@comrade4944: آج سرحد یونیورسٹی اسلام آباد میں طلباء نے ایک بدمعاش با وردی حاضر سروس کرنل کو گریبان سے پکڑ کر چپیڑیں کرائی ہیں۔ یہی ان کی اوقات ہے اور یہی زبان یہ سمجھتے ہیں بدمعاش کرنل کی جرات دیکھیں کہ اس نے پستول نکال کر طلباء پر براہ راست فائرنگ کرنے کی کوشش کی لیکن پستول جام ہو گئی، اگر چل جاتی تو اس نے وہیں پر طلباء کو مار دینا تھا اور اس کا بال بھی باکا نہیں ہونا تھا طلباء سے گزارش ہے کہ ان وردی والے دہشت گردوں کو جہاں دیکھیں وہیں ان کو گریبانوں سے پکڑ لیں اور ان کی سرف ایکسل سے دھلائی کریں۔ شکریہ Sarhad University Students 🫡💕 #SarhadUniversity #Sarhaduniversityislamabad #todaynews #UniversityStudents #ImranKhanZindabad

قام پرست 🥷🚩
قام پرست 🥷🚩
Open In TikTok:
Region: PK
Monday 24 August 2026 13:00:49 GMT
43264
2955
127
171

Music

Download

Comments

realityn2
꧁𓊈𒆜🥺تلاشِ سکون🥺𒆜𓊉꧂ :
leader the great
2026-08-25 09:30:00
1
ahmadbabarazam2
Ahmad khan :
love you bro
2026-08-25 10:13:48
0
laiba.wisal
Laiba Wisal💝 :
alhamdulillah Allah alhaq hai
2026-08-25 00:39:59
16
atiq49322
atiq :
Pakistan zindabad 🥰🥰
2026-08-25 06:28:55
0
user1221450853811
pindi boy117 :
پھولوں کی پتیاں پھینکنے والے ہاتھ گریبانوں تک کیوں پہنچے سوچیئے گا ضرور
2026-08-25 07:23:38
6
rightman198
🦅𝓤𝓢𝓐𝓜𝓐☜ :
2026-08-24 19:13:55
9
khalidkhan.1100
صدائے حق :
[Sticker] Alhamdullah ❤️❤️
2026-08-24 15:09:30
15
.khoni.barnad
⚔️ Khoni Barnad⚔️ :
یونیورسٹی میں پیش آنے والے اس واقعے کے حوالے سے یہ بات قابلِ افسوس ہے کہ ایک طالب علم نے پاک فوج کے ایک افسر پر ہاتھ اٹھایا۔ بتایا گیا کہ افسر اکیلا تھا جبکہ طلبہ کی تعداد زیادہ تھی، اور پہلے ایک طالب علم کی جانب سے افسر کو مارا گیا۔ بعد میں صورتحال کشیدہ ہونے پر افسر نے اپنی حفاظت کے لیے اسلحہ نکالا اور دو ہوائی فائر کیے، جس کے بعد وہاں موجود افراد میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ پاک فوج ہمارے ملک کی حفاظت اور سلامتی کے لیے اپنی ذمہ داریاں انجام دیتی ہے۔ کسی بھی شخص کو، چاہے وہ طالب علم ہو یا کوئی اور، کسی فوجی افسر پر ہاتھ اٹھانے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کسی معاملے پر اختلاف یا شکایت ہو تو اسے قانون اور متعلقہ اداروں کے ذریعے حل کرنا چاہیے، نہ کہ تشدد کے ذریعے۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ وردی میں موجود ہر شخص کے ساتھ قانون اور احترام کے دائرے میں رہتے ہوئے پیش آنا ضروری ہے۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ، لیکن کسی پر ہاتھ اٹھانا مسئلے کا حل نہیں۔ ایسے واقعات سے نہ صرف اداروں بلکہ معاشرے میں بھی کشیدگی پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ طلبہ سمیت ہر شہری قانون کا احترام کرے اور کسی بھی تنازع کو پرامن اور قانونی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کرے۔
2026-08-25 08:19:39
3
hamdankhax
Hamdankhax :
good luck 👍👍👍
2026-08-24 18:56:46
2
waqasafgan
🇦🇫WAQAS Jan🇦🇪 :
inshallah
2026-08-24 19:23:02
7
pnjtani313
پنجتنی :
Ai.
2026-08-25 03:29:53
0
ferihashaikh00
💗Feriha Shaikh💗 :
Right
2026-08-25 08:41:43
0
rizwani_1
🐺 Řizwani :
Mamla asal me ye tha. Army officer ki wife es university me head hai shayed or jis ko nikala gaiya tha students se rishwat le raha tha pehle us ki ne aurat head ko dhamkiyan di jab us ne police ko complain ki tu masoof ne mafi mang k complain wapis lene k liye kaha tu head ne complain muhtarma ne wapis le li jis k bad us ne kuch students ko sath mila k pehle wahan ihtajaj karna shuro kya phir head jo k aurat hai or colonel ki wife b us sy batamezi ki or phir us k girebaan me hath dala us k bad army officer ki wife ne husband ko call ki or ye mamla phir samny aya. Or jese hajoon girao kar raha tha army officer ki koi galti ni.
2026-08-25 09:09:58
0
To see more videos from user @comrade4944, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos


About