@ilyaskhankp: ۔ مقصد یہ تھا کہ پشتون اپنی مادری زبان اور تعلیم سے دور ہو جائیں۔ یہ پشتون دھرتی اور ثقافت کو کچلنے کا ایک منظم برطانوی منصوبہ تھا۔ تاریخی ریکارڈز کے مطابق، 1901ء میں جب پشتونخوا الگ صوبہ بنا، تو پہلے چیف کمشنر سر ہیرالڈ ڈین نے وائسرائے کو خفیہ خط لکھا: "اگر ان افغانوں کو پشتو میں تعلیم دی گئی، تو ان کا قومی فخر کبھی ختم نہیں ہوگا اور یہ ہمارے لیے خطرہ رہیں گے۔ ان پر قابو پانے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ پشتو کو اسکولوں اور سرکاری دفاتر سے نکال دیا جائے۔" اس چال کے تحت پشتو کے بجائے اردو کو زبردستی اسکولوں کی زبان بنا دیا گیا، جبکہ اس وقت وہاں اردو کوئی نہیں جانتا تھا۔ انگریز نے ایک طرف عام پشتونوں کے لیے تعلیم کا راستہ روکا، اور دوسری طرف اپنے وفادار خان بہادروں کے بچوں کے لیے ایڈورڈز اور اسلامیہ کالج بنا کر انگریزی نافذ کر دی۔ یہ بالکل ویسا ہی وار تھا جیسا 1849ء میں پنجاب پر قبضے کے بعد وہاں کے مقامی تعلیمی نظام کو مٹانے کے لیے کیا گیا تھا۔ جب انگریز کی اس سازش نے پشتونوں کو ان پڑھ بنانا شروع کیا، تو خان عبدالغفار خان (باچا خان) نے اس خطرے کو بھانپ لیا۔ انہوں نے 1921ء میں پورے صوبے میں "آزاد اسکول" کھولے، جہاں بچوں کو ان کی مادری زبان پشتو میں پڑھایا جانے لگا۔ بالکل اسی وقت جنوبی پشتونخوا (بلوچستان) میں خان عبدالصمد خان اچکزئی (خانِ شہید) نے بھی یہی کام شروع کیا اور پشتونوں کو اپنی مادری زبان میں تعلیم، املا اور بیداری سے جوڑا۔ ان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ جو قوم اپنی زبان بھول جائے، وہ اپنی غیرت اور تاریخ بھی کھو دیتی ہے۔ انگریز سرکار اس بیداری سے اتنی ڈر گئی کہ اسکول بند کر دیے، اساتذہ کو جیلوں میں ڈالا اور ان رہنماؤں کو سخت قید کی سزا دی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ 1947ء میں انگریز کے جانے کے بعد بھی یہ پالیسی نہیں بدلی اور پنجابی مقتدرہ (اسٹیبلشمنٹ) نے اسی طریقے کو جاری رکھا۔ "ایک زبان، ایک قوم" کے زبردستی نفاذ کے لیے پشتو، سندھی اور بلوچی کو پیچھے دھکیل دیا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ آج کا پشتون بچہ گھر میں پشتو بولتا ہے، اسکول میں اردو پڑھتا ہے اور نوکری کے لیے انگریزی کا محتاج ہے۔ اسی لسانی ظلم نے پشتونوں کو اپنی ہی دھرتی پر اجنبی اور مقتدرہ کا دستِ نگر بنا دیا ہے۔ آج اگر پشتو زبان زندہ سلامت ہم تک پہنچی ہے، تو یہ ان عظیم پشتون رہنماؤں، شاعروں اور ادیبوں کی وجہ سے ہے جنہوں نے تمام خطروں، ریاستی سختیوں اور جیلوں کے باوجود اس کا وجود برقرار رکھا۔ ہم دل سے شکرگزار ہیں باچا خان، خان شہید عبدالصمد خان اور قاضی عطا اللہ کی تعلیمی محنتوں کے، حمزہ بابا کی لافانی غزلوں کے، غنی خان کے انقلابی فلسفے کے، قلندر مومند کی علمی تحقیق کے، اجمل خٹک کی لرزہ خیز نظموں کے، اور جنوبی پشتونخوا میں سائیں کمال خان شیرانی کی انتھک فکری جدوجہد کے۔ ان سب محسنوں نے انگریز اور (پنجابی) مقتدرہ کے لسانی ظلم کے خلاف اپنے قلم کو مورچہ بنائے رکھا۔ سلامِ عقیدت ان تمام اساتذہ اور ادیبوں کو جنہوں نے پشتو زبان کو مٹنے نہیں دیا۔ #foryoupage❤️❤️ #ilyaskhankp #walikhan #bachakhan #ANP @Aimal Wali Khan @Nisar Baaz 🦅

Ilyas Khan KP
Ilyas Khan KP
Open In TikTok:
Region: PK
Friday 21 August 2026 02:55:39 GMT
65629
3600
121
219

Music

Download

Comments

spider.290
🕷️ :
realy appreciate you ❤️
2026-08-27 07:06:48
2
annoo653
ANNOO🚩 :
caption raka roor me khpal student la ye likama pa taqreer k
2026-08-26 08:45:58
1
imtiaz.sherzad
Imtiaz Sherżad :
په پلار دی رحمت شه قربان ستا له احساسه
2026-08-26 04:52:16
15
morchakhel18
R🌹SE :
وائی اغيار چه ده دوذخ ژبه ده ځه به جنت له ده پښتو سره ځم
2026-08-27 10:59:25
13
sulimankhanking07
SULIMAN KHAN🇦🇫 :
قربان په پسبوک کی نشر کوم یو زل یی راته دا لیکل راولیگه ❤️‍🩹
2026-08-26 05:36:02
7
nasirpathan160
Nasir Pathan :
مژ به حپله پښتو لیکو...❤️❤️❤️
2026-08-27 06:41:56
2
ubaidrehman986
Ubaid Rehman :
آج پنجاب میں بھی کوئی پنجابی نہیں بولتا
2026-08-21 11:44:38
10
mubashir_swati1
Mubashir Swati :
میرے نزدیک اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔دنیا میں شروع سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے کہ لوگ گھروں بازاروں میں اپنی مقامی زبانیں بولتے ہیں لیکن پڑھنے لکھنے کی زبان الگ ہوتی ہے۔انگیزوں نے اردو کو یہاں کے لوگوں کے لیے پڑھنے لکھنے کی زبان بنایا اردو سے پہلے فارسی ہندوستان کی سرکاری زبان تھی اور اس سے پہلے سنسکرت کو یہ مقام حاصل تھا۔آج آپ کہتے ہو کہ اردو ہماری زبان نہیں ہے آپ یہ بتاؤ کہ جب فارسی اور سنسکرت یہاں کی سرکاری زبانیں تھیں اس وقت کتنے فیصد لوگوں کی مادری زبان فارسی یا سنسکرت تھی۔اگر فارسی اور سنسکرت ہماری مادری زبانوں کو ختم نہیں کر سکیں تو آپ خود سوچیں کیا اردو ختم کر سکتی ہے؟مختلف سٹڈیز یہ بتاتی ہیں کہ زیادہ زبانیں بولنے والوں کا IQ level کم زبانیں بولنے والوں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔
2026-08-26 09:49:43
2
lawang_khan1233
lawang_Khan1233 :
مننه، ژبه مور دی، مور باید احترام و شی
2026-08-27 07:25:52
1
jeyarajputna
king 👑 :
یہاں پنجاب میں بھی یہی سب کیا گیا پر پنجابیاں نے تو اپنی زبان ثقافت چھوڑ دی پر بلوچ پشتون سندھی اس بات میں ثابت قدم رہے
2026-08-27 05:02:11
1
said.ali.shah403
said Ali shah :
ماشاءاللہ زبردست پوسٹ
2026-08-21 06:44:18
2
farooq.khan8726
Muhammad :
raight
2026-08-23 18:47:18
1
imtiazkhan8679
imtiazkhan8679 :
Haqeqat ow der afsos di
2026-08-25 14:45:05
1
user9929341460157
Hussain :
true
2026-08-23 02:46:16
1
muhammad.javed5064
Muhammad Javed :
Haqiqat
2026-08-22 08:44:25
1
naveed.khattak414
@Naveed khattak :
khatak zarore hoga
2026-08-23 02:13:30
0
khalidu93
itz____khalid77 :
aap ki bath apni jagah tek hai hy leken agar mai ghalat hu to guide me agar dekha jai to hamari pathano mai koi scientists nahe guzra jis na hamari lie research kie hu aur us ki base phar ham agay chalay jayi matlb pashto mai nahi kia aaj kal kai zmanay mai to jo study hai o zeyada tar angrezoki ejad hai to agar ham ni English ko na samjh chuki thi to aaj kal ki dawar ma ham sab sai pehli English ko yad kar rahay hothy bad mai study to phir kitna mushkil hotha na leken her ham apny zoban par pahar karthy hai aur ham es ko nahi bohlthy hai leken moderenization p zeyada ta tar English chaltha hai agar ham ni English course kia bhi nahe hai leken Bacchpan sai parha hai to Etna to kar skthy hai ki us p ham apna education aur study continue kar tha hai
2026-08-27 09:59:46
0
arabicwithsheikhzabih
Zabih Ullah :
اس تحریر کا کوئی حوالہ؟
2026-08-27 18:15:37
0
z.advocate
Z.Advocate :
pakhto zindabad umer the der shah
2026-08-27 16:47:54
0
dr_hasnain7
Muhammad Hasnain :
un molvio ka naam b mention krdi please. Agr hai tu...
2026-08-26 08:58:14
0
To see more videos from user @ilyaskhankp, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos


About