@ellaspam67410: 2nd overall 2 secand difference #fyp

🫶🏽🫶🏽🫶🏽
🫶🏽🫶🏽🫶🏽
Open In TikTok:
Region: AU
Monday 24 August 2026 11:58:18 GMT
1000
129
7
0

Music

Download

Comments

abigaaubb9y
⚽️Abby🐬 :
Ell you sweat
2026-08-27 09:02:24
0
lola_evans23
LolaEvans🤍 :
Your such a Gunn Ella and I’m always here for you love uuu mg xx
2026-08-24 22:19:49
0
scarlettb132
. :
Your such a speedy girl
2026-08-24 21:19:41
0
isla_secrettt6789
Isla :
Gunnnn xxx
2026-08-25 02:28:27
0
kalani_isthebest
𝐥𝐚𝐧𝐢 🤞🏼 :
you weapon !
2026-08-25 05:43:21
0
abigaaubb9y
⚽️Abby🐬 :
You gunnnn🩵🤍
2026-08-27 09:03:30
0
taya_d9
taya :
such a gunnn
2026-08-24 21:34:25
0
To see more videos from user @ellaspam67410, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

دنیا کے کسی بھی باشعور معاشرے میں ہسپتالوں اور اسکولوں میں باقاعدہ فائر سیفٹی اور ایمرجنسی ٹریننگ ہوتی ہے۔ ہر چند ماہ بعد مشقیں کرائی جاتی ہیں تاکہ آفت کے وقت لوگ گھبراہٹ میں نہ مر جائیں۔ مگر یہاں صورتحال الٹ ہے۔ ایسے ادارے تلاش کرنا مشکل ہے جہاں پچھلے کئی سالوں میں سنجیدگی سے ایمرجنسی ایگزٹ کی مشق کرائی گئی ہو۔ تباہی کے لیے تیاری کا کوئی کلچر ہی نہیں۔ اس کی جڑ صرف غفلت میں نہیں، سیاسی عدم استحکام میں بھی ہے۔ جہاں اقتدار خود چند دنوں کی ضمانت نہ رکھتا ہو، وہاں مستقبل کی منصوبہ بندی کون کرے؟ جو افسر آج کسی کرسی پر براجمان ہے، اسے معلوم نہیں کہ کل وہاں ہوگا یا نہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نظام ہمیشہ آج کے حساب سے چلتا ہے، کل کے حساب سے نہیں۔ اور جب سانحہ پیش آ جاتا ہے تو اصل المناک منظر سامنے آتا ہے۔ چودہ نوزائیدہ بچے جل کر مر جاتے ہیں مگر بحث اس بات پر شروع ہو جاتی ہے کہ اس واقعے سے سیاسی فائدہ کیسے اٹھایا جائے۔ کچھ اسے سازش سے جوڑ دیتے ہیں، کچھ اسے مخالفین پر حملے کا موقع سمجھتے ہیں۔ مصیبت کو انسانیت کے مسئلے کے بجائے پوائنٹ اسکورنگ کا میدان بنا لیا جاتا ہے۔ یہ رویہ بتاتا ہے کہ سانحے سے سیکھنے کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے۔ یہاں آفت آتی ہے، چند بیانات دیے جاتے ہیں، سیاسی الزام تراشی ہوتی ہے، اور پھر سب کچھ جوں کا توں رہ جاتا ہے۔ تیاری نہیں ہوتی، احتساب نہیں ہوتا اور اگلی تباہی کا انتظار صرف وقت کی بات بن کر رہ جاتا ہے۔ یہ محض انتظامی ناکامی نہیں۔ یہ ایک ذہنیت کی شکست ہے جو نہ مستقبل دیکھتی ہے اور نہ ہی مردہ بچوں کے سامنے شرم محسوس کرتی ہے۔ . . . . . . . #khizarsreflections #foryoupage #viralreels #PakPolitics #exploremore
دنیا کے کسی بھی باشعور معاشرے میں ہسپتالوں اور اسکولوں میں باقاعدہ فائر سیفٹی اور ایمرجنسی ٹریننگ ہوتی ہے۔ ہر چند ماہ بعد مشقیں کرائی جاتی ہیں تاکہ آفت کے وقت لوگ گھبراہٹ میں نہ مر جائیں۔ مگر یہاں صورتحال الٹ ہے۔ ایسے ادارے تلاش کرنا مشکل ہے جہاں پچھلے کئی سالوں میں سنجیدگی سے ایمرجنسی ایگزٹ کی مشق کرائی گئی ہو۔ تباہی کے لیے تیاری کا کوئی کلچر ہی نہیں۔ اس کی جڑ صرف غفلت میں نہیں، سیاسی عدم استحکام میں بھی ہے۔ جہاں اقتدار خود چند دنوں کی ضمانت نہ رکھتا ہو، وہاں مستقبل کی منصوبہ بندی کون کرے؟ جو افسر آج کسی کرسی پر براجمان ہے، اسے معلوم نہیں کہ کل وہاں ہوگا یا نہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نظام ہمیشہ آج کے حساب سے چلتا ہے، کل کے حساب سے نہیں۔ اور جب سانحہ پیش آ جاتا ہے تو اصل المناک منظر سامنے آتا ہے۔ چودہ نوزائیدہ بچے جل کر مر جاتے ہیں مگر بحث اس بات پر شروع ہو جاتی ہے کہ اس واقعے سے سیاسی فائدہ کیسے اٹھایا جائے۔ کچھ اسے سازش سے جوڑ دیتے ہیں، کچھ اسے مخالفین پر حملے کا موقع سمجھتے ہیں۔ مصیبت کو انسانیت کے مسئلے کے بجائے پوائنٹ اسکورنگ کا میدان بنا لیا جاتا ہے۔ یہ رویہ بتاتا ہے کہ سانحے سے سیکھنے کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے۔ یہاں آفت آتی ہے، چند بیانات دیے جاتے ہیں، سیاسی الزام تراشی ہوتی ہے، اور پھر سب کچھ جوں کا توں رہ جاتا ہے۔ تیاری نہیں ہوتی، احتساب نہیں ہوتا اور اگلی تباہی کا انتظار صرف وقت کی بات بن کر رہ جاتا ہے۔ یہ محض انتظامی ناکامی نہیں۔ یہ ایک ذہنیت کی شکست ہے جو نہ مستقبل دیکھتی ہے اور نہ ہی مردہ بچوں کے سامنے شرم محسوس کرتی ہے۔ . . . . . . . #khizarsreflections #foryoupage #viralreels #PakPolitics #exploremore

About