@kingsadami39: یہ الفاظ خودداری، بے باکی اور مضبوط کردار کی ترجمانی کرتے ہیں۔ کہنے والا واضح کرتا ہے کہ وہ کسی مفاد یا ذاتی فائدے کے لیے کسی کی چاپلوسی نہیں کرتا اور نہ ہی ظلم، توہین یا ناانصافی کو کسی مجبوری کے تحت خاموشی سے برداشت کرتا ہے۔ اس کے نزدیک عزتِ نفس سب سے بڑھ کر ہے۔ دوسرے جملے میں کہنے والا اپنی جرأت اور حوصلے کا اظہار کرتا ہے کہ وہ اپنے مخالفین سے خوفزدہ نہیں ہوتا بلکہ پورے اعتماد کے ساتھ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرسکتا ہے۔ یہ پیغام دیتا ہے کہ انسان کو حق اور سچ پر قائم رہتے ہوئے بزدلی، چاپلوسی اور خوف سے دور رہنا چاہیے۔ سبق: انسان کی اصل طاقت اس کی خودداری، سچائی اور بے خوف کردار میں ہوتی ہے۔#صداميون_ونفتخر_سيف_العرب_يرحمگ_الله #viralpicture #foryou #foryoupag