@faqeer123654: > میرے صبر کا پیمانہ یوں ٹوٹ کر بکھرا ہے > جیسے تپتی ریت پر کوئی تشنہ کوزہ گرا ہو > ان آنکھوں سے اب آنسو نہیں، لہو رستا ہے > کہ جو مانگا تھا وہ نہ ملا، بس اک صبر کا دامن تھما ہو > > زندگی اک مسلسل امتحاں ہے، جہاں کبھی وفا کے بدلے بیوفائی ملتی ہے، کبھی وصل کے بعد طویل ہجر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن ان تمام طوفانوں کے درمیان، اک واحد چیز جو انسان کی ہستی کو بکھرنے سے بچاتی ہے، وہ 'صبر' ہے۔ جب آنکھیں تھک جائیں اور ہاتھ خالی رہ جائیں، تبھی تو صبر کے حقیقی رنگ نکھرتے ہیں۔ > > وہ جو روٹھ گیا، وہ اک شخص نہ تھا، پوری کائنات تھی میری > اب جو بکھر گیا ہوں، تو اسے سمیٹنے کا ہنر بھی بھول گیا ہوں > اس ویران منظر میں، بس اک صبر کی آس باقی ہے > کہ جو بچھڑ گیا، شاید کبھی اس کا نقشِ قدم مل جائے >