@afghanigril04: زندگی، تو ہمیں بس ڈھونڈتی رہ جائے گی، ہم تیرے ہاتھوں سے ایسے نکل جائیں گے جیسے ریت مٹھی سے نکل جاتی ہے۔ ہم نے تجھ سے بہت کچھ مانگا نہیں تھا، بس تھوڑا سا سکون، کچھ اپنے لوگ، اور چند لمحے بے فکری کے... مگر تو نے ہر بار ہمارے حصے میں انتظار، خاموشی اور جدائی لکھ دی۔ کبھی جن لوگوں کے بغیر ایک لمحہ گزارنا مشکل تھا، آج انہی کی یادوں کے ساتھ پوری رات گزر جاتی ہے۔ دل اب بھی وہیں کھڑا ہے جہاں سب نے ہمیں چھوڑ دیا تھا، بس ہم خود پہلے جیسے نہیں رہے۔ ایک دن تو ہمیں آواز دے گی، ہمیں اپنے گزرے ہوئے لمحوں میں ڈھونڈے گی، مگر تب بہت دیر ہو چکی ہوگی... نہ ہم لوٹ سکیں گے، نہ وہ وقت واپس آئے گا۔ زندگی، تو ہمیں بس ڈھونڈتی رہ جائے گی، اور ہم تیری بھیڑ میں کہیں خاموش ہو جائیں گے... ایسے کہ ہماری کمی تو محسوس ہوگی، مگر ہمیں واپس لانے کا راستہ کسی کے پاس نہیں ہوگا۔