@oman.alla5: 40 سال جیل میں گزارنے کے بعد یہ کہا گیا کہ آپ بے گناہ تھے یہ کہانی ہے اجامو نام کے ایک غریب لڑکے کی۔ صرف 17 سال کی عمر میں اس پر جھوٹا قتل کا الزام لگا، اور اسے عمر قید کی سزا ہو گئی۔ اس نے اپنی جوانی، اپنے خواب، سب کچھ جیل کی دیواروں کے پیچھے گزار دیا۔ 40 سال بعد اصل قاتل پکڑا گیا، اور عدالت نے اجامو کو بے گناہ قرار دیا۔ حج نے اس کے سامنے ایک خالی کا غذر کھا اور کہا: ، جتنی رقم چاہو لکھ لو ، حکومت تمہیں فوراً دے گی۔ ا جامو نے صرف ایک جملہ لکھا : “ حج صاحب، اپنے قانون پر نظر ثانی کیجیے، تاکہ کسی اور اجامو کی زندگی ضائع نہ ہو۔ ” یہ کہہ کر وہ روپڑا، اور عدالت میں موجود سب کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ یہ کہانی صرف اجامو کی نہیں، یہ اس نظام کی حقیقت ہے جہاں انصاف دیر سے ملتا ہے۔