@khomaree867: اُس نے بڑے غرور سے کہا: "بھول جاؤ ہمیں۔" ہم بھی بڑے نواب تھے، مسکرا کر کہا: "کون ہو تم؟" اس شعر میں خودداری، وقار اور اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب سامنے والے نے غرور کے ساتھ کہا کہ "مجھے بھول جاؤ"، تو جواب میں اس نے بھی اپنی عزتِ نفس برقرار رکھتے ہوئے مسکرا کر کہا: "کون ہو تم؟" یعنی میں تمہیں اتنی اہمیت ہی نہیں دیتا کہ تمہارے جانے سے میری زندگی رک جائے۔ اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ انسان کو اپنی عزتِ نفس قائم رکھنی چاہیے اور کسی کے غرور کے آگے خود کو کمزور نہیں سمجھنا چاہیے