@peduli.sesama006: Dulu korban PHK, sekarang jadi bos untuk usaha sendiri! Bukti kerja keras dan pantang menyerah. Siapa di sini yang sedang berjuang merintis usaha juga? #umimax #umimaxthemax #trending #videoviral #fyp

peduli.sesama
peduli.sesama
Open In TikTok:
Region: ID
Thursday 20 August 2026 01:42:48 GMT
1642
10
7
0

Music

Download

Comments

miracelll
miracell :
Joss
2026-08-20 03:16:36
0
rezagalangpp
rezaaa :
kisahnya lebih menarik daripada sekadar motivasi
2026-08-20 03:17:13
0
lindsey.saam
Lindsey Saam :
mantapp umimax
2026-08-20 03:17:00
0
aarief.fransiisca
ARIIEF :
yg penting jangan berhenti nyoba lagi
2026-08-20 03:16:21
0
ridhoputra1900
Wallacee Rratito :
moga kesempatan kayak gini makin luas
2026-08-20 03:16:26
0
revaainunputri
Revaaa :
🙏🙏
2026-08-20 03:17:20
0
amirudin_whyu
amirudin_whyu :
🥰🥰🥰
2026-08-20 03:17:04
0
To see more videos from user @peduli.sesama006, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

جدائی شاید دنیا کا واحد دکھ ہے جس میں انسان کسی کو کھو کر بھی اسے اپنے اندر سے نکال نہیں پاتا۔ یہ قبر جیسی نہیں کہ مٹی ڈال کر قصہ ختم ہو جائے؛ یہ تو ایسا مزار ہے جس پر انسان عمر بھر آتا جاتا رہتا ہے، کبھی فاتحہ کے لیے، کبھی اپنے ہی کسی حصے کا سوگ منانے۔ l کچھ جدائیاں انسان کو رلاتی نہیں، اس کے **رونے کی تعریف بدل دیتی ہیں۔** پھر آنسو صرف آنکھ سے نہیں گرتے؛ کسی پرانے گیت پر خاموش ہو جانا، کسی مخصوص راستے سے گزرنے سے گریز کرنا، کسی نام کو سن کر گفتگو بدل دینا، یا برسوں بعد بھی کسی خوشی میں اچانک دل کا بجھ جانا—یہ سب اسی جدائی کے پوشیدہ آنسو ہوتے ہیں۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ یاد ہمیشہ بڑی چیزوں سے نہیں آتی۔ کبھی ایک معمولی سا جملہ، چائے کے کپ سے اٹھتی ہوئی بھاپ، کسی موسم کی پہلی بارش، کسی دکان پر رکھی وہی خوشبو… انسان کو برسوں پیچھے پھینک دیتی ہے۔ تب معلوم ہوتا ہے کہ وقت نے واقعات تو دفن کیے ہیں، **احساس نہیں۔** کبھی کبھی میں سوچتی ہوں، انسان آخر کس چیز سے بچھڑتا ہے؟ ایک شخص سے؟ یا اس شخص کے ساتھ موجود اپنے اُس وجود سے، جو اب دوبارہ کبھی نہیں بن سکتا؟ کیونکہ بعض لوگ ہمیں صرف چھوڑ کر نہیں جاتے؛ وہ ہمارے اندر موجود ایک خاص انسان کو بھی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ ان کے بعد ہم وہی نہیں رہتے جو ان سے پہلے تھے۔ ہماری ہنسی میں ایک کمی، ہماری دعاؤں میں ایک نام، اور ہماری خاموشی میں ایک ایسا سوال رہ جاتا ہے جس کا جواب شاید کسی کے پاس نہیں ہوتا۔ اسی لیے مجھے یقین ہے کہ عمر کے پچاسویں حصے میں بھی اگر کبھی کسی شام سورج اسی طرح ڈوبے، ہوا میں وہی خنکی ہو، اور زندگی بے خبری میں مجھے تمہاری طرف لے جائے، تو شاید میں پھر اسی نادان بچے کی طرح رو دوں گی۔ اس لیے نہیں کہ میں تمہیں بھولی نہیں ہوں گی— بلکہ اس لیے کہ **کچھ لوگ یاد نہیں رہتے، انسان کی ساخت میں شامل ہو جاتے ہیں۔** اور پھر ان سے جدائی، ان کی یاد سے جدائی نہیں رہتی… *اپنے ہی ایک حصے سے عمر بھر کی ہجرت بن جاتی ہے۔*
جدائی شاید دنیا کا واحد دکھ ہے جس میں انسان کسی کو کھو کر بھی اسے اپنے اندر سے نکال نہیں پاتا۔ یہ قبر جیسی نہیں کہ مٹی ڈال کر قصہ ختم ہو جائے؛ یہ تو ایسا مزار ہے جس پر انسان عمر بھر آتا جاتا رہتا ہے، کبھی فاتحہ کے لیے، کبھی اپنے ہی کسی حصے کا سوگ منانے۔ l کچھ جدائیاں انسان کو رلاتی نہیں، اس کے **رونے کی تعریف بدل دیتی ہیں۔** پھر آنسو صرف آنکھ سے نہیں گرتے؛ کسی پرانے گیت پر خاموش ہو جانا، کسی مخصوص راستے سے گزرنے سے گریز کرنا، کسی نام کو سن کر گفتگو بدل دینا، یا برسوں بعد بھی کسی خوشی میں اچانک دل کا بجھ جانا—یہ سب اسی جدائی کے پوشیدہ آنسو ہوتے ہیں۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ یاد ہمیشہ بڑی چیزوں سے نہیں آتی۔ کبھی ایک معمولی سا جملہ، چائے کے کپ سے اٹھتی ہوئی بھاپ، کسی موسم کی پہلی بارش، کسی دکان پر رکھی وہی خوشبو… انسان کو برسوں پیچھے پھینک دیتی ہے۔ تب معلوم ہوتا ہے کہ وقت نے واقعات تو دفن کیے ہیں، **احساس نہیں۔** کبھی کبھی میں سوچتی ہوں، انسان آخر کس چیز سے بچھڑتا ہے؟ ایک شخص سے؟ یا اس شخص کے ساتھ موجود اپنے اُس وجود سے، جو اب دوبارہ کبھی نہیں بن سکتا؟ کیونکہ بعض لوگ ہمیں صرف چھوڑ کر نہیں جاتے؛ وہ ہمارے اندر موجود ایک خاص انسان کو بھی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ ان کے بعد ہم وہی نہیں رہتے جو ان سے پہلے تھے۔ ہماری ہنسی میں ایک کمی، ہماری دعاؤں میں ایک نام، اور ہماری خاموشی میں ایک ایسا سوال رہ جاتا ہے جس کا جواب شاید کسی کے پاس نہیں ہوتا۔ اسی لیے مجھے یقین ہے کہ عمر کے پچاسویں حصے میں بھی اگر کبھی کسی شام سورج اسی طرح ڈوبے، ہوا میں وہی خنکی ہو، اور زندگی بے خبری میں مجھے تمہاری طرف لے جائے، تو شاید میں پھر اسی نادان بچے کی طرح رو دوں گی۔ اس لیے نہیں کہ میں تمہیں بھولی نہیں ہوں گی— بلکہ اس لیے کہ **کچھ لوگ یاد نہیں رہتے، انسان کی ساخت میں شامل ہو جاتے ہیں۔** اور پھر ان سے جدائی، ان کی یاد سے جدائی نہیں رہتی… *اپنے ہی ایک حصے سے عمر بھر کی ہجرت بن جاتی ہے۔*

About