@iftikharkhattak90: راولپنڈی/لاپتہ حریم کی والدہ کا بیان پولیس نے ہماری بیانات کے مطابق ایف آئی آر درج نہیں کی، حریم کی والدہ ایف آئی آر میں نام اور فون نمبر بھی غلط درج کیا گیا، اہلخانہ ہماری ایف آئی آر نہ ہمارے مطابق ہے نہ نمبر اور نام درست ہیں، اہلخانہ 20 روز گزر گئے، پولیس نے بچی کی بازیابی کے لیے کچھ نہیں کیا، والدہ پولیس کہتی ہے ہمارے ساتھ ہے تو عملی اقدامات کرکے دکھائے، متاثرہ خاندان بچی کی تلاش کے لیے پولیس کو ہم خود فون کرکے مدد مانگتے ہیں، اہلخانہ گزشتہ روز لاش ملنے پر ہمیں ہسپتال بلایا گیا، والدہ لاش کی حالت دیکھ کر پولیس بھی شناخت نہیں کر پا رہی تھی، متاثرہ خاندان پولیس نے لاش کو ہماری بچی قرار دینے کی کوشش کی، والدہ لاش ہماری بچی کی نہیں، قد اور جسمانی خدوخال مختلف ہیں، اہلخانہ لاش کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا مطالبہ کیا، متاثرہ خاندان ڈی این اے کے لیے لاہور جانے کو بھی تیار ہیں، اہلخانہ ہماری بچی زندہ ہے، دل نہیں مانتا کہ اس کے ساتھ کچھ برا ہوا، والدہ 20 روز سے ہماری بچی لاپتہ ہے، پولیس سنجیدگی سے تلاش کرے، والدہ وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل ہے ہماری بچی کو تلاش کیا جائے، والدہ بچی کے لاپتہ ہونے سے پورا خاندان شدید اذیت میں مبتلا ہے، اہلخانہ پولیس دعوے نہیں، عملی طور پر بچی کی بازیابی کرکے دکھائے، والدہ