@mujtabahussain54: #fyp #2million #foryoupage #pleaseunfrezzemyaccount

सैयद मुजतबा हुसैन  ☫
सैयद मुजतबा हुसैन ☫
Open In TikTok:
Region: PK
Sunday 23 August 2026 07:03:25 GMT
16000
869
15
56

Music

Download

Comments

syed_shakirnaqvi14
سید شاکر علی نقوی 572 :
Masla Sirf Bagh.e.Fidak Ka nhi Tha
2026-08-23 08:10:53
2
muhammadiqbalqureshi99
Muhammad Iqbal Qureshi :
نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے قرابت داروں کو مال و منال سے دور رکھا ۔ اس لیے کہ آپ بادشاہ بن کے نہیں آئے تھے آخری نبی بن کے مبعوث ہوئے تھے ۔ اگر آپ جائدادیں اپنی اولاد و ازواج میں بانٹتے اور اقتدار اپنے گھر والوں کو دیتے تو آج پوری دنیا کہتی کہ یہ سب کام اقتدار اور مال کے لیے کیا گیا ۔ جبکہ ایسا نہیں ہے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کا دین عطا کرنے آئے تھے اور دین مکمل کر کے تشریف لے گئے ۔ بس
2026-08-23 10:06:11
2
sonu.786.786
sonu786 :
part 2 plz sand mee
2026-08-23 08:19:57
0
chhaider12146
HAIDER🥂🖤 :
❤️❤️❤️
2026-08-23 07:30:23
2
noroz.ali1
Noroz Ali :
🥰
2026-08-23 08:55:03
0
mugheriasif
mugheriasif :
🥰🥰🥰
2026-08-23 14:51:42
0
rajaikhlaqikhlaq8
raja pardesi :
👍👍
2026-08-23 08:37:25
0
sajjadalibutt4
Sajjad Ali Butt429 :
❤️❤️
2026-08-23 08:46:51
0
ali.dosit4
BiLAWAL 🥀😍malik :
♥️♥️♥️
2026-08-23 10:23:05
0
noorain.baloch5
noorain baloch :
🥰🥰🥰
2026-08-23 07:24:30
0
memonaleehyder
MYmoن Aلee🍁 :
" جاگیر فدک " آیت اللہ العظمی سید ابو الفضل برقعی (رحمہ اللہ) لکھتے ہیں: جان لیں کہ "فدک" حجاز میں ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جو مدینہ سے تقریباً چار کلو میٹر دور ہے۔ اس کے باشندوں نے صلح کے ذریعے اسے مسلمانوں کے حوالے کر دیا تھا۔ ایسی جائیداد یا جگہ "مال فَیء" کے حکم میں آتی ہے، یعنی ریاست کی خالص ملکیت، اور مسلمانوں کے سربراہ کے اختیار میں ہوتی ہے تا کہ وہ اسے ان کے عام مفادات میں خرچ کریں۔ یہ صلح ہجرت کے ساتویں سال، فتح خیبر کے بعد ہوئی تھی۔ اس گاؤں میں ایک کنواں اور کھجور کے درخت تھے رسول اللہ ﷺ اس سے حاصل ہونے والی آمدنی مستحق افراد ، مسافروں اور مسلمانوں کے عام مفادات پر خرچ کرتے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: مَا أَفَاءَاللهُعَلَى رَسُولِهِ مِنْأَهْلِ الْقُرَى فَلِلَهِ وَلِلرَسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَبِيلِ كَيْلَا يَكُونَدُولَةً بَيْنَالْأَغْنِيَاءِ مِنْكُمْ[الحشر/7] اللہ نے ان بستی والوں کے مال سے جو کچھ بھی اپنے رسول کی آمدنی قرار دیا ہے وہ اللہ اور رسول اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے تاکہ وہ مال تمہارے دولت مندوں کے درمیان ہی گردش نہ کرتا رہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں فدک کے ساتھ وہی سلوک کیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ جب خلافت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ملی تو انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام اور اپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو فدک کا نگران اور متولی مقرر کیا تابکہ وہ اس کی آمدنی کو قرآن میں مذکور مصارف کے مطابق خرچ کریں۔ اللہ کی تقدیر سے حضرت علی علیہ السلام اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے درمیان فدک کے تصرف کے بارے میں اختلاف ہو گیا تو انہوں نے خلیفہ سے شکایت کی، لیکن انہوں نے ان کے درمیان فیصلہ نہیں کیا بلکہ انہیں حکم دیا کہ وہ خود ہی اپنا اختلاف حل کریں۔ اگر فدک کا کوئی حقیقی مالک ہوتا جو دوسروں کے تصرف سے راضی نہ ہوتا تو اس کی آمدنی دوسروں کو دینا جائز نہ ہوتا اور حضرت علی علیہ السلام کبھی بھی ایسی غصب شدہ ملکیت کی انتظامیہ قبول نہ کرتے اور نہ ہی کبھی گناہ پر تعاون کرتے۔ پھر فدک کا انتظام مروان بن الحکم اور بنو مروان کے پاس چلا گیا یہاں تک کہ عمر بن عبدالعزیز کے زمانے تک، جنہوں نے اپنے دور خلافت میں خلفائے راشدین کے طریقے پر عمل کیا۔ 210 ہجری میں عباسی خلیفہ مامون نے حکم دیا کہ فدک حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی اولاد کے سپرد کر دیا جائے۔ اس کے بعد انہوں نے فدک یحییٰ بن الحسین بن زید بن علی بن الحسین اور محمد بن عب
2026-08-23 09:57:27
0
asif_ali_asif_1980
Asif Ali Chandio :
وعدہ ہے میرا آپ سے اے بنتِ پیغمبرﷺ، میں آپ کے بچوں کا طرفدار رہوں گا. 🙏
2026-08-23 12:03:52
1
To see more videos from user @mujtabahussain54, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos


About