@masoomlover03: نہ جانے دن میں کتنی ہی بار انسان اپنے الجھے ہوئے دماغ اور دکھتے ہوئے دل کو صرف یہ کہہ کر سنبھالتا ہے: "کوئی بات نہیں... اس میں بھی کوئی بہتری ہوگی۔" کبھی حالات ہماری مرضی کے مطابق نہیں ہوتے، کبھی وہ لوگ جنہیں ہم اپنا سمجھتے ہیں، ہمیں تنہا چھوڑ دیتے ہیں، کبھی دعائیں فوراً قبول ہوتی دکھائی نہیں دیتیں اور کبھی انسان کو سمجھ ہی نہیں آتا کہ آخر اُس کے ساتھ بار بار ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ پھر بھی دل کے کسی کونے سے ایک آواز آتی ہے: "صبر کرو، شاید اللہ نے اس میں بھی کوئی بہتری رکھی ہو۔" یہ جملہ شاید بہت چھوٹا ہے، مگر ٹوٹے ہوئے انسان کے لیے کبھی کبھی پوری دنیا کا سہارا بن جاتا ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ جو چیز ہم سے چھینی جا رہی ہے، شاید وہ ہمارے لیے نقصان دہ تھی۔ ہمیں نہیں معلوم کہ جس راستے کا دروازہ بند ہوا، شاید اُس کے آگے ہمارے لیے کوئی ایسی آزمائش تھی جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ ہم صرف آج دیکھتے ہیں، جبکہ اللہ ہمارا کل بھی جانتا ہے۔ اسی لیے ہر نقصان کو اختتام مت سمجھیں۔ کچھ جدائیاں حفاظت ہوتی ہیں۔ کچھ تاخیر حکمت ہوتی ہے۔ کچھ انکار رحمت ہوتا ہے۔ اور کچھ ٹوٹے ہوئے خواب، کسی بہتر حقیقت کی بنیاد ہوتے ہیں۔ اگر آج دل بہت بھاری ہے تو خود کو اتنا ہی کہنا کافی ہے: "کوئی بات نہیں، میں ابھی نہیں سمجھ پا رہی، مگر میرا اللہ جانتا ہے کہ وہ کیا کر رہا ہے۔" ہر سوال کا جواب فوراً ملنا ضروری نہیں۔ کچھ جواب وقت دیتا ہے، کچھ حالات دیتے ہیں، اور کچھ جواب انسان کو بہت بعد میں سمجھ آتے ہیں جب وہ پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے اور کہتا ہے: "اچھا ہوا وہ نہیں ہوا جو میں چاہتی تھی، اللہ نے میرے لیے اُس سے بہتر سوچ رکھا تھا۔" اس لیے اگر آج کچھ سمجھ نہیں آ رہا، دل رو رہا ہے، ذہن تھک چکا ہے اور زندگی بےترتیب محسوس ہو رہی ہے تو خود کو الزام نہ دیں۔ بس سانس لیں، دعا کریں اور اپنے رب پر بھروسہ رکھیں۔ کوئی بات نہیں... اس میں بھی کوئی بہتری ہوگی۔ اور اگر ابھی نظر نہیں آ رہی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ کی حکمت موجود نہیں۔ 🤍