@dilacollectionsurabaya: #fyppppppppppppppppppppppp #dresviral

Dilacolectionsby
Dilacolectionsby
Open In TikTok:
Region: ID
Saturday 22 August 2026 13:07:06 GMT
351
12
0
5

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @dilacollectionsurabaya, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

پڑوسی کے گھر میں چولہا جل رہا ہے یا نہیں، اس سے ہمیں کوئی خاص غرض نہیں ہوتی؛ لیکن اسی گھر کی عورت کس سے بات کرتی ہے، بیٹی کہاں گئی، کس کے ساتھ کھڑی ہوئی، کس نے کیا پہنا اور کس کے گھر کون آیا، اس کی خبر ہمارے معاشرے کو بڑی جلدی ہو جاتی ہے۔ یہ ہماری اجتماعی ترجیحات کی ایک تلخ تصویر ہے کہ ہمیں دوسروں کی ضرورتوں سے زیادہ ان کی زندگیوں میں جھانکنے کا شوق ہے۔ ہمیں شاید یہ جاننے میں دلچسپی نہیں کہ سامنے والے گھر کے بچے نے آج کھانا کھایا بھی ہے یا نہیں، ماں کے پاس دوا کے پیسے ہیں یا نہیں، باپ کئی دنوں سے روزگار کی تلاش میں خالی ہاتھ واپس آ رہا ہے یا نہیں۔ لیکن اگر اس گھر کی بیٹی شام کو کچھ دیر دیر سے واپس آئے تو پورا محلہ اپنی اپنی رائے کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔ کسی کے گھر کی دیوار کے پیچھے کیا ہو رہا ہے، یہ جاننا آسان ہے؛ مگر کسی کے گھر کی ضرورت سمجھنا مشکل ہے۔ کسی کی عزت کے بارے میں باتیں کرنا آسان ہے، مگر خاموشی سے اس کے گھر راشن پہنچا دینا مشکل ہے۔ کسی کی بیٹی کے کردار پر سوال اٹھانا آسان ہے، مگر اس کی تعلیم کے لیے مدد کرنا مشکل ہے۔ ہم نے غیبت کو مشورہ، تجسس کو فکر اور کردار کشی کو معاشرتی حق سمجھ لیا ہے۔ اگر کسی عورت کے لباس، کسی لڑکی کی نقل و حرکت یا کسی خاندان کے ذاتی معاملات پر گفتگو ہو رہی ہو تو لوگ گھنٹوں بیٹھ سکتے ہیں، مگر اگر اسی محلے میں کوئی بچہ بھوکا سو رہا ہو تو اکثر دروازے بند رہتے ہیں۔ اسلام اور انسانیت دونوں ہمیں دوسروں کی عزت، ضرورت اور پردے کا خیال رکھنے کا درس دیتے ہیں۔ کسی کے عیب تلاش کرنا کوئی کمال نہیں۔ اصل کمال یہ ہے کہ آپ کو کسی کی ضرورت کا علم ہو اور آپ اس کی عزت مجروح کیے بغیر اس کا سہارا بن جائیں۔ اگر واقعی پڑوسی کی فکر ہے تو پہلے یہ معلوم کریں کہ اس کے گھر میں کھانے کو کچھ ہے یا نہیں۔ اگر کسی خاندان کی بیٹی کے مستقبل کی فکر ہے تو اس کے کردار کی نگرانی کے بجائے اس کی تعلیم اور عزت کے لیے ماحول بنائیں۔ اگر کسی عورت کی زندگی پر گفتگو کرنے کا وقت ہے تو شاید اس سے بہتر یہ ہے کہ اس کے گھر کی کسی مشکل کو کم کرنے کے لیے چند قدم اٹھا لیے جائیں۔ کیونکہ کسی کے گھر کی عورتوں کی نگرانی کرنا معاشرتی ذمہ داری نہیں، مگر کسی بھوکے بچے کے لیے کھانا پہنچانا ضرور انسانیت ہے۔ کسی کی عزت اچھالنا بہادری نہیں، مگر کسی کی عزت بچا لینا ضرور کردار ہے۔ ہمیں اپنے معاشرے میں جاسوس کم اور انسان زیادہ بننے کی ضرورت ہے۔ ہمیں لوگوں کی زندگیوں میں جھانکنے کے بجائے ان کے دکھوں کو دیکھنا سیکھنا ہوگا۔ کیونکہ شاید ہمارے پڑوس میں کوئی ایسا بچہ موجود ہو جو بھوک سے سو رہا ہو، اور ہم اس کے گھر کی عورتوں کے بارے میں بحث کر کے خود کو بڑا سمجھ رہے ہوں۔ یاد رکھیے، کسی کے گھر کی خبر رکھنے سے پہلے اس کے حال کی خبر رکھیں۔ کسی کی بیٹی پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے کردار کو دیکھیں۔ اور کسی کی عزت کے بارے میں بات کرنے سے پہلے یہ سوچیں کہ اگر یہی بات آپ کے اپنے گھر کے بارے میں کی جائے تو آپ پر کیا گزرے گی۔ معاشرہ تب بہتر ہوگا جب ہمیں یہ جاننے سے زیادہ فکر ہوگی کہ ہمارے آس پاس کون بھوکا ہے، کون پریشان ہے، کون بیمار ہے اور کس کو ہماری مدد کی ضرورت ہے۔ کیونکہ دوسروں کے عیب گننے سے کوئی معاشرہ مہذب نہیں ہوتا، لیکن ایک دوسرے کے دکھ بانٹنے سے ضرور ہو سکتا ہے۔ 🖤🥀#foryoure #viralvideos #foryoupage #followers #everyone
پڑوسی کے گھر میں چولہا جل رہا ہے یا نہیں، اس سے ہمیں کوئی خاص غرض نہیں ہوتی؛ لیکن اسی گھر کی عورت کس سے بات کرتی ہے، بیٹی کہاں گئی، کس کے ساتھ کھڑی ہوئی، کس نے کیا پہنا اور کس کے گھر کون آیا، اس کی خبر ہمارے معاشرے کو بڑی جلدی ہو جاتی ہے۔ یہ ہماری اجتماعی ترجیحات کی ایک تلخ تصویر ہے کہ ہمیں دوسروں کی ضرورتوں سے زیادہ ان کی زندگیوں میں جھانکنے کا شوق ہے۔ ہمیں شاید یہ جاننے میں دلچسپی نہیں کہ سامنے والے گھر کے بچے نے آج کھانا کھایا بھی ہے یا نہیں، ماں کے پاس دوا کے پیسے ہیں یا نہیں، باپ کئی دنوں سے روزگار کی تلاش میں خالی ہاتھ واپس آ رہا ہے یا نہیں۔ لیکن اگر اس گھر کی بیٹی شام کو کچھ دیر دیر سے واپس آئے تو پورا محلہ اپنی اپنی رائے کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔ کسی کے گھر کی دیوار کے پیچھے کیا ہو رہا ہے، یہ جاننا آسان ہے؛ مگر کسی کے گھر کی ضرورت سمجھنا مشکل ہے۔ کسی کی عزت کے بارے میں باتیں کرنا آسان ہے، مگر خاموشی سے اس کے گھر راشن پہنچا دینا مشکل ہے۔ کسی کی بیٹی کے کردار پر سوال اٹھانا آسان ہے، مگر اس کی تعلیم کے لیے مدد کرنا مشکل ہے۔ ہم نے غیبت کو مشورہ، تجسس کو فکر اور کردار کشی کو معاشرتی حق سمجھ لیا ہے۔ اگر کسی عورت کے لباس، کسی لڑکی کی نقل و حرکت یا کسی خاندان کے ذاتی معاملات پر گفتگو ہو رہی ہو تو لوگ گھنٹوں بیٹھ سکتے ہیں، مگر اگر اسی محلے میں کوئی بچہ بھوکا سو رہا ہو تو اکثر دروازے بند رہتے ہیں۔ اسلام اور انسانیت دونوں ہمیں دوسروں کی عزت، ضرورت اور پردے کا خیال رکھنے کا درس دیتے ہیں۔ کسی کے عیب تلاش کرنا کوئی کمال نہیں۔ اصل کمال یہ ہے کہ آپ کو کسی کی ضرورت کا علم ہو اور آپ اس کی عزت مجروح کیے بغیر اس کا سہارا بن جائیں۔ اگر واقعی پڑوسی کی فکر ہے تو پہلے یہ معلوم کریں کہ اس کے گھر میں کھانے کو کچھ ہے یا نہیں۔ اگر کسی خاندان کی بیٹی کے مستقبل کی فکر ہے تو اس کے کردار کی نگرانی کے بجائے اس کی تعلیم اور عزت کے لیے ماحول بنائیں۔ اگر کسی عورت کی زندگی پر گفتگو کرنے کا وقت ہے تو شاید اس سے بہتر یہ ہے کہ اس کے گھر کی کسی مشکل کو کم کرنے کے لیے چند قدم اٹھا لیے جائیں۔ کیونکہ کسی کے گھر کی عورتوں کی نگرانی کرنا معاشرتی ذمہ داری نہیں، مگر کسی بھوکے بچے کے لیے کھانا پہنچانا ضرور انسانیت ہے۔ کسی کی عزت اچھالنا بہادری نہیں، مگر کسی کی عزت بچا لینا ضرور کردار ہے۔ ہمیں اپنے معاشرے میں جاسوس کم اور انسان زیادہ بننے کی ضرورت ہے۔ ہمیں لوگوں کی زندگیوں میں جھانکنے کے بجائے ان کے دکھوں کو دیکھنا سیکھنا ہوگا۔ کیونکہ شاید ہمارے پڑوس میں کوئی ایسا بچہ موجود ہو جو بھوک سے سو رہا ہو، اور ہم اس کے گھر کی عورتوں کے بارے میں بحث کر کے خود کو بڑا سمجھ رہے ہوں۔ یاد رکھیے، کسی کے گھر کی خبر رکھنے سے پہلے اس کے حال کی خبر رکھیں۔ کسی کی بیٹی پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے کردار کو دیکھیں۔ اور کسی کی عزت کے بارے میں بات کرنے سے پہلے یہ سوچیں کہ اگر یہی بات آپ کے اپنے گھر کے بارے میں کی جائے تو آپ پر کیا گزرے گی۔ معاشرہ تب بہتر ہوگا جب ہمیں یہ جاننے سے زیادہ فکر ہوگی کہ ہمارے آس پاس کون بھوکا ہے، کون پریشان ہے، کون بیمار ہے اور کس کو ہماری مدد کی ضرورت ہے۔ کیونکہ دوسروں کے عیب گننے سے کوئی معاشرہ مہذب نہیں ہوتا، لیکن ایک دوسرے کے دکھ بانٹنے سے ضرور ہو سکتا ہے۔ 🖤🥀#foryoure #viralvideos #foryoupage #followers #everyone

About