@yousee1101: پھر یوں ہوا کہ خواہشوں کو زہر دے دیا، پھر یوں ہوا کہ نیند روٹھی، خواب مر گئے۔ جن آنکھوں میں کبھی کل کے اجالے رہتے تھے، وہ آنکھیں رات بھر جاگیں، مگر خواب مر گئے۔ پھر یوں ہوا کہ دل نے کچھ نہ مانگا، نہ وصل کی تمنا رہی، نہ کسی کے لوٹ آنے کی آس۔ ہم نے اپنی ہی ہتھیلی پر اپنی خواہشوں کا گلا گھونٹ دیا، اور ایک ایک کر کے اندر کے سب موسم مر گئے۔ کبھی جن باتوں پر دل بےاختیار مسکرا دیتا تھا، اب وہی باتیں سینے میں اتر کر درد بنتی گی– کبھی کسی کے نام سے دھڑکن سنور جاتی تھی، اب کسی کا نام سنوں تو دل کو اپنی ہی دھڑکن اجنبی لگتی ہے۔ پھر یوں ہوا، بربادی مقدر بن گئی، اور نہ چاہتے ہوئے بھی زندہ رہنا پڑا۔