@moulanaofficial: چند روز اورمیری جان، فقط چند ہی روز ظلم کی چھاؤں میں دم لینے پہ مجبور ہیں اور کچھ دیر ستم سہ لیں، تڑپ لیں، رو لیں اپنے اجداد کی میراث ہے، معذور ہیں جس پہ قید ہے، جذبات پہ زنجیریں ہیں فکر محبوس ہے، گفتار پہ تعزیریں ہیں اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے جاتے ہیں جس پہ قید ہے، جذبات پہ زنجیریں ہیں فکر محبوس ہے، گفتار پہ تعزیریں ہیں اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے جاتے ہیں زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں لیکن اب ظلم کی میعاد کے دن تھوڑے ہیں۔ ایک ذرا صبر، فریاد کے دن تھوڑے ہیں۔ عرصۂ دہر کی جھلسی ہوئی ویرانی میں ہم کو رہنا ہے کہ یوں ہی تو نہیں رہنا ہے اجنبی ہاتھوں کا بے نام غبارِ ستم آج سہنا ہے، ہمیشہ تو نہیں سہنا ہے۔