تمہیں دیکھا تو لگا حسن ابھی زندہ ہے،
ورنہ اس شہر میں ہر چہرہ مجھے سادہ سا لگا۔
تمہاری آنکھ میں ٹھہری ہوئی خاموشی بھی،
ایک پوری سی غزل، ایک حسیں وعدہ لگا۔
تمہاری زلف جو چہرے پہ بکھر جاتی ہے،
چاند بھی دیکھ کے اک لمحہ ذرا ٹھہرا لگا۔
تمہاری مسکراہٹ میں وہ جادو ہے کہ بس،
دلِ بےتاب کو بھی صبر کا حوصلہ لگا۔
تم چلو تو ہوا راستہ بدلنے لگتی ہے،
تم رکو تو ہر طرف وقت بھی ٹھہرا لگا۔
تمہاری بات میں وہ نرمیِ شبنم ہے کہ دل،
سن کے ہر لفظ کو خوشبو سے بھرا پاتا ہے۔
تمہارے ہونٹوں پہ جب نامِ محبت آئے،
پھول کھلتے ہیں، فضا میں کوئی نغمہ سا لگا۔
تمہارے ہاتھ نظر آئے تو دل نے سوچا،
چاند کو بھی شاید یہی لمس میسر نہ ہوا۔
2026-08-22 17:34:03
0
To see more videos from user @diamond_girl945, please go to the Tikwm
homepage.