا محسوس کرتا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ وہ اپنے دکھ کا عادی ہونے لگتا ہے۔ اسے اپنی خاموشی معمول لگنے لگتی ہے، اپنی اداسی زندگی کا حصہ محسوس ہونے لگتی ہے، اور وہ ہر بار "میں ٹھیک ہوں" کہہ کر اپنے اندر کے شور کو مزید خاموش کر دیتا ہے۔ کاش کوئی یہ سمجھ سکے کہ ہر خاموش انسان پرسکون نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ صرف اس لیے خاموش ہوتے ہیں کیونکہ وہ بار بار اپنی تکلیف بیان کرتے کرتے تھک چکے ہوتے ہیں۔ انہیں اب کسی سے ہمدردی نہیں چاہیے ہوتی، بس کوئی ایسا شخص چاہیے ہوتا ہے جو ان کی خاموشی کو بھی سن سکے۔ جو ان کے چہرے کی مسکراہٹ کے پیچھے چھپی اداسی کو محسوس کر سکے۔ جو یہ کہنے کے بجائے کہ "سب ٹھیک ہو جائے گا"، بس اتنا کہہ دے: "میں سمجھتا ہوں، تم بہت تھک گئے ہو۔" اور شاید یہی زندگی کا سب سے بڑا دکھ ہے کہ انسان دوسروں کو سنبھالتے سنبھالتے خود اندر سے بکھر جاتا ہے۔ سب کے لیے مضبوط بنتے بنتے اسے خود بھی کسی سہارے کی ضرورت ہونے لگتی ہے، مگر وہ مانگ نہیں پاتا۔ پھر ایک وقت آتا ہے جب دل کسی چیز کا مطالبہ نہیں کرتا، نہ خوشی کا، نہ محبت کا، نہ کسی وعدے کا… بس تھوڑا سا سکون چاہتا ہے۔ 💯🙌😇🙃