جس سے سیدہ فاطمتہ الزہرہ سلام اللہ علیہا راضی ہوں وہ رضی اللّٰہ ۔۔۔
2026-08-27 03:26:49
3
MIAN Muhammad Nawaz shareef :
صحیح بخاری
کتاب: غزوات کا بیان
باب: غزوہ خیبر کا بیان۔
حدیث نمبر: 4240
ترجمہ:
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے عقیل نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے عروہ نے ‘ ان سے عائشہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ کی صاحبزادی فاطمہ (رض) نے ابوبکر صدیق (رض) کے پاس کسی کو بھیجا اور ان سے اپنی میراث کا مطالبہ کیا نبی کریم ﷺ کے اس مال سے جو آپ کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ اور فدک میں عنایت فرمایا تھا اور خیبر کا جو پانچواں حصہ رہ گیا تھا۔ ابوبکر (رض) نے یہ جواب دیا کہ نبی کریم ﷺ نے خود ہی ارشاد فرمایا تھا کہ ہم پیغمبروں کا کوئی وارث نہیں ہوتا ‘ ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ سب صدقہ ہوتا ہے ‘ البتہ آل محمد ﷺ اسی مال سے کھاتی رہے گی اور میں، اللہ کی قسم ! جو صدقہ نبی کریم ﷺ چھوڑ گئے ہیں اس میں کسی قسم کا تغیر نہیں کروں گا۔ جس حال میں وہ آپ ﷺ کے عہد میں تھا اب بھی اسی طرح رہے گا اور اس میں (اس کی تقسیم وغیرہ) میں میں بھی وہی طرز عمل اختیار کروں گا جو آپ ﷺ کا اپنی زندگی میں تھا۔ غرض ابوبکر (رض) نے فاطمہ (رض) کو کچھ بھی دینا منظور نہ کیا۔ اس پر فاطمہ (رض) ابوبکر (رض) کی طرف سے خفا ہوگئیں اور ان سے ترک ملاقات کرلیا اور اس کے بعد وفات تک ان سے کوئی گفتگو نہیں کی۔ فاطمہ (رض) آپ ﷺ کے بعد چھ مہینے تک زندہ رہیں۔ جب ان کی وفات ہوئی تو ان کے شوہر علی (رض) نے انہیں رات میں دفن کردیا اور ابوبکر (رض) کو اس کی خبر نہیں دی اور خود ان کی نماز جنازہ پڑھ لی۔ فاطمہ (رض) جب تک زندہ رہیں علی (رض) پر لوگ بہت توجہ رکھتے رہے لیکن ان کی وفات کے بعد انہوں نے دیکھا کہ اب لوگوں کے منہ ان کی طرف سے پھرے ہوئے ہیں۔ اس وقت انہوں نے ابوبکر (رض) سے صلح کرلینا اور ان سے بیعت کرلینا چاہا۔ اس سے پہلے چھ ماہ تک انہوں نے ابوبکر (رض) سے بیعت نہیں کی تھی پھر انہوں نے ابوبکر (رض) کو بلا بھیجا اور کہلا بھیجا کہ آپ صرف تنہا آئیں اور کسی کو اپنے ساتھ نہ لائیں ان کو یہ منظور نہ تھا کہ عمر (رض) ان کے ساتھ آئیں۔ عمر (رض) نے ابوبکر (رض) سے کہا کہ اللہ کی قسم ! آپ تنہا ان کے پاس نہ جائیں۔ ابوبکر (رض) نے کہا کیوں وہ میرے ساتھ کیا کریں گے میں تو اللہ کی قسم ! ضرور ان کی پاس جاؤں گا۔ آخر آپ علی (رض) کے یہاں گئے۔ علی (رض) نے اللہ کو گواہ کیا ‘ اس کے بعد فرمایا ہمیں آپ کے فضل و کمال اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بخشا ہے ‘ سب کا ہمیں اقرار ہے جو خیر و امتیاز آپ کو اللہ تعالیٰ نے دیا تھا ہم نے اس میں کوئی ریس بھی نہیں کی لیکن آپ نے ہمارے ساتھ زیادتی کی (کہ خلافت کے معاملہ میں ہم سے کوئی مشورہ