@mera_kaptaan_804: جیسے ہی کالر پہ ہاتھ پڑا۔۔اسٹاک ایکسچینج اوپر گئی اور ڈالر کا ریٹ نیچے آیا.. کچھ یاد آیا پاکستانیو🔥🔥 #pti #fyp #pti_zindabad #viral #imrankhan
giryban ayr hath badl chuky hn yeh in k kabzy k akhri dor ha
2026-08-24 16:17:29
3
حسنی گوندل باہوال آلہ 🥂🖤 :
دلچسپ بات یہ ہے جو گھڑی گھڑی کرتے تھے ان کو گھڑی والا ہاتھ ہی پڑ گیا😂😂
2026-08-24 20:23:52
42
Umair Majeed :
chas A Gye A
2026-08-24 17:58:10
5
Asad M :
weldon🤣🤣
2026-08-25 12:08:59
0
*~Khaliq Kamran P T I~* :
amazing 👏
2026-08-24 17:00:35
2
Mehran Gul :
well done jaisy ko tesa
2026-08-24 17:43:05
11
Syed Waseem Haider :
کیا لاہن لکھی ہے واہ
2026-08-24 17:40:21
6
Malik Aon Ali :
hahahahhahaha love u khan mri jan
2026-08-24 17:40:22
6
Faisal jutt :
chass agai qasmayyy🥰🥰🥰🥰
2026-08-24 17:42:20
5
mirzahamidali4 :
Dar Sirf Allah ka
2026-08-25 05:26:15
2
Arslan Ahmad :
بہت ہی اچھے الفاظ استعمال کیے ہیں
2026-08-24 17:43:29
4
Mishalayy :
ghari wala hath
2026-08-25 07:31:05
2
مُرشد :
😂😂😂😂 chas ai k nai
2026-08-24 17:18:09
2
Imran Haider :
inshallah
2026-08-24 16:59:16
2
Mahar Muzamil Abbas lak :
Jurat or bhadri ka hath hn 🌸
2026-08-24 21:42:08
1
Umar Anayat ullah :
khoobsoorat
2026-08-24 17:26:14
1
Faizan Malik :
dil khush ho gaya ab awam kisi se nai darti.good job syudent of Sarhad University
2026-08-25 07:39:28
2
Zaib Ahmed :
𝙦𝙖𝙨𝙤𝙧 𝙠𝙨𝙞 𝙠𝙖 𝙨𝙖𝙯𝙖 𝙠𝙨𝙞 𝙠𝙤
2026-08-25 03:45:05
1
Fateh Din :
or gold fi tola 150000 km ho gya.khan dy raoly
2026-08-24 17:02:50
1
Usman Real Estate :
کسی بھی ادارے کی مضبوطی صرف اختیارات سے نہیں بلکہ حقوق اور فرائض کے متوازن نظام سے ہوتی ہے۔ ادارے میں کام کرنے والے ہر فرد کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ اگر وہ دوسروں سے عزت اور احترام کی توقع رکھتا ہے تو اسے خود بھی دوسروں کی عزت اور احترام کرنا ہوگا۔ اگر ہم کسی کے احساسات اور حقوق کا خیال نہیں رکھیں گے تو ہم اپنے لیے بھی احساس اور احترام کی توقع نہیں رکھ سکتے۔
جہاں حقوق ہوتے ہیں، وہاں فرائض بھی ہوتے ہیں، اور حقوق و فرائض دراصل ایک دوسرے کے لازم و ملزوم ہیں۔ نہ یہ ممکن ہے کہ صرف حقوق کی بات کی جائے اور فرائض کو نظر انداز کر دیا جائے، اور نہ یہ درست ہے کہ صرف فرائض کا مطالبہ کیا جائے لیکن لوگوں کے حقوق ادا نہ کیے جائیں۔ کسی بھی ریاست اور معاشرے کا نظام اسی وقت بہتر انداز میں آگے بڑھتا ہے جب حقوق اور فرائض دونوں کو یکساں اہمیت دی جائے۔
بدقسمتی سے ہمارے بہت سے سرکاری اور عوامی اداروں میں اس پہلو پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی۔ چاہے وہ ڈی سی آفس ہو، کچہری، تحصیل، واپڈا کا دفتر یا کوئی سرکاری ہسپتال، عوام جب کسی ادارے میں اپنے جائز کام کے لیے آتی ہے تو اسے عزت، شائستگی اور مناسب رویے کا حق حاصل ہے۔
سرکاری عہدہ اور اختیار دراصل عوام کی خدمت کے لیے ہوتا ہے، نہ کہ عوام پر برتری جتانے کے لیے۔ جس شخص کے پاس اختیار ہے، اسے اس اختیار کے ساتھ اپنی ذمہ داری اور اخلاقی فرض کا بھی احساس ہونا چاہیے۔ عوام کو عزت دینا، ان کی بات سننا، ان کے ساتھ شائستگی سے پیش آنا اور ان کے جائز حقوق کا خیال رکھنا کسی احسان کا نام نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔
اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر سرکاری ادارے میں ملازمین کو صرف اختیارات اور قواعد و ضوابط ہی نہ سکھائے جائیں بلکہ انہیں یہ بھی تربیت دی جائے کہ عوام کے ساتھ عزت، احترام، برداشت اور احساس کے ساتھ پیش آنا ان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ جب ادارے اپنے اختیارات کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو بھی سمجھیں گے، تو عوام کے دل میں بھی ان اداروں کے لیے احترام پیدا ہوگا۔
ایک بہتر ریاست اور ایک بہتر معاشرہ اسی وقت وجود میں آ سکتا ہے جب اختیار کے ساتھ احساس، طاقت کے ساتھ ذمہ داری، اور حقوق کے ساتھ فرائض کو بھی برابر اہمیت دی جائے۔
2026-08-25 08:59:31
0
Asim Rajpoot :
سرحد پر جانا تھا غلطی سے سرحد یونیورسٹی وڑ گیا۔۔۔ سوری
2026-08-25 15:01:00
0
Ayesh Farooq :
😅😅😅ak din tw ye hona e tha
2026-08-25 14:16:50
0
To see more videos from user @mera_kaptaan_804, please go to the Tikwm
homepage.