@tc.trudy: AQUARIUS #myway #aquarius @R🌸 n aquarian vibe #trending #foryourpage #tanzaniantiktok🇹🇿

tc.trudy
tc.trudy
Open In TikTok:
Region: TZ
Saturday 22 August 2026 12:53:07 GMT
858
128
5
3

Music

Download

Comments

rhiaa214
R🌸 :
Cheny najua tunakuwag tumeiva mbyaaaa😂😂🥰
2026-08-22 19:53:41
0
hustler.jr_21
fundi funguo za magari :
❤️
2026-09-19 16:07:15
0
lil_mousset19
Lil_mousset :
🤩🤩🤩
2026-08-22 13:01:03
0
kev255700
kev25 :
❤️❤️❤️
2026-08-30 20:42:37
0
To see more videos from user @tc.trudy, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

کیا آپ نے کبھی کسی عامل کو یہ کہتے سنا ہے کہ ’’میرے پاس جن ہے‘‘؟ یا وہ کسی شخص کے بارے میں ایسی باتیں بتاتا ہے جو بظاہر اسے معلوم ہی نہیں ہونی چاہئیں؟ پھر سوال پیدا ہوتا ہے: کیا واقعی کچھ عامل جنات سے بات کرتے ہیں؟ کیا جنات انہیں لوگوں کے چھپے ہوئے راز بتاتے ہیں؟ اور کیا اس طرح کسی انسان کو غیب کا علم حاصل ہو سکتا ہے؟ سب سے پہلے ایک بات واضح کر لیں: قرآن نے جنات کے وجود کو بالکل واضح طور پر بیان کیا ہے۔ بلکہ قرآن میں جنات کی ایک پوری سورت موجود ہے، سورۃ الجن۔ لیکن یہاں اصل مسئلہ شروع ہوتا ہے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ غیب کا مکمل علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ ’’کہہ دیجیے: آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں، اللہ کے سوا غیب کا علم کوئی نہیں رکھتا۔‘‘ سورۃ النمل: 65 تو اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ اسے خود سے غیب کا علم ہے، لوگوں کے مستقبل کا علم ہے، یا وہ چھپی ہوئی ہر بات جان سکتا ہے، تو یہ بہت بڑا دعویٰ ہے۔ لیکن پھر ایک سوال رہ جاتا ہے: اگر جنات بھی غیب نہیں جانتے، تو بعض عامل ایسی باتیں کیسے بتا دیتے ہیں جو انہیں معلوم نہیں ہونی چاہئیں؟ قرآن خود اس بارے میں ایک حیرت انگیز واقعہ بیان کرتا ہے۔ جب حضرت سلیمان علیہ السلام کا انتقال ہوا تو جنات کو فوراً ان کی وفات کا علم نہیں ہوا۔ وہ کافی دیر تک کام کرتے رہے، یہاں تک کہ ایک دیمک نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے عصا کو کھا لیا اور آپ زمین پر گر گئے۔ تب جنات کو معلوم ہوا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام وفات پا چکے ہیں۔ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ أَن لَّوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوا فِي الْعَذَابِ الْمُهِينِ ’’پس جب وہ گر پڑے تو جنات پر حقیقت واضح ہوئی کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو اس ذلت والی تکلیف میں اتنی مدت نہ رہتے۔‘‘ سورۃ سبأ: 14 یعنی جنات بھی غیب کا مکمل علم نہیں رکھتے۔ اب یہاں ایک اور اہم بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ صحیح احادیث میں ایسے لوگوں کا ذکر ملتا ہے جو کاہنوں اور عرّافوں کے پاس جاتے تھے۔ نبی ﷺ نے ان کے بارے میں سخت تنبیہ فرمائی۔ صحیح مسلم میں نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کسی عرّاف کے پاس جائے اور اس سے کسی چیز کے بارے میں پوچھے، اس کی چالیس راتوں کی نماز قبول نہیں ہوتی۔ اور بعض روایات میں کاہنوں کی باتوں کے بارے میں بتایا گیا کہ جنات کوئی ایک بات اچک لیتے ہیں اور پھر اس میں بہت سی جھوٹی باتیں ملا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی کسی عامل کی ایک بات درست نکل سکتی ہے۔ لیکن ایک بات درست نکل جانا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ شخص غیب جانتا ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں بہت محتاط ہونا چاہیے۔ اگر کوئی شخص آپ کا نام، گھر کے حالات، رشتوں کے مسائل، یا ماضی کی کوئی بات بتا دے، تو فوراً یہ نتیجہ نکال لینا کہ ’’اس کے پاس جن ہے اور اسے غیب کا علم ہے‘‘ درست نہیں۔ اور اگر کوئی شخص آپ کو یہ کہے کہ آپ پر فلاں شخص نے جادو کیا ہے، فلاں رشتہ دار آپ کا دشمن ہے، یا فلاں دن آپ کے ساتھ یہ واقعہ ہونے والا ہے، تو صرف اس کے دعوے کی بنیاد پر کسی انسان پر الزام لگانا بھی خطرناک ہے۔ اسلام ہمیں توہمات کے پیچھے بھاگنے کے بجائے قرآن، سنت اور واضح دلیل کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ جنات کا وجود حقیقت ہے۔ جادو کا ذکر بھی قرآن میں موجود ہے۔ لیکن ہر عامل حقیقتاً جنات سے رابطے میں ہے، ہر عامل کی بات سچی ہے، یا ہر عامل غیب جانتا ہے—یہ تینوں باتیں خود بخود ثابت نہیں ہو جاتیں۔ اور شاید سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ انسان اللہ سے مدد مانگنے کے بجائے اپنی زندگی کے ہر مسئلے کا جواب کسی ایسے شخص کے پاس تلاش کرنے لگے جو خود اپنے دعووں کی کوئی شرعی دلیل پیش نہیں کرتا۔ اس لیے اگلی بار جب کوئی شخص آپ سے کہے: ’’میرے پاس جن ہے، میں آپ کا ماضی جانتا ہوں، آپ کے مستقبل کو دیکھ سکتا ہوں، اور مجھے معلوم ہے آپ کے ساتھ یہ سب کس نے کیا ہے…‘‘ تو صرف اس کی بات سے متاثر نہ ہوں۔ اپنے آپ سے ایک سوال کریں: اس دعوے کی قرآن و سنت سے دلیل کیا ہے؟ کیونکہ مسلمان کا ایمان حیرت انگیز دعووں پر نہیں، وحی اور دلیل پر قائم ہوتا ہے۔ #islamic #deenurdustories #taybiivibes #foryoupage #viral
کیا آپ نے کبھی کسی عامل کو یہ کہتے سنا ہے کہ ’’میرے پاس جن ہے‘‘؟ یا وہ کسی شخص کے بارے میں ایسی باتیں بتاتا ہے جو بظاہر اسے معلوم ہی نہیں ہونی چاہئیں؟ پھر سوال پیدا ہوتا ہے: کیا واقعی کچھ عامل جنات سے بات کرتے ہیں؟ کیا جنات انہیں لوگوں کے چھپے ہوئے راز بتاتے ہیں؟ اور کیا اس طرح کسی انسان کو غیب کا علم حاصل ہو سکتا ہے؟ سب سے پہلے ایک بات واضح کر لیں: قرآن نے جنات کے وجود کو بالکل واضح طور پر بیان کیا ہے۔ بلکہ قرآن میں جنات کی ایک پوری سورت موجود ہے، سورۃ الجن۔ لیکن یہاں اصل مسئلہ شروع ہوتا ہے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ غیب کا مکمل علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ ’’کہہ دیجیے: آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں، اللہ کے سوا غیب کا علم کوئی نہیں رکھتا۔‘‘ سورۃ النمل: 65 تو اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ اسے خود سے غیب کا علم ہے، لوگوں کے مستقبل کا علم ہے، یا وہ چھپی ہوئی ہر بات جان سکتا ہے، تو یہ بہت بڑا دعویٰ ہے۔ لیکن پھر ایک سوال رہ جاتا ہے: اگر جنات بھی غیب نہیں جانتے، تو بعض عامل ایسی باتیں کیسے بتا دیتے ہیں جو انہیں معلوم نہیں ہونی چاہئیں؟ قرآن خود اس بارے میں ایک حیرت انگیز واقعہ بیان کرتا ہے۔ جب حضرت سلیمان علیہ السلام کا انتقال ہوا تو جنات کو فوراً ان کی وفات کا علم نہیں ہوا۔ وہ کافی دیر تک کام کرتے رہے، یہاں تک کہ ایک دیمک نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے عصا کو کھا لیا اور آپ زمین پر گر گئے۔ تب جنات کو معلوم ہوا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام وفات پا چکے ہیں۔ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ أَن لَّوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوا فِي الْعَذَابِ الْمُهِينِ ’’پس جب وہ گر پڑے تو جنات پر حقیقت واضح ہوئی کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو اس ذلت والی تکلیف میں اتنی مدت نہ رہتے۔‘‘ سورۃ سبأ: 14 یعنی جنات بھی غیب کا مکمل علم نہیں رکھتے۔ اب یہاں ایک اور اہم بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ صحیح احادیث میں ایسے لوگوں کا ذکر ملتا ہے جو کاہنوں اور عرّافوں کے پاس جاتے تھے۔ نبی ﷺ نے ان کے بارے میں سخت تنبیہ فرمائی۔ صحیح مسلم میں نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کسی عرّاف کے پاس جائے اور اس سے کسی چیز کے بارے میں پوچھے، اس کی چالیس راتوں کی نماز قبول نہیں ہوتی۔ اور بعض روایات میں کاہنوں کی باتوں کے بارے میں بتایا گیا کہ جنات کوئی ایک بات اچک لیتے ہیں اور پھر اس میں بہت سی جھوٹی باتیں ملا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی کسی عامل کی ایک بات درست نکل سکتی ہے۔ لیکن ایک بات درست نکل جانا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ شخص غیب جانتا ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں بہت محتاط ہونا چاہیے۔ اگر کوئی شخص آپ کا نام، گھر کے حالات، رشتوں کے مسائل، یا ماضی کی کوئی بات بتا دے، تو فوراً یہ نتیجہ نکال لینا کہ ’’اس کے پاس جن ہے اور اسے غیب کا علم ہے‘‘ درست نہیں۔ اور اگر کوئی شخص آپ کو یہ کہے کہ آپ پر فلاں شخص نے جادو کیا ہے، فلاں رشتہ دار آپ کا دشمن ہے، یا فلاں دن آپ کے ساتھ یہ واقعہ ہونے والا ہے، تو صرف اس کے دعوے کی بنیاد پر کسی انسان پر الزام لگانا بھی خطرناک ہے۔ اسلام ہمیں توہمات کے پیچھے بھاگنے کے بجائے قرآن، سنت اور واضح دلیل کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ جنات کا وجود حقیقت ہے۔ جادو کا ذکر بھی قرآن میں موجود ہے۔ لیکن ہر عامل حقیقتاً جنات سے رابطے میں ہے، ہر عامل کی بات سچی ہے، یا ہر عامل غیب جانتا ہے—یہ تینوں باتیں خود بخود ثابت نہیں ہو جاتیں۔ اور شاید سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ انسان اللہ سے مدد مانگنے کے بجائے اپنی زندگی کے ہر مسئلے کا جواب کسی ایسے شخص کے پاس تلاش کرنے لگے جو خود اپنے دعووں کی کوئی شرعی دلیل پیش نہیں کرتا۔ اس لیے اگلی بار جب کوئی شخص آپ سے کہے: ’’میرے پاس جن ہے، میں آپ کا ماضی جانتا ہوں، آپ کے مستقبل کو دیکھ سکتا ہوں، اور مجھے معلوم ہے آپ کے ساتھ یہ سب کس نے کیا ہے…‘‘ تو صرف اس کی بات سے متاثر نہ ہوں۔ اپنے آپ سے ایک سوال کریں: اس دعوے کی قرآن و سنت سے دلیل کیا ہے؟ کیونکہ مسلمان کا ایمان حیرت انگیز دعووں پر نہیں، وحی اور دلیل پر قائم ہوتا ہے۔ #islamic #deenurdustories #taybiivibes #foryoupage #viral

About