@shehreyarkhan713: شوگر میٹھے سے نہیں، "صبر" سے ہوتی ہے گھر کے باقی لوگ چینی، مٹھائی اور میٹھے پکوان کھاتے ہیں۔ لیکن ماں؟ ماں دن رات کڑوی باتیں، گھر کی تلخیاں، اولاد کا بدلتا رویہ اور معاشی تنگیاں کھاتی ہے۔ وہ ہر درد کو ہنس کر پی جاتی ہے اور بدلے میں سب کو مسکراہٹ کا "میٹھا" دیتی ہے۔ جب جسم کے اندر حد سے زیادہ کڑواہٹ اور صبر جمع ہو جائے، تو خون کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ ماں کا شوگر کا مریض ہونا مٹھاس کا نتیجہ نہیں، صبر کے اوور ڈوز کا نتیجہ ہے ماں کی زندگی کا سب سے بڑا جھوٹ یہ ہوتا ہے: "میں نے کھا لیا ہے، تم کھاؤ۔" سب سے اچھا ٹکڑا اولاد کا، بچا کچا ماں کا۔ سب سے پہلے کھانا بچوں کا، سب سے آخر میں (اور اکثر ٹھنڈا) کھانا ماں کا۔ سب کی نیند پوری، ماں کی نیند ہر آہٹ پر ادھوری۔ یہ جو جسم کو مسلسل بھوکا رکھنا، وقت پر نہ کھانا، اور ہر وقت اپنوں کی فکر میں اندر ہی اندر گھلتے رہنا ہے—طبی دنیا اسے انسولین کی کمی کہتی ہے، لیکن محبت کی دنیا میں اسے "خاموش خودکشی" کہتے ہیں جو ماں روز اپنے کنبے کے لیے کرتی ہے جس عورت نے اپنی جوانی، اپنی صحت، اپنی تمام تر توانائیاں صرف اس لیے نچوڑ دیں تاکہ گھر کی مٹھاس قائم رہے... بوڑھاپے میں وہی ماں ایک کپ چائے میں ایک چمچ چینی کو ترستی ہے۔ بچے اس کے سامنے مٹھائیاں کھاتے ہیں اور کہتے ہیں: "امی! آپ کے لیے نہیں ہے، آپ کو شوگر ہے۔" یہ جملہ ماں کے دل کو چیر دیتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ اسے مٹھائی کھانی ہے، بلکہ اس لیے کہ جس گھر کو اس نے اپنے خون سے میٹھا بنایا، آج وہیں وہ سب سے الگ اور محروم کر دی گئی ہے۔ ماں کو شوگر اس لیے نہیں ہوتی کہ اس نے میٹھا کھایا تھا... ماں کو شوگر اس لیے ہوتی ہے کیونکہ اس نے پورا گھر میٹھا رکھنے کے لیے اپنے وجود کو کڑوا کر لیا تھا۔ #CapCut #fyp #foryou #foryoupage #viral