@golden_phrases1: ہماری ساخت میں مرد کو بنیادی طور پر صرف ایک "کفیل" یعنی گھر کا خرچ چلانے والے کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، لیکن اس کے پیچھے اس کی اپنی ذات، خواہشات اور وجود کا سننا اور سمجھنا ختم ہو جاتا ہے۔ ایک مرد دن رات، کڑی دھوپ، سخت سردی اور اپنوں سے دور رہ کر محض اس لیے جدوجہد کرتا ہے تاکہ اس کا خاندان ایک آسودہ زندگی گزار سکے۔ وہ بسوں کے دھکے کھاتا ہے، مسلسل تھکن اور ذہنی دباؤ کو برداشت کرتا ہے، لیکن کبھی اپنے دکھ کا اظہار نہیں کرتا۔ المیہ تب جنم لیتا ہے جب اس تمام تر خلوص اور مشقت کے بعد اس کی حیثیت صرف ایک "کمانے والی مشین" تک محدود کر دی جاتی ہے اور اس کی اہمیت صرف اس کی جیب سے نکلنے والے پیسوں اور مالی سہولیات سے طے ہوتی ہے۔ اس کی اپنی تنہائی، تھکن اور جذباتی ضروریات کو یکسر فراموش کر دیا جاتا ہے، حالانکہ وہ صرف مالی سہارا نہیں بلکہ ایک انسان، باپ، شوہر اور بیٹا ہے جسے اتنی ہی محبت، عزت اور موجودگی کی قدر کی ضرورت ہوتی ہے جتنی کہ کسی بھی دوسرے وجود کو۔ سچی خوشی اور ایک مکمل گھر تب ہی قائم ہوتا ہے جب مرد کی کمائی سے زیادہ اس کی ذات اور اس کے وجود کو اہمیت دی جائے اور اس کے جذبات کا احترام کیا جائے۔