@jesus.ist.king5: Jesus ist King #jesus #viral #cctv #pool #baby

Jesus ist King
Jesus ist King
Open In TikTok:
Region: AT
Friday 21 August 2026 12:58:57 GMT
4225533
70195
1038
1277

Music

Download

Comments

mary.aldan4
Chosen One :
Jesus is king and lord
2026-08-23 07:48:24
12
user0928656781
user092865678 :
amen
2026-08-24 20:38:28
17
user4825584559916
Joyce Crapps :
Thank you Jesus
2026-08-21 17:20:28
25
vestine.ciza
Vestine CIZA :
amina jesus than you so much
2026-10-04 00:25:46
0
lolitsmith496
baby girl :
Jesus is the king
2026-08-23 22:27:10
5
joe.rodriguez307
Joe Rodriguez :
🙏THANK YOU JESUS ALWAYS AMEN 🙏 🙌 💖
2026-08-21 23:29:39
6
teresa.martnez.sa5
teresamartnezsant5 :
Amén bendito nuestro señor Jesucristo 🙏❤️
2026-08-24 13:16:13
6
camelialakatos42
Camelia Lakatos :
Așa este și în viață ,când cazi Dumnezeu te ridică ,Amin!!!!
2026-08-23 14:35:28
6
user3900181016686
Bosslady :
Thank you Jesus
2026-09-24 08:31:30
2
tesyibxb
Je te regarde :
Amen
2026-08-22 15:03:25
1
muscutadabo2
Laniela Muscota Dabó :
amen
2026-08-24 21:12:59
1
pepi.dominguez.sa
Pepi Dominguez Sanched Gorrich :
amen
2026-08-22 10:20:32
1
nath53alie
❤️❤️ nath ❤️❤️ :
amen 🙏🙏🙏
2026-08-21 18:28:41
5
gjgdffhhdddo
45667788762819 :
amen
2026-08-25 01:13:59
1
riccichristel
mery :
amen 🙏🙏🙏🙏
2026-08-24 10:33:12
1
omnistoryai1
omnistoryai1 :
amen
2026-08-30 01:04:27
1
jennisdarloh965
Jennis Darloh :
Amen 🙏 🙏 🙏
2026-08-24 00:06:55
1
ninachristellabil
Nina Christella Bilongo :
amen
2026-08-25 16:20:04
1
tekken7master1
itz_DAVID :
even though it's Ai it's still good
2026-08-21 13:50:41
9
jatianacelso
Icle :
amém
2026-08-23 21:22:10
2
mrsjemison20
Boymom :
Amen
2026-08-25 06:20:03
1
kumba.legend6
Kumba Legend :
amen
2026-08-23 11:53:39
1
marcelam631
Marcela ,, :
amin
2026-08-24 15:57:51
1
merlin.sousa10
Merlin Sousa :
Amen 🙏 ❤️❤️
2026-08-22 20:48:24
1
ashleysanchez482
Ashley (💗) :
Amen 🙏🙏
2026-08-24 23:32:44
1
To see more videos from user @jesus.ist.king5, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

اپنی سوچ کا قیدی بننے کی حقیقت انسان کی زندگی میں بعض اوقات سب سے بڑی الجھن باہر کے حالات نہیں بلکہ اس کی اپنی سوچ ہوتی ہے۔ وہ کسی واقعے کو ایک خاص انداز سے دیکھتا ہے، اس کے بارے میں ایک رائے قائم کرتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ اسی رائے کو مکمل حقیقت سمجھنے لگتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس کے خیالات اتنے مضبوط ہو جاتے ہیں کہ وہ دوسری ممکنہ حقیقتوں کو دیکھنے کی صلاحیت کھونے لگتا ہے۔ کبھی کوئی شخص ہمیں تکلیف پہنچاتا ہے تو ہم سمجھ لیتے ہیں کہ دنیا میں کوئی مخلص نہیں۔ کبھی کوئی اپنا ساتھ چھوڑ دیتا ہے تو ہم یہ نتیجہ نکال لیتے ہیں کہ ہر تعلق عارضی ہے۔ کبھی کسی کوشش میں ناکامی ملتی ہے تو ہمیں محسوس ہونے لگتا ہے کہ شاید ہم زندگی میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ حالانکہ ایک واقعہ پوری زندگی کا فیصلہ نہیں کرتا اور ایک انسان کا رویہ پوری دنیا کی حقیقت نہیں ہوتا۔ ہماری یادداشت بھی اکثر انہی واقعات کو زیادہ اہمیت دیتی ہے جن سے ہمیں دکھ پہنچا ہو۔ ہم اچھے تجربات کو بھول جاتے ہیں، مگر ایک تلخ بات بار بار یاد کرتے رہتے ہیں۔ اس طرح ہمارا ذہن ایک ایسی کہانی تشکیل دینے لگتا ہے جس میں ہر نیا واقعہ ہماری پرانی سوچ کی تصدیق کرتا دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ ہر تعلق میں دھوکا تلاش کرتے ہیں، ہر مشورے کے پیچھے مطلب دیکھتے ہیں اور ہر خاموشی کو بے رخی سمجھتے ہیں۔ وہ شاید خود کو حقیقت پسند سمجھ رہے ہوتے ہیں، لیکن ممکن ہے کہ وہ اپنے ماضی کے تجربات کے زیرِ اثر موجودہ زندگی کو دیکھ رہے ہوں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا میں دھوکا، خود غرضی یا ناانصافی موجود نہیں۔ یہ سب حقیقتیں ہیں، مگر ان کے ساتھ خلوص، ہمدردی، وفاداری اور اچھے انسان بھی موجود ہیں۔ حقیقت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم کسی ایک تجربے کو پوری زندگی پر لاگو نہ کریں۔ اپنی سوچ پر سوال اٹھانا کمزوری نہیں بلکہ ذہنی پختگی ہے۔ جب ہم خود سے پوچھتے ہیں کہ کیا میرے پاس اپنی رائے کے حق میں کافی شواہد ہیں؟ کیا میں دوسرے پہلو کو بھی دیکھ رہا ہوں؟ کیا میرا فیصلہ موجودہ حقیقت پر مبنی ہے یا کسی پرانے زخم پر؟ تو ہمیں اپنے خیالات کو زیادہ واضح انداز میں سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ زندگی میں اپنے تجربات سے سبق ضرور لینا چاہیے، مگر ان تجربات کو اپنی آئندہ زندگی کی زنجیر نہیں بنانا چاہیے۔ ہر نئے انسان کو پچھلے انسان کی غلطیوں کی سزا دینا ناانصافی ہے اور ہر نئی کوشش کو پرانی ناکامی کے خوف سے روک دینا اپنے امکانات محدود کرنا ہے۔ کبھی کبھی ہمیں دنیا بدلنے سے پہلے اپنی نظر کا زاویہ بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ حقیقت کو سمجھنا اور اپنی سوچ کو حقیقت سمجھ لینا دو مختلف باتیں ہیں۔ #follow #foryou #sad #viral #fffffffffffyyyyyyyyyyypppppppppppp
اپنی سوچ کا قیدی بننے کی حقیقت انسان کی زندگی میں بعض اوقات سب سے بڑی الجھن باہر کے حالات نہیں بلکہ اس کی اپنی سوچ ہوتی ہے۔ وہ کسی واقعے کو ایک خاص انداز سے دیکھتا ہے، اس کے بارے میں ایک رائے قائم کرتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ اسی رائے کو مکمل حقیقت سمجھنے لگتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس کے خیالات اتنے مضبوط ہو جاتے ہیں کہ وہ دوسری ممکنہ حقیقتوں کو دیکھنے کی صلاحیت کھونے لگتا ہے۔ کبھی کوئی شخص ہمیں تکلیف پہنچاتا ہے تو ہم سمجھ لیتے ہیں کہ دنیا میں کوئی مخلص نہیں۔ کبھی کوئی اپنا ساتھ چھوڑ دیتا ہے تو ہم یہ نتیجہ نکال لیتے ہیں کہ ہر تعلق عارضی ہے۔ کبھی کسی کوشش میں ناکامی ملتی ہے تو ہمیں محسوس ہونے لگتا ہے کہ شاید ہم زندگی میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ حالانکہ ایک واقعہ پوری زندگی کا فیصلہ نہیں کرتا اور ایک انسان کا رویہ پوری دنیا کی حقیقت نہیں ہوتا۔ ہماری یادداشت بھی اکثر انہی واقعات کو زیادہ اہمیت دیتی ہے جن سے ہمیں دکھ پہنچا ہو۔ ہم اچھے تجربات کو بھول جاتے ہیں، مگر ایک تلخ بات بار بار یاد کرتے رہتے ہیں۔ اس طرح ہمارا ذہن ایک ایسی کہانی تشکیل دینے لگتا ہے جس میں ہر نیا واقعہ ہماری پرانی سوچ کی تصدیق کرتا دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ ہر تعلق میں دھوکا تلاش کرتے ہیں، ہر مشورے کے پیچھے مطلب دیکھتے ہیں اور ہر خاموشی کو بے رخی سمجھتے ہیں۔ وہ شاید خود کو حقیقت پسند سمجھ رہے ہوتے ہیں، لیکن ممکن ہے کہ وہ اپنے ماضی کے تجربات کے زیرِ اثر موجودہ زندگی کو دیکھ رہے ہوں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا میں دھوکا، خود غرضی یا ناانصافی موجود نہیں۔ یہ سب حقیقتیں ہیں، مگر ان کے ساتھ خلوص، ہمدردی، وفاداری اور اچھے انسان بھی موجود ہیں۔ حقیقت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم کسی ایک تجربے کو پوری زندگی پر لاگو نہ کریں۔ اپنی سوچ پر سوال اٹھانا کمزوری نہیں بلکہ ذہنی پختگی ہے۔ جب ہم خود سے پوچھتے ہیں کہ کیا میرے پاس اپنی رائے کے حق میں کافی شواہد ہیں؟ کیا میں دوسرے پہلو کو بھی دیکھ رہا ہوں؟ کیا میرا فیصلہ موجودہ حقیقت پر مبنی ہے یا کسی پرانے زخم پر؟ تو ہمیں اپنے خیالات کو زیادہ واضح انداز میں سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ زندگی میں اپنے تجربات سے سبق ضرور لینا چاہیے، مگر ان تجربات کو اپنی آئندہ زندگی کی زنجیر نہیں بنانا چاہیے۔ ہر نئے انسان کو پچھلے انسان کی غلطیوں کی سزا دینا ناانصافی ہے اور ہر نئی کوشش کو پرانی ناکامی کے خوف سے روک دینا اپنے امکانات محدود کرنا ہے۔ کبھی کبھی ہمیں دنیا بدلنے سے پہلے اپنی نظر کا زاویہ بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ حقیقت کو سمجھنا اور اپنی سوچ کو حقیقت سمجھ لینا دو مختلف باتیں ہیں۔ #follow #foryou #sad #viral #fffffffffffyyyyyyyyyyypppppppppppp

About