@madinamoments7: *تجلی والا پہاڑ* = *جبل الطور / کوہِ سینا* ⛰️ یہ وہی مبارک پہاڑ ہے جہاں اللہ تعالیٰ کی تجلی ہوئی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کلام فرمایا۔ *کون سا پہاڑ ہے؟* *نام:* *جبل الطور* - *کوہِ سینا* - *Mount Sinai* *مقام:* *مصر* کے جزیرہ نما سینا میں *بلندی:* تقریباً 2285 میٹر *قرآن میں ذکر* اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: *"فَلَمَّا تَجَلَّىٰ رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا وَخَرَّ مُوسَىٰ صَعِقًا"* ترجمہ: "پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا اور موسیٰ بے ہوش ہو کر گر پڑے"۔ [الاعراف: 143] *واقعہ کیا تھا؟* 1. *کلامِ الہی:* اللہ تعالیٰ نے اسی پہاڑ پر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے براہِ راست کلام فرمایا۔ اسی لیے موسیٰ علیہ السلام کو *"کلیم اللہ"* کہا جاتا ہے۔ 2. *تورات کا نزول:* اسی پہاڑ پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو 40 دن کے لیے بلایا گیا اور *تورات* عطا کی گئی۔ 3. *تجلی:* جب اللہ کی تجلی پہاڑ پر پڑی تو پہاڑ جل کر راکھ ہو گیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام بے ہوش ہو گئے۔ *آج کی حالت* آج بھی اس پہاڑ پر *"دیر سینا"* یعنی *سینٹ کیتھرین خانقاہ* موجود ہے۔ اور پہاڑ کی چوٹی پر ایک چھوٹی مسجد بھی بنی ہوئی ہے جہاں لوگ زیارت کے لیے جاتے ہیں۔ *سبق* تجلی والے پہاڑ نے ہمیں سکھایا کہ اللہ کی عظمت کے سامنے دنیا کی کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی۔ اور اللہ اپنے بندوں سے محبت کی وجہ سے کلام بھی فرماتا ہے۔ اللہ ہمیں بھی اپنے قرب کی تجلی نصیب فرمائے۔ آمین 🤲 #foryoupageviralシ゚oryoupageシviroryoupageviralシ゚oryoupag #hilightsfolowers #historical