@mhm45155: آمد ماہ رمضان پر استقبال رمضان کی دعا ہوتی ہے ، اور الوداع ماہ رمضان پر وداع کرنے کی بھی دعا ہے اور یہ دعائیں مولا امام سجاد ع سے ہم تک پہنچی ، مولا سجاد ع سے ۔ ماہ رمضان کے روزوں کے بعد پہلی شوال کو روزہ رکھنا حرام ہے مگر عید کے بعد روزے تو رکھ سکتے ہیں ، ثواب ہی ثواب ہے ۔ یہ پروٹوکول ہے اور معصومین ع نے بتایا ہے ۔ زیارت معصومین ع پر جاتے ہیں تو روضے میں داخل ہونے کی زیارت ہوتی ہے اور پھر جب آپ اس روضے کو وداع کررہے ہوتے ہیں تو اس کی بھی زیارت ہوتی ہے ۔ویسے مولا جعفر صادق ع کے قول کے مطابق ، گھر کی چھت سے بھی زیارت مولا حسین ع ہوجاتی ہے اور حرم تو دل اور آنکھ دونوں میں بستا ہے ، مگر وداع تو کرنا ہے اور اس کے پروٹوکول بھی ہیں اور اس کو فالو کرنا بھی ضروری ہوتا ہے کیونکہ معصومین ع سے منسوب ہے یہ تمام زیارات۔ کچھ ایسی دعائیں ہیں جو مختلف مواقع پر ہوسکتی ہیں ،کچھ ایسی زیارتیں ہیں جو مخصوص وقت پر ہوتی ہیں ، کچھ ایسے اعمال ہیں جو مخصوص وقت پر ہوسکتے ہیں جیسے اعمال شب قدر ، اس طرح کی اور بھی پریکٹس ہیں جو سال بھر جاری رہتی ہیں۔ کربلا میں بھی آمد عزا یعنی محرم کی آمد پر حرم کے گنبد پر کالا پرچم بلند ہو جاتا ہے اور ماہ ربیع الاول کے آغاز پر پرچم تبدیل ہو جاتا ہے اور یہ عمل تمام روضوں کی پریکٹس میں ہے مگر روضوں پر جاکر زیارت بھی پڑھ سکتے ہیں اور نوحہ بھی ، منع نہیں ہے ، مولا حسین سرکار ع کے روضوں پر جاکر تو گریہ ہی ہونا ہے ، کبھی چیخ کر آنسو نکلتے ہیں کبھی خاموش آنسو ، گریہ و زاری تو پورا سال جاری رہتی ہے ۔ برصغیر میں ماہ محرم کی آمد پر عزاخانے سج جاتے ہیں اور عزا خانے کا پروٹوکول بہت زیادہ ہوتا ہے ، کچھ عزاخانے شام غریباں پر بڑھادیئے جاتے ہیں اور کچھ عزاخانے سالانہ مجلس کے بعد اور کچھ عزاخانے 8 ربیع الاول تک سجے رہتے ہیں اور اس کے بعد بڑھا دئیے جاتے ہیں کیونکہ عقیدے کے مطابق بڑی بڑی ہستیاں ان عزا خانوں میں تشریف لاتی ہیں کیونکہ وہ ذکر مصائب آل محمد ع سننے آتے ہیں اور جب مجلسوں کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے تو عزاخانے بڑھا دئیے جاتے ہیں کیونکہ مہمان رخصت ہو جاتا ہے ۔ یاحسین و گریہ تو پورے سال میں وقتاً فوقتاً جاری ہے مگر ایام عزا کا پروٹوکول ہے کہ آمد محرم میں مہمان آرہا ہے اور پھر ایام عزا کی رخصت پر مہمان جارہا ہے ،مہمان کا پروٹوکول آپ سب کو اچھی طرح معلوم ہے ۔ یہ الوداع، یہ خدا حافظ تہذیب عزا کے منشور کی خاص شق ہے اس میں خدا نہ خواستہ کوئی بے ادبی نہیں ۔ تو بس بہت آسانی سے سمجھ لیجئیے کہ الوداع ایام عزا ہے ، الوداع یا حسین ع نہیں ، ہاں ایام عزا میں بہت سارے ایسے معاملات ہوتے ہیں جو سال بھر نہیں ہوتے تو بس اس سلسلے کو الوداع ہے ۔ ہم تو 10 11 ربیع الاول سے ہی مجلسوں میں جانا شروع کردیتے ہیں ، اور کبھی حدیث کساء کی صورت ، تو کبھی کہانی کی صورت ، تو کبھی نوحے کی صورت ، تو کبھی زیارت کی صورت مہمان ع کو یاد کرتے رہتے ہیں۔ #foryou #foryoupage #لعنت۔بَر۔دُشمنِ۔زہراّء