@zindagi_tanhai01: جہاں میں مانگنے والوں کے سر اونچے نہیں رہتے " وہیں پہ خود غرض لوگوں کے گھر اونچے نہیں رہتے کسی کے سامنے دامن کو پھیلانا اگر پڑ جائے تو ھر آنکھوں میں خواب معتبر اونچے نہیں رہتے بھری دنیا میں اکثر جھک کے چلنا ہی پڑا ہم کو محبت میں انا والے شجر اونچے نہیں رہتے یہ دولت، یہ شہرت ، سب یہیں مٹی میں ملتی ہے ۔ زمانے بھر میں تخت و تاج پر اونچے نہیں رہتے غموں کی دھوپ جب حد سے زیادہ تیز ہو جائے تو پھر صبر و تحمل کے ثمر اونچے نہیں رہتے جنہیں احساس ہو لوگوں کے دکھ ، درد اور بھوکوں کا وہی انسان ہوتے ہیں، مگر اونچے نہیں رہتے وشمہ مانگنے سے پہلے رب سے لو لگاؤ ایسی جہاں میں مانگنے والوں کے سر اونچے نہیں رہتے