@boompak06: اس فہرست میں چین اور روس جیسی سپر پاورز ہیں، شمالی کوریا جیسی مہم جو ریاست ہے، ترکی، ایران اور سعودی عرب جیسے علاقائی وزنی ممالک ہیں، خلیجی ممالک (بحرین، قطر، کویت) ہیں، مصر اور عراق جیسی تاریخی تہذیبیں ہیں، یمن ہے، اور انڈونیشیا و ملائیشیا جیسے جنوب مشرقی ایشیائی مسلم ممالک بھی شامل ہیں۔ یہ وہ ممالک ہیں جو اپنی اپنی جغرافیائی، سیاسی اور معاشی اہمیت رکھتے ہیں، اور ان میں سے اکثر کے درمیان گہرے اختلافات بھی ہیں، مگر پاکستان وہ پل ہے جس نے ان تمام اختلافات کو مٹا کر مشترکہ مفادات کا راستہ نکال لیا۔ پاکستان نے اپنی دانشمندانہ سفارت کاری اور غیر جانبداری کی پالیسی کے ذریعے ان تمام ممالک کو ایک دائرے میں جمع کیا ہے۔ جہاں ایک طرف سعودی عرب اور ایران صدیوں بعد ایک ہی پلیٹ فارم پر بیٹھے ہیں، وہیں چین اور روس بھی پاکستان کی قیادت میں علاقائی تعاون کا حصہ بن رہے ہیں۔ ترکی اور آذربائیجان جیسی برادر ممالک بھی پاکستان کی حکمت عملی کی بدولت اس اتحاد کا حصہ ہیں۔ ان تمام ممالک کا اکٹھا ہونا ثابت کرتا ہے کہ پاکستان صرف ایک فوجی یا ایٹمی طاقت نہیں، بلکہ ایک سفارتی اور اتحادی قوت بھی ہے۔ پاکستان نے دنیا کو دکھا دیا ہے کہ وہ دشمنوں کو دوست اور مخالفین کو حلیف بنا سکتا ہے۔ یہ پاکستان ہی ہے جس نے "Potential Regional Cooperation" کو حقیقت میں بدلا ہے۔ یہ پاکستان کا کردار ہے جس نے مسلم امہ کو متحد کیا، ایشیائی طاقتوں کو قریب لایا، اور عالمی سطح پر ایک نیا توازن قائم کیا۔ انشاء اللہ پاکستان اسی طرح اتحاد کا مرکز بنا رہے گا، اور دنیا کو امن، ترقی اور بھائی چارے کا راستہ دکھاتا رہے گا۔ پاکستان زندہ باد! پاک فوج پائندہ باد!