@_10a2labo_: Đức Long có ngoại hình ưa nhin và đẹp trai

A2 đéo sợ một ai
A2 đéo sợ một ai
Open In TikTok:
Region: VN
Monday 24 August 2026 12:14:05 GMT
3504
64
0
7

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @_10a2labo_, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

انسانی نفسیات، روح کی حفاظت اور زندگی کی تلخ حقیقتوں پر مبنی ایک ایسا فلسفہ ہے جو ہر اس انسان کو تڑپا دیتا ہے جس نے کبھی اپنی کسی عزیز نعمت کو کھویا ہو۔ انسان فطرتاً جب کسی بڑی خوشی، کامیابی يا رشتے سے نوازا جاتا ہے، تو اس کا دل چاہتا ہے کہ وہ دنیا کو بتائے۔ لیکن یہ کائنات کا ایک خاموش قانون ہے کہ ہر دیکھنے والی آنکھ میں محبت یا خیر نہیں ہوتی۔ جب کوئی نعمت بلا ضرورت لوگوں کے سامنے نمائش کے لیے پیش کی جاتی ہے، تو وہ حسد، بغض اور نظرِ بد کا ہدف بن جاتی ہے۔ حسد ایک ایسی آگ ہے جو نہ صرف حسد کرنے والے کے اندر جلتی ہے بلکہ جس پر حسد کیا جائے، اس کی زندگی سے بھی سکون، برکت اور حسن چھین لیتی ہے۔ عطائیں جب راز رہتی ہیں، تو ان میں ایک خالص پن اور روحانی پاکیزگی ہوتی ہے۔ انسان ان کا شکر صرف اپنے رب کے حضور ادا کرتا ہے۔ لیکن جیسے ہی وہ نمائش بن جاتی ہیں، ان کا مقصد شکر سے بدل کر تفاخر (فخر کرنا) اور دوسروں کو متاثر کرنا بن جاتا ہے۔ جہاں غرور اور نمائش آ جائے، وہاں سے رب کی رحمت اور برکت کا سایہ اٹھنے لگتا ہے۔ خاموشی ایک ایسا حصار ہے جو انسان کی خوشیوں کو دنیا کی شرارتوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ اپنے جذباتی تعلقات، مالی برکتوں، آئندہ کے منصوبوں اور دل کی خوشیوں کو جتنا سنبھال کر اور خاموشی سے جیا جائے، ان کی عمر اتنی ہی لمبی ہوتی ہے۔ جب نعمتوں کو لوگوں کی داد و تحسین کا محتاج بنا دیا جائے، تو وہ آہستہ آہستہ زوال پذیر ہونے لگتی ہیں۔ اس لیے عافیت اسی میں ہے کہ جو ملا ہے اس پر رب کا شکر خاموشی سے ادا کیا جائے، کیونکہ
انسانی نفسیات، روح کی حفاظت اور زندگی کی تلخ حقیقتوں پر مبنی ایک ایسا فلسفہ ہے جو ہر اس انسان کو تڑپا دیتا ہے جس نے کبھی اپنی کسی عزیز نعمت کو کھویا ہو۔ انسان فطرتاً جب کسی بڑی خوشی، کامیابی يا رشتے سے نوازا جاتا ہے، تو اس کا دل چاہتا ہے کہ وہ دنیا کو بتائے۔ لیکن یہ کائنات کا ایک خاموش قانون ہے کہ ہر دیکھنے والی آنکھ میں محبت یا خیر نہیں ہوتی۔ جب کوئی نعمت بلا ضرورت لوگوں کے سامنے نمائش کے لیے پیش کی جاتی ہے، تو وہ حسد، بغض اور نظرِ بد کا ہدف بن جاتی ہے۔ حسد ایک ایسی آگ ہے جو نہ صرف حسد کرنے والے کے اندر جلتی ہے بلکہ جس پر حسد کیا جائے، اس کی زندگی سے بھی سکون، برکت اور حسن چھین لیتی ہے۔ عطائیں جب راز رہتی ہیں، تو ان میں ایک خالص پن اور روحانی پاکیزگی ہوتی ہے۔ انسان ان کا شکر صرف اپنے رب کے حضور ادا کرتا ہے۔ لیکن جیسے ہی وہ نمائش بن جاتی ہیں، ان کا مقصد شکر سے بدل کر تفاخر (فخر کرنا) اور دوسروں کو متاثر کرنا بن جاتا ہے۔ جہاں غرور اور نمائش آ جائے، وہاں سے رب کی رحمت اور برکت کا سایہ اٹھنے لگتا ہے۔ خاموشی ایک ایسا حصار ہے جو انسان کی خوشیوں کو دنیا کی شرارتوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ اپنے جذباتی تعلقات، مالی برکتوں، آئندہ کے منصوبوں اور دل کی خوشیوں کو جتنا سنبھال کر اور خاموشی سے جیا جائے، ان کی عمر اتنی ہی لمبی ہوتی ہے۔ جب نعمتوں کو لوگوں کی داد و تحسین کا محتاج بنا دیا جائے، تو وہ آہستہ آہستہ زوال پذیر ہونے لگتی ہیں۔ اس لیے عافیت اسی میں ہے کہ جو ملا ہے اس پر رب کا شکر خاموشی سے ادا کیا جائے، کیونکہ "راز" میں ہی "حفاظت" پوشیدہ ہے۔ یہ بات انسان کے دل اور اس کے وجود کے گہرے احساسات کو چھو لیتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ انسان کو کسی خاص نعمت، خوشی، کامیابی، یا خوبصورت رشتے سے نوازتا ہے، تو وہ ایک پاکیزہ عطا ہوتی ہے۔ مگر جب انسان اپنے جذبات اور نعمتوں کا اظہار دکھاوے اور نمائش کے لیے کرنے لگتا ہے، تو اس پر برے رویوں، حسد اور نظرِ بد کا سایا پڑ جاتا ہے۔ نمائش سے انسان کے اپنے اندر بھی عاجزی کے بجائے غرور، اور سکون کے بجائے بے چینی پیدا ہونے لگتی ہے۔ جس طرح ایک نایاب ہیرا گہرے رازوں کی طرح محفوظ رکھا جائے تو اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ قائم رہتا ہے، اسی طرح رب کی عطا کردہ نعمتیں تبھی محفوظ اور بابرکت رہتی ہیں جب انہیں عاجزی اور خاموشی کے ساتھ اپنے دل کے نہاں خانوں اور صرف اللہ کے شکر میں سنبھال کر رکھا جائے۔ حسد اور بے جا دکھاوا انسان کی بسائی ہوئی خوبصورت دنیا کو زوال کی طرف دھکیل دیتا ہے۔#searchinsightcreators #tiktok #today #viral

About