تم تو بس ایک ہی دکھ کا پوچھتے ہو
کون سے دکھ کی کریں بات ذرا یہ تو بتا
موسموں سرد ہواؤں کی مسیحائی کا دکھ
راہ کی دھول میں بکھری ہوئی بینائی کا دکھ
سنگ کے شہر میں خود سے شناسائی کا دکھ
یا کسی بھیگتی برسات میں تنہائی کا دکھ
کون سے دکھ کی کریں بات کہ دل کا دریا
اتنی طغیانی کی زد پر ہے کہ کچھ یاد نہیں
کب ہمیں بھول گیا کون سے ہرجائی کا دکھ
تم تو بس ایک ہی دکھ پوچھتے ہو
2026-08-22 18:32:43
1
To see more videos from user @lyricstyper1, please go to the Tikwm
homepage.