@nishakhan0020: luk patla Mera chukda ni phar way 🩰 #tiktokgrowthchallenge #foryoupage #fypシ゚viral #TiktokGrowthChallenge #trendingnow

Nisha Khan 💫
Nisha Khan 💫
Open In TikTok:
Region: PK
Monday 24 August 2026 07:07:36 GMT
1637
234
17
7

Music

Download

Comments

omor.faruq058
Omor Faruq :
hi
2026-08-24 07:24:20
0
user433540682
user1554165647881 :
love 💕 you
2026-08-24 09:17:09
0
sajid.hussain2724
Sajid Hussain :
ٹھیک کیندے او جی توسی
2026-08-24 16:08:48
0
naeem.abdullah00
Naeem Khan 523 :
thakay
2026-08-24 10:08:52
0
user798395081
Imran Khan :
🥰🥰🥰
2026-08-26 06:02:32
0
jack02403xf
Zulaikha khan :
🥰🥰🥰
2026-08-24 11:42:49
0
shahidkhan.shahid20
Shahidkhan Shahidkhan :
🩷💖💓❤️‍🩹💗💘❤️💔🩷
2026-08-25 18:44:24
0
malikashiq362
ملک عاشق :
🥰🥰🥰
2026-08-25 04:44:01
0
md.kutub98
MD Kutub :
@🥰🥰🥰🥰
2026-08-24 11:47:17
0
shahidkhan.shahid20
Shahidkhan Shahidkhan :
🩷💔💘💗❤️‍🩹💓💖
2026-08-25 18:44:45
0
laughfuel81
Laugh fuel :
🥰🥰🥰
2026-08-24 10:31:20
0
inayaofficial14
Inaya🥰 :
🥰🥰🥰
2026-08-24 10:15:46
0
user325776048
👑Malik👑shahzad👑 :
♥️♥️♥️
2026-08-26 21:09:23
0
qasimshah3406
Qãsím Shãh :
❤️❤️❤️
2026-08-24 10:07:18
0
user7972243835941
kaka seikhu :
🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰
2026-08-24 07:13:00
1
To see more videos from user @nishakhan0020, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

علامہ شمس الحق افغانیؒ _________  چارسدہ کا وہ پٹھان جس نے دیوبند کو بھی حیران کر دیا۔ تم نے پٹھان دیکھے ہوں گے جو بندوق چلاتے ہیں، تم نے پٹھان دیکھے ہوں گے جو تجارت کرتے ہیں۔ لیکن کیا تم نے ایسا پٹھان دیکھا ہے جس کی بندوق قلم تھی، اور جس کے سامنے دیوبند کے بڑے بڑے محدث بھی زانو ٹیک دیتے تھے۔ اس کا نام تھا۔سید شمس الحق افغانی۔ ترنگزئی، چارسدہ کا وہ لعل جسے زمانے نے
علامہ شمس الحق افغانیؒ _________ چارسدہ کا وہ پٹھان جس نے دیوبند کو بھی حیران کر دیا۔ تم نے پٹھان دیکھے ہوں گے جو بندوق چلاتے ہیں، تم نے پٹھان دیکھے ہوں گے جو تجارت کرتے ہیں۔ لیکن کیا تم نے ایسا پٹھان دیکھا ہے جس کی بندوق قلم تھی، اور جس کے سامنے دیوبند کے بڑے بڑے محدث بھی زانو ٹیک دیتے تھے۔ اس کا نام تھا۔سید شمس الحق افغانی۔ ترنگزئی، چارسدہ کا وہ لعل جسے زمانے نے "شمس العلماء" یعنی عالموں کا سورج کہا۔ 1901، ترنگزئی۔ ایک چھوٹے سے حجرے میں باپ اپنے 8 سالہ بیٹے کو ناظرہ پڑھا رہا ہے۔ بچہ پوچھتا ہے "ابا! خدا کہاں ہے۔ باپ ہنسا، کہا "بیٹا، تم خود ایک دن لوگوں کو بتاؤ گے کہ خدا کہاں ہے۔" یہ بچہ روز اپنے گاؤں کے پرائمری اسکول جاتا، پھر واپس آ کر باپ سے عربی، فارسی، منطق پڑھتا۔ پھر اسے لگا یہ گاؤں چھوٹا ہے۔ وہ پیدل چل کر پشاور گیا، پھر افغانستان کے عالموں کے پاس، پھر آخر کار 1920 میں 'دار العلوم دیوبند' دیوبند میں داخلہ لینا آج بھی جوئے شیر لانے کے برابر ہے۔ اس نے انٹرویو دیا۔ سامنے بیٹھے تھے "علامہ انور شاہ کشمیریؒ" ، جو آدھا گھنٹہ کتاب دیکھے بغیر بخاری کا درس دیتے تھے۔ کشمیریؒ نے سوال کیا۔ شمس الحق نے جواب دیا۔ کشمیریؒ نے دوسرا سوال کیا، جواب پھر حاضر۔ کشمیریؒ مسکرائے، کہا "لڑکے، تم ترنگزئی سے آئے ہو یا بخارا سے؟ تمہارا دماغ تو لوہے جیسا ہے۔" بس پھر کیا تھا، وہ کشمیریؒ کا خاص شاگرد بن گیا۔ 1921 میں جب وہ فارغ ہوا تو دیوبند کے شیخ الحدیث نے کہا "شمس الحق، تم صرف عالم نہیں، تم افغانی ہو، تمہارے خون میں غیرت بھی ہے اور علم بھی۔" وہ نوکری جس کے لیے نواب ترستے تھے۔ تم سوچو، ایک آدمی کو ایک ساتھ چار ملکوں سے نوکری کی آفر آئے۔ شمس الحق کے ساتھ یہی ہوا۔ سندھ کے نواب نے کہا "آؤ، ارشاد العلوم لاٹکانہ کا صدر بنو۔" کراچی والوں نے کہا "مظاہر العلوم سنبھالو۔" ریاست قلات (بلوچستان کا بادشاہ) نے قاصد بھیجا "آپ ہمارے وزیر تعلیم اور چیف جسٹس بن جاؤ۔" اور خود دار العلوم دیوبند نے کہا "واپس آؤ، ہمارے شیخ التفسیر بنو۔" اس نے سب کی مانی۔ 1932 سے 1939 تک وہ دیوبند میں تفسیر پڑھاتا رہا، اور جب وہ تفسیر پڑھاتا تو ایسا لگتا جیسے قرآن ابھی اتر رہا ہے۔ پھر پاکستان بنا، تو اسے لاہور بلایا گیا، پھر بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی میں 12 سال تک، جہاں اس نے قرآن کی ایسی تفسیر کی کہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی اس کے قدموں میں بیٹھتے ہیں۔ پیرس میں اس نے کیا کیا؟ یہ کہانی تمہیں مزہ دے گی۔ فرانس کے شہر پیرس میں گوروں نے ایک کانفرنس کی، نام تھا "کیا اسلام جدید دور کا مذہب ہے؟" انہوں نے سارے مسلمانوں کو چیلنج کیا۔ پاکستان سے کسی کو بھیجنا تھا جو انگریزی بھی بولے، فلسفہ بھی جانے، اور قرآن بھی۔حکومت نے شمس الحق افغانی کو بھیجا۔ ہال میں 500 گورے پروفیسر بیٹھے تھے۔ شمس الحق سفید شلوار قمیص میں، سر پر ٹوپی، ہاتھ میں عصا۔ گورے ہنسے "یہ کیا جواب دے گا؟" اس نے مائیک پکڑا، پہلے انگریزی میں 10 منٹ بولا، پھر فرانسیسی فلسفیوں کے حوالے دیے، پھر قرآن کی آیت پڑھی۔ پورا ہال سناٹے میں آ گیا۔ ایک گورا پروفیسر اٹھا، کہا "اگر اسلام ایسا ہے تو ہم آج مسلمان ہوتے ہیں۔" وہی ڈاکٹر حمید اللہ، جو پیرس میں رہتے تھے، کہنے لگے "آج میں نے دیکھا کہ ترنگزئی کا سورج پیرس میں بھی چمک سکتا ہے۔" اسی لیے ضیاء الحق نے 1980 میں اسے ستارہ امتیاز دیا۔ 16 اگست 1983۔ عمر 82 سال۔ بستر پر لیٹا ہے، پاس اس کی کتاب "علوم القرآن" پڑی ہے۔ بیٹے نے پوچھا "ابا، کوئی وصیت؟" کہا "بیٹا، میری قبر پر یہ لکھنا کہ یہ وہ آدمی تھا جو قرآن سے محبت کرتا تھا۔" اور آنکھ بند ہو گئی۔ آج ترنگزئی جاؤ تو اس کی قبر پر لکھا ہے: "شمس العلماء سید شمس الحق افغانی - وفاق کا بانی" اور قبر کے ساتھ ایک چھوٹا سا مدرسہ ہے، جہاں آج بھی ایک بچہ باپ سے پوچھ رہا ہے "ابا! خدا کہاں ہے؟" اور باپ مسکرا کر کہتا ہے "بیٹا، افغانی کی کتاب کھولو۔

About