@hijab_anda: Buruan yukk di order Langsung visit ke toko yaa 😍atau bisa hubungi admin di nomor di bawah ini : •AVAILABLE AT : 📍JL. JOYOBOYO NO 13 SAWOTRATAP GEDANGAN SIDOARJO . Maps : hijab anda sidoarjo More info / order chat 62 815-5384-2984 admin 1 62 858-5001-9536 admin 2 #fyp #page #hijabbuckle #bucklescarves

Hijab Anda Aloha Sidoarjo
Hijab Anda Aloha Sidoarjo
Open In TikTok:
Region: ID
Friday 21 August 2026 10:00:04 GMT
119
4
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @hijab_anda, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

رزق کی حقیقت اور اللہ پر یقین ہماری زندگی میں بھی کتنی بار ایسا ہوتا ہے کہ ہم رزق کو صرف تنخواہ، کاروبار، نوکری یا کسی شخص سے وابستہ کر دیتے ہیں۔ اگر نوکری چھوٹ جائے تو ہمیں لگتا ہے رزق ختم ہوگیا، اگر کاروبار میں نقصان ہو جائے تو لگتا ہے زندگی ختم ہوگئی، اگر کسی انسان نے مدد سے انکار کردیا تو لگتا ہے ہمارے لیے کوئی راستہ باقی نہیں۔ حالانکہ انسان ذریعہ ہو سکتا ہے، رازق نہیں۔ دکان ذریعہ ہے، گاہک ذریعہ ہے، نوکری ذریعہ ہے، مالک ذریعہ ہے، زمین ذریعہ ہے، فصل ذریعہ ہے، لیکن رزق دینے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے۔ یہی فرق انسان کے دل کو خوف سے نکال کر توکل کی طرف لے جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے توکل کی ایک نہایت خوبصورت مثال پرندوں کے ذریعے بیان فرمائی کہ اگر لوگ اللہ پر حقیقی توکل کریں تو اللہ انہیں اسی طرح رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے؛ وہ صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو بھرے پیٹ واپس آتے ہیں۔ غور کریں، پرندے اپنے گھونسلے میں بیٹھ کر رزق کے آنے کا انتظار نہیں کرتے۔ وہ نکلتے ہیں، تلاش کرتے ہیں، کوشش کرتے ہیں، مگر ان کے دل میں یہ یقین ہوتا ہے کہ رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ یہی توکل ہے: ہاتھ میں کوشش، دل میں اللہ پر بھروسہ۔ حضرت عمرؓ کے زمانۂ خلافت میں قحط کا ایک سخت دور بھی آیا جسے عام طور پر عامُ الرمادہ کہا جاتا ہے۔ مدینہ اور اس کے گرد و نواح میں شدید بھوک اور تنگی کا سامنا ہوا۔ ایسے وقت میں حضرت عمرؓ نے لوگوں کی حالت کو اپنی حالت سے الگ نہیں سمجھا۔ آپؓ نے اپنے لیے بھی آسائشیں چھوڑ دیں اور لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کی۔ آپؓ کا طرزِ عمل ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اللہ پر توکل کا مطلب یہ نہیں کہ انسان دوسروں کی تکلیف سے بے خبر ہو جائے۔ رزق اللہ دیتا ہے، لیکن کبھی اللہ کسی بھوکے کے رزق کا ذریعہ کسی صاحبِ استطاعت انسان کو بناتا ہے۔ کسی کے پاس مال ہونا بھی ایک امتحان ہے اور کسی کے پاس مال نہ ہونا بھی ایک امتحان۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ جس حال میں اللہ نے رکھا، اس میں اس پر یقین قائم رہے اور اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کی جائے۔ آج ہم رزق کے بارے میں ایک عجیب خوف میں مبتلا ہیں۔ کسی کو ڈر ہے کہ نوکری نہیں ملے گی، کسی کو ڈر ہے کہ کاروبار نہیں چلے گا، کسی کو ڈر ہے کہ آنے والے وقت میں پیسے کم پڑ جائیں گے۔ یہ فکر بعض اوقات اتنی بڑھ جاتی ہے کہ انسان نماز میں بھی دنیاوی پریشانیوں کے بارے میں سوچتا رہتا ہے۔ دعا کرتا ہے تو دل میں یقین سے زیادہ خوف ہوتا ہے۔ لوگوں کو دیکھ کر اپنی زندگی کا موازنہ کرتا ہے۔ کسی کے پاس گاڑی ہے تو اسے اپنی زندگی کم لگتی ہے، کسی کا گھر بڑا ہے تو اسے اپنا گھر چھوٹا محسوس ہوتا ہے، کسی کی آمدنی زیادہ ہے تو اسے اپنی کمائی ناکافی محسوس ہوتی ہے۔ پھر انسان رزق کی برکت کو بھول کر صرف رزق کی مقدار دیکھنے لگتا ہے۔ حالانکہ رزق صرف پیسہ نہیں۔ صحت رزق ہے، وقت رزق ہے، والدین رزق ہیں، اولاد رزق ہے، علم رزق ہے، نیک صحبت رزق ہے، سکون رزق ہے، عزت رزق ہے، ایمان رزق ہے، اور اللہ کی طرف جھکنے والا دل بھی بہت بڑی نعمت ہے۔ کبھی ایک غریب انسان کم مال کے باوجود سکون سے سو رہا ہوتا ہے اور کبھی بہت مال رکھنے والا انسان پریشانی میں مبتلا ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مال بری چیز ہے؛ مال اللہ کی نعمت ہے، مگر مال کو منزل بنا لینا اور اللہ کو بھول جانا اصل نقصان ہے۔ رزق کے معاملے میں ایک اور بڑی غلطی یہ ہے کہ انسان جلدی کے لیے حرام راستہ اختیار کر لیتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ اگر حلال  کبھی ہم دعا کرتے ہیں:
رزق کی حقیقت اور اللہ پر یقین ہماری زندگی میں بھی کتنی بار ایسا ہوتا ہے کہ ہم رزق کو صرف تنخواہ، کاروبار، نوکری یا کسی شخص سے وابستہ کر دیتے ہیں۔ اگر نوکری چھوٹ جائے تو ہمیں لگتا ہے رزق ختم ہوگیا، اگر کاروبار میں نقصان ہو جائے تو لگتا ہے زندگی ختم ہوگئی، اگر کسی انسان نے مدد سے انکار کردیا تو لگتا ہے ہمارے لیے کوئی راستہ باقی نہیں۔ حالانکہ انسان ذریعہ ہو سکتا ہے، رازق نہیں۔ دکان ذریعہ ہے، گاہک ذریعہ ہے، نوکری ذریعہ ہے، مالک ذریعہ ہے، زمین ذریعہ ہے، فصل ذریعہ ہے، لیکن رزق دینے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے۔ یہی فرق انسان کے دل کو خوف سے نکال کر توکل کی طرف لے جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے توکل کی ایک نہایت خوبصورت مثال پرندوں کے ذریعے بیان فرمائی کہ اگر لوگ اللہ پر حقیقی توکل کریں تو اللہ انہیں اسی طرح رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے؛ وہ صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو بھرے پیٹ واپس آتے ہیں۔ غور کریں، پرندے اپنے گھونسلے میں بیٹھ کر رزق کے آنے کا انتظار نہیں کرتے۔ وہ نکلتے ہیں، تلاش کرتے ہیں، کوشش کرتے ہیں، مگر ان کے دل میں یہ یقین ہوتا ہے کہ رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ یہی توکل ہے: ہاتھ میں کوشش، دل میں اللہ پر بھروسہ۔ حضرت عمرؓ کے زمانۂ خلافت میں قحط کا ایک سخت دور بھی آیا جسے عام طور پر عامُ الرمادہ کہا جاتا ہے۔ مدینہ اور اس کے گرد و نواح میں شدید بھوک اور تنگی کا سامنا ہوا۔ ایسے وقت میں حضرت عمرؓ نے لوگوں کی حالت کو اپنی حالت سے الگ نہیں سمجھا۔ آپؓ نے اپنے لیے بھی آسائشیں چھوڑ دیں اور لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کی۔ آپؓ کا طرزِ عمل ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اللہ پر توکل کا مطلب یہ نہیں کہ انسان دوسروں کی تکلیف سے بے خبر ہو جائے۔ رزق اللہ دیتا ہے، لیکن کبھی اللہ کسی بھوکے کے رزق کا ذریعہ کسی صاحبِ استطاعت انسان کو بناتا ہے۔ کسی کے پاس مال ہونا بھی ایک امتحان ہے اور کسی کے پاس مال نہ ہونا بھی ایک امتحان۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ جس حال میں اللہ نے رکھا، اس میں اس پر یقین قائم رہے اور اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کی جائے۔ آج ہم رزق کے بارے میں ایک عجیب خوف میں مبتلا ہیں۔ کسی کو ڈر ہے کہ نوکری نہیں ملے گی، کسی کو ڈر ہے کہ کاروبار نہیں چلے گا، کسی کو ڈر ہے کہ آنے والے وقت میں پیسے کم پڑ جائیں گے۔ یہ فکر بعض اوقات اتنی بڑھ جاتی ہے کہ انسان نماز میں بھی دنیاوی پریشانیوں کے بارے میں سوچتا رہتا ہے۔ دعا کرتا ہے تو دل میں یقین سے زیادہ خوف ہوتا ہے۔ لوگوں کو دیکھ کر اپنی زندگی کا موازنہ کرتا ہے۔ کسی کے پاس گاڑی ہے تو اسے اپنی زندگی کم لگتی ہے، کسی کا گھر بڑا ہے تو اسے اپنا گھر چھوٹا محسوس ہوتا ہے، کسی کی آمدنی زیادہ ہے تو اسے اپنی کمائی ناکافی محسوس ہوتی ہے۔ پھر انسان رزق کی برکت کو بھول کر صرف رزق کی مقدار دیکھنے لگتا ہے۔ حالانکہ رزق صرف پیسہ نہیں۔ صحت رزق ہے، وقت رزق ہے، والدین رزق ہیں، اولاد رزق ہے، علم رزق ہے، نیک صحبت رزق ہے، سکون رزق ہے، عزت رزق ہے، ایمان رزق ہے، اور اللہ کی طرف جھکنے والا دل بھی بہت بڑی نعمت ہے۔ کبھی ایک غریب انسان کم مال کے باوجود سکون سے سو رہا ہوتا ہے اور کبھی بہت مال رکھنے والا انسان پریشانی میں مبتلا ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مال بری چیز ہے؛ مال اللہ کی نعمت ہے، مگر مال کو منزل بنا لینا اور اللہ کو بھول جانا اصل نقصان ہے۔ رزق کے معاملے میں ایک اور بڑی غلطی یہ ہے کہ انسان جلدی کے لیے حرام راستہ اختیار کر لیتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ اگر حلال کبھی ہم دعا کرتے ہیں: "یا اللہ مجھے یہ دے دے، مجھے وہ دے دے۔" لیکن اگر وہ چیز فوراً نہیں ملتی تو ہم سمجھ لیتے ہیں کہ دعا قبول نہیں ہوئی۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان محدود علم رکھتا ہے اور اللہ کامل علم رکھتا ہے۔ ہمیں صرف آج نظر آتا ہے، اللہ کل بھی جانتا ہے۔ ہمیں صرف اپنی خواہش معلوم ہے، اللہ ہماری ضرورت بھی جانتا ہے۔ ممکن ہے جس چیز کو ہم اپنے لیے بہترین سمجھ رہے ہوں وہ ہمارے لیے نقصان دہ ہو، اور جس تاخیر کو ہم مصیبت سمجھ رہے ہوں وہ دراصل حفاظت ہو۔ کبھی کبھی اللہ انسان کو ایک دروازہ بند کرکے دوسرا دروازہ دکھاتا ہے۔ لیکن انسان پہلے دروازے کے سامنے بیٹھ کر روتا رہتا ہے اور دوسرے دروازے کی طرف دیکھتا ہی نہیں۔ نوکری نہ ملنے کا مطلب یہ نہیں کہ رزق ختم ہوگیا۔ ایک کاروبار ناکام ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ زندگی ناکام ہوگئی۔ کسی انسان کا ساتھ چھوڑ دینا یہ ثابت نہیں کرتا کہ اللہ نے بھی چھوڑ دیا۔ بعض اوقات انسانوں کے دروازے بند ہوتے ہیں تاکہ بندہ دوبارہ اپنے رب کے دروازے پر آنا سیکھے۔ #رزق #اللہ_پر_یقین #توکل #repost @Muhammed Naeem Sahou #fypシ゚viral__

About