@soldiers.pk_: اس دنیا کے اصول بھی کتنے عجیب اور بے حس ہیں۔ جب کوئی مکان سڑک کے کنارے بنتا ہے تو اس کی قیمت کروڑوں میں چلی جاتی ہے، لوگ اس کی بولی لگاتے ہیں۔ جب کوئی کھیت روڈ پر آتا ہے تو اس کا مول آسمان سے باتیں کرنے لگتا ہے، خریداروں کی لائنیں لگ جاتی ہیں۔ لیکن اسی سڑک کے کنارے، اسی روڈ کے پتھروں پر جب کوئی مجبور اور لاچار انسان آ بیٹھتا ہے، تو اس کی کوئی قیمت نہیں رہتی۔ لوگ اسے دیکھ کر منہ پھیر لیتے ہیں، جیسے وہ کوئی بے جان یا فضول شے ہو۔ اس بزرگ کی جھریوں بھری پیشانی اور اداس آنکھیں پورے سماج کی بے حسی کا ماتم کر رہی ہیں۔ اس بوڑھے باپ نے کبھی اپنے بچوں کے لیے اپنے دن رات ایک کیے ہوں گے، ان کی ہر خواہش پوری کرنے کے لیے سخت گرمی اور سردی سہی ہوگی۔ لیکن آج وہی باپ روڈ کے کنارے دھول اور گرد میں بیٹھ کر کسی کے رحم و کرم کا منتظر ہے۔ وہ چہرہ جو کبھی کسی گھر کی رونق تھا، آج سڑک کی بے لوث پتھریلی زمین پر اپنی مظلومیت کی داستان سنا رہا ہے۔ انسان جب بے بس ہو کر سڑک پر آتا ہے تو اس کی عزت، اس کی انا اور اس کا وجود سب کچھ پامال ہو جاتا ہے۔ پتھروں کی قیمت بڑھانے والے معاشرے میں زندہ انسان کی قدر ختم ہو چکی ہے۔ کیا آپ نے کبھی کسی بے بس انسان کا درد محسوس کیا ہے؟