@hanifkhanptm0: منظور پشتین بالکل درست کہتے ہیں کہ جب ریاستی ادارے خود کو عوام سے بالاتر سمجھنے لگیں تو قانون کی جگہ طاقت اور عوامی خدمت کی جگہ بادشاہت جنم لیتی ہے۔ آج اسلام آباد سرحد یونیورسٹی میں پیش آنے والے مبینہ واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا یونیورسٹی کے طلبہ اپنے بنیادی حقوق کے لیے پُرامن احتجاج بھی نہیں کر سکتے؟ "آج منظور پشتین کی وہ بات ثابت ہوئی کہ جب وقت آئے گا تو پھر آپکے گریبان اور ہمارے ہاتھ ہوں گے۔" سرحد یونیورسٹی اسلام آباد میں طلباء نے ایک بدمعاش با وردی حاضر سروس کرنل کو گریبان سے پکڑ کر چپیڑیں کرائی ہیں۔ یہی ان کی اوقات ہے اور یہی زبان یہ سمجھتے ہیں۔ بدمعاش کرنل کی جرات دیکھیں کہ اس نے پستول نکال کر طلباء پر براہ راست فائرنگ کرنے کی کوشش کی لیکن پستول جام ہو گئی، اگر چل جاتی تو اس نے وہیں پر طلباء کو مار دینا تھا اور اس کا بال بھی باکا نہیں ہونا تھا۔ اطلاعات کے مطابق ایک فوجی افسر اپنی بیٹی کو یونیورسٹی لایا۔ اسی دوران یونیورسٹی کے طلبہ اپنے مطالبات اور مسائل کے حل کے لیے احتجاج کر رہے تھے۔ مبینہ طور پر مذکورہ افسر نے طلبہ کے ساتھ بدتمیزی اور گالم گلوچ کی، اور صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوگئی جب اس نے اپنی پستول سے مبینہ طور پر فائرنگ بھی کی۔ ۔ سوال یہ ہے کہ ایک طالب علم اگر اپنے حق کے لیے آواز اٹھائے تو اسے گالی، دھمکی یا پستول کی زبان میں جواب کیوں دیا جائے؟ سرحدوں کی حفاظت کے نام پر اربوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں، وردیاں اور اختیارات دیے جاتے ہیں۔ مگر وردی اور اختیار کا مقصد عوام کو دبانا نہیں بلکہ عوام کے جان و مال، عزت اور حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ لنک https://www.facebook.com/share/v/1EpGdCDky8/ @topfans PTM NEWS. #SarzandUniversity #Islamabad #StudentsRights #StudentProtest #FreedomOfExpression