@msmoriyomislam7: আমার টাকা পয়সা লাগবো না,সুদু ভালোবাসা আর একটু সম্মান আর পর্দায় রাখলেই হবে,, আল্লাহ মনের মতো একটা জীবনসঙ্গী দান কইরো,,, আমিন 🤲

🥰🥰Ma Babar Adorer Meye🥰🥰
🥰🥰Ma Babar Adorer Meye🥰🥰
Open In TikTok:
Region: BD
Friday 21 August 2026 15:16:05 GMT
128
26
0
1

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @msmoriyomislam7, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

آج ایڈیشنل سیشن جج نمبر 3 دادو سندھ جناب سید احسان علی شاھ  کی عدالت میں پشتون عوام کے بنیادی حقوق کے عظیم رہنما اور ریاست کی جانب سے جھوٹے مقدمات میں سندھ کی بدنامِ زمانہ دادو جیل میں قید علی وزیر کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ جھوٹے مقدمے کے مدعی اسسٹنٹ سب انسپکٹر سجاد حسین زئونر اور گواہ کانسٹیبل محمد نواز کے بیانات ریکارڈ کیے گئے، جبکہ علی وزیر کے وکیل اور سندھ کے معروف قانون دان محترم امداد حیدر سولنگی نے گواہوں پر جرح کی۔ جبکہ باقی ماندہ گواہان ذوالفقار علی اور سکندر علی کے خلاف عدالت نے وارنٹ جاری کرتے ہوئے انہیں مقدمے کی آئندہ سماعت پر پیش کرنے کے سخت احکامات جاری کیے۔ علی وزیر کو سخت پہرے میں دادو جیل سے عدالت میں پیش کیا گیا۔ علی وزیر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریاست پشتونوں سمیت سندھیوں، بلوچوں، کشمیریوں اور دیگر مظلوم طبقات کے بنیادی حقوق کو طویل عرصے تک غصب نہیں کر سکتی۔ اس لیے ریاست اپنا قبلہ جلد درست کر لے، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ پشتونوں کے بنیادی ح کے لیے جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔ علی وزیر نے مزید کہا کہ جیل کی سختیاں کبھی بھی انہیں اپنی جدوجہد سے پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کر سکتیں۔ مقدمے کی آئندہ سماعت 27 اگست 2026ء کو مقرر کی گئی ہے۔
آج ایڈیشنل سیشن جج نمبر 3 دادو سندھ جناب سید احسان علی شاھ کی عدالت میں پشتون عوام کے بنیادی حقوق کے عظیم رہنما اور ریاست کی جانب سے جھوٹے مقدمات میں سندھ کی بدنامِ زمانہ دادو جیل میں قید علی وزیر کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ جھوٹے مقدمے کے مدعی اسسٹنٹ سب انسپکٹر سجاد حسین زئونر اور گواہ کانسٹیبل محمد نواز کے بیانات ریکارڈ کیے گئے، جبکہ علی وزیر کے وکیل اور سندھ کے معروف قانون دان محترم امداد حیدر سولنگی نے گواہوں پر جرح کی۔ جبکہ باقی ماندہ گواہان ذوالفقار علی اور سکندر علی کے خلاف عدالت نے وارنٹ جاری کرتے ہوئے انہیں مقدمے کی آئندہ سماعت پر پیش کرنے کے سخت احکامات جاری کیے۔ علی وزیر کو سخت پہرے میں دادو جیل سے عدالت میں پیش کیا گیا۔ علی وزیر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریاست پشتونوں سمیت سندھیوں، بلوچوں، کشمیریوں اور دیگر مظلوم طبقات کے بنیادی حقوق کو طویل عرصے تک غصب نہیں کر سکتی۔ اس لیے ریاست اپنا قبلہ جلد درست کر لے، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ پشتونوں کے بنیادی ح کے لیے جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔ علی وزیر نے مزید کہا کہ جیل کی سختیاں کبھی بھی انہیں اپنی جدوجہد سے پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کر سکتیں۔ مقدمے کی آئندہ سماعت 27 اگست 2026ء کو مقرر کی گئی ہے۔

About