@user2057076770756:

الدعوه الي الله
الدعوه الي الله
Open In TikTok:
Region: EG
Tuesday 25 August 2026 00:19:00 GMT
3770
320
9
32

Music

Download

Comments

dy7rvshjqovt
رجب بو ربيع العزومي :
أسأل الله العظيم ن يرحمنا برحمته
2026-08-27 08:17:05
0
user4145436676355
ناجح ناصف :
نسال الله حسن الخاتمة
2026-08-26 13:23:07
0
sabri.almaliki92
صبري شريف المالكي 711 :
❤️❤️❤️
2026-08-26 21:25:02
0
user2351470305960
user2351470305960 :
🥰🥰🥰
2026-08-26 03:10:27
0
saifai30
كبوا لقريضي 🫵🏻 :
🥰🥰
2026-08-25 13:04:43
0
user27820413282630
سلام المشرقي :
🥰🥰🥰
2026-08-25 10:37:18
0
amhamedalawami
amhamedalawami :
🥰🥰🥰🥰
2026-08-25 10:28:15
0
user5835337197320
ذيب البر :
🥰🥰🥰
2026-08-25 00:22:35
0
user4081801373856
الله المستعان :
🥰🥰🥰
2026-08-27 04:58:00
0
To see more videos from user @user2057076770756, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

اطیعو اللہ واطیعو الرسول واولی الامر منکم ازروئے قرآن کیا ہے النساء 59 يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِيۡـعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡـعُوا الرَّسُوۡلَ وَاُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡكُمۡ‌ۚ فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِىۡ شَىۡءٍ فَرُدُّوۡهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ اِنۡ كُنۡـتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَـوۡمِ الۡاٰخِرِ‌ ؕ ذٰ لِكَ خَيۡرٌ وَّاَحۡسَنُ تَاۡوِيۡلًا   اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول اور اُس کے ماتحت حاکموں کی اطاعت کرو جو تم میں سے ہیں۔ پھر اگر کسی فیصلے میں ماتحت حاکموں سے تنازع ہو جائے تو اِس کو اللہ کے ماتحت مرکزِ رسالت رسول/خلیفۃ الرسول (عدالت عُظمہ) میں پیش کرو۔ اگر تم اللہ اور یومِ آخرت پر بِن دیکھے ایمان لاتے ہو۔ یہی کارروائی بہتر ہے اور اس کا انجامِ کار بھی اچھّا ہے۔4/59 تفہیم اَطِيۡـعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡـعُوا الرَّسُوۡلَ وَاُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡكُمۡ‌ۚ 4/59 وحی جو عند اللہ ہوتی ہے۔ اس کی اطاعت بذریعہ رسول اور اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ کرائی جاتی ہے۔ اوّل یہ وحی قلبِ رسول پر نازل ہوئی اور وہی اس کا اوّل مبلغ تھا۔ اس ظاہری واسطہ کے اعتبار سے یہ وحی بھی رسول کی اطاعت کہلاتی ہے اگرچہ ﷲ اور رسول دو اطاعتیں نظر آتی ہیں مگر اطاعت صرف اُس وحی کی ہوتی ہے جو رسول، ﷲ کی طرف سے لوگوں کو پہنچاتا ہے۔ لہٰذا ﷲ اور رسول کی اطاعت واحد ہے دو نہیں۔ 8/20 میں ﷲ اور اس کے رسول کی اطاعت کا حکم دینے کے بعد وَلَا تَوَلَّوْا عَنْہُ میں ہُ کی ضمیر واحد نے ﷲ اور رسول کی اطاعتِ واحد پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے۔ مزید 4/150,151 میں ﷲ اور اس کے رسولوں میں فرق کرنے والوں کو کافر قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی نبی بھی قرآن کے ساتھ اپنا کوئی ذاتی بشری مسودہ یا کلام نہیں دے کر گیا۔ اللہ جو کہتا ہے ہر نبی وہی لوگوں کو سنا دیتا ہے۔ قرآن میں بیشتر مقامات میں اللہ قٰل کہہ کر نبی کو حکم دیتے ہیں۔ نبی وہی بات بغیر کمی بیشی کے لوگوں کو بتاتا ہے۔بذریعہ نبی اور رسول، قرآن اللہ کا پیغام ہے۔ لہٰذا اللہ اور رسولوں کی بات میں تفریق پیدا کرنے والوں کو اللہ نے کافر قرار دیا ہے4/150,151۔  قرآن مجید میں بہت سے مقامات ہیں کہ پہلے احکام دیئے جاتے ہیں پھر ساتھ ہی حکم آتا ہے کہ ﷲ اور رسول کی اطاعت کرو۔ دراصل یہ مذکورہ احکام کی اطاعت ہی ﷲ اور رسول کی اطاعت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر وراثت کے احکام کے بعد فرمایا تِلْکَ حُدُوْد ُ اللّٰہِ ط وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ یُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُخٰلِدِیْنَ فِیْھَا ط وَذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ 4/13۔ وراثت کی آیات میں رسول کا ذاتی و بشری خیال تک نہیں ہے تو رسول کی اطاعت کن معنوں میں ہے؟ظاہر ہے ﷲ کا حکم بذریعہ رسول پہنچا ہے تو جس نے زبانِ رسول پر اعتماد کیا کہ وہ اللہ کا پیغام پہنچا رہا ہے اس نے رسول کی بات مانی تو ثابت ہوا کہ قرآن کے ذریعے ﷲ اور رسول کی اطاعت ہو گئی۔ یہ رسولی و بشری اطاعت ہے یعنی غیر رسولی اطاعت نہیں ہے۔ قرآن میں نحن ُ نَقُصُّ 12/3 ہم بیان کرتے ہیں پھر ھٰذا القرانُ یقُصُّ 27/76 یہ قرآن بیان کرتا ہے۔پھر فَاقْصُصِ الْقَصَصَ 7/176 میں آتا ہے کہ آپ بیان کر دیں۔ ﷲ، قرآن اور رسول تینوں قرآن ہی بیان کرتے ہیں۔ لہٰذا ان مذکورہ بالا بیانات میں اطاعت واحد کا تصور ہی عیاں ہے اور یہ صرف ما انزل ﷲ وحی کی اطاعت ہے۔ قرآن وحی ہے اور وحی جو خارجی اور اختیار کے بغیر ہو ما انزل ﷲ ہوتی ہے۔ اگر غیر نبی بھی اس کا ابلاغ کرے یا آیت کا درست ترجمہ لوگوں تک پہنچا دے تو اس کو ماننا، اُس پر عمل کرنا کسی بشر کی نہیں ﷲ ہی کی اطاعت ہو گی۔ کفّار کہتے تھے کہ آپ نے قرآن کو خود گھڑ لیا ہے۔ فرمایا اگر یہ قرآن میں نے خود گھڑ لیا ہے تو یہ عقل و فہم میری مانند تمہارے پاس بھی ہے تم بھی اس کی مثل بنا لاؤ اگر عقل و فہم میں نبی ما فوق البشر ہے تو خود گھڑنے کا کافرانہ نظریہ درست ماننا پڑے گا کیونکہ ما فوق البشر کا کلام بھی ما فوق البشر ہے یہ چیلنج عدل پر مبنی نہیں ہے لہٰذا ہر نبی نوعِ بشر ہے اور یہ چیلنج اب بھی ہے۔ عقل و فہم میں دوسرے انسان رسول کے ہم پلہ ہونے کے باوجود اس قرآن کی مثل نہیں بنا سکتے۔ ثابت ہوا کہ رسول ﷲ کے پاس اپنی عقل و فہم سے بڑھ کر جو شے تھی وہ قرآن تھا۔ قرآن کے علاوہ رسول ﷲ کی ذاتی بشری حدیثوں کا چیلنج نہیں۔ اگر اس قرآن کے علاوہ بھی کوئی خفی وحی ہوتی تو اسے بھی بطور چیلنج پیش کیا جاتا۔ اس قرآن کی اوّل اتباع آپ نے کی اور ہر انسان کو اسی کی اتباع کا حکم دیا۔یہ ایک امانت تھی جسے دوسروں تک بھی پہنچانا تھا یہ کوئی ذاتی ملکیت نہ تھی جس میں آپ کو ذرہ بھر بھی اختیار ہوتا کہ جو چاہیں ظاہر کریں اور جو چاہیں چھپائیں۔ اس لئے حکم تھا کہ جو تیری طرف نازل ہوا ہے۔ دوسروں تک پہنچاؤ۔
اطیعو اللہ واطیعو الرسول واولی الامر منکم ازروئے قرآن کیا ہے النساء 59 يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِيۡـعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡـعُوا الرَّسُوۡلَ وَاُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡكُمۡ‌ۚ فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِىۡ شَىۡءٍ فَرُدُّوۡهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ اِنۡ كُنۡـتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَـوۡمِ الۡاٰخِرِ‌ ؕ ذٰ لِكَ خَيۡرٌ وَّاَحۡسَنُ تَاۡوِيۡلًا اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول اور اُس کے ماتحت حاکموں کی اطاعت کرو جو تم میں سے ہیں۔ پھر اگر کسی فیصلے میں ماتحت حاکموں سے تنازع ہو جائے تو اِس کو اللہ کے ماتحت مرکزِ رسالت رسول/خلیفۃ الرسول (عدالت عُظمہ) میں پیش کرو۔ اگر تم اللہ اور یومِ آخرت پر بِن دیکھے ایمان لاتے ہو۔ یہی کارروائی بہتر ہے اور اس کا انجامِ کار بھی اچھّا ہے۔4/59 تفہیم اَطِيۡـعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡـعُوا الرَّسُوۡلَ وَاُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡكُمۡ‌ۚ 4/59 وحی جو عند اللہ ہوتی ہے۔ اس کی اطاعت بذریعہ رسول اور اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ کرائی جاتی ہے۔ اوّل یہ وحی قلبِ رسول پر نازل ہوئی اور وہی اس کا اوّل مبلغ تھا۔ اس ظاہری واسطہ کے اعتبار سے یہ وحی بھی رسول کی اطاعت کہلاتی ہے اگرچہ ﷲ اور رسول دو اطاعتیں نظر آتی ہیں مگر اطاعت صرف اُس وحی کی ہوتی ہے جو رسول، ﷲ کی طرف سے لوگوں کو پہنچاتا ہے۔ لہٰذا ﷲ اور رسول کی اطاعت واحد ہے دو نہیں۔ 8/20 میں ﷲ اور اس کے رسول کی اطاعت کا حکم دینے کے بعد وَلَا تَوَلَّوْا عَنْہُ میں ہُ کی ضمیر واحد نے ﷲ اور رسول کی اطاعتِ واحد پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے۔ مزید 4/150,151 میں ﷲ اور اس کے رسولوں میں فرق کرنے والوں کو کافر قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی نبی بھی قرآن کے ساتھ اپنا کوئی ذاتی بشری مسودہ یا کلام نہیں دے کر گیا۔ اللہ جو کہتا ہے ہر نبی وہی لوگوں کو سنا دیتا ہے۔ قرآن میں بیشتر مقامات میں اللہ قٰل کہہ کر نبی کو حکم دیتے ہیں۔ نبی وہی بات بغیر کمی بیشی کے لوگوں کو بتاتا ہے۔بذریعہ نبی اور رسول، قرآن اللہ کا پیغام ہے۔ لہٰذا اللہ اور رسولوں کی بات میں تفریق پیدا کرنے والوں کو اللہ نے کافر قرار دیا ہے4/150,151۔ قرآن مجید میں بہت سے مقامات ہیں کہ پہلے احکام دیئے جاتے ہیں پھر ساتھ ہی حکم آتا ہے کہ ﷲ اور رسول کی اطاعت کرو۔ دراصل یہ مذکورہ احکام کی اطاعت ہی ﷲ اور رسول کی اطاعت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر وراثت کے احکام کے بعد فرمایا تِلْکَ حُدُوْد ُ اللّٰہِ ط وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ یُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُخٰلِدِیْنَ فِیْھَا ط وَذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ 4/13۔ وراثت کی آیات میں رسول کا ذاتی و بشری خیال تک نہیں ہے تو رسول کی اطاعت کن معنوں میں ہے؟ظاہر ہے ﷲ کا حکم بذریعہ رسول پہنچا ہے تو جس نے زبانِ رسول پر اعتماد کیا کہ وہ اللہ کا پیغام پہنچا رہا ہے اس نے رسول کی بات مانی تو ثابت ہوا کہ قرآن کے ذریعے ﷲ اور رسول کی اطاعت ہو گئی۔ یہ رسولی و بشری اطاعت ہے یعنی غیر رسولی اطاعت نہیں ہے۔ قرآن میں نحن ُ نَقُصُّ 12/3 ہم بیان کرتے ہیں پھر ھٰذا القرانُ یقُصُّ 27/76 یہ قرآن بیان کرتا ہے۔پھر فَاقْصُصِ الْقَصَصَ 7/176 میں آتا ہے کہ آپ بیان کر دیں۔ ﷲ، قرآن اور رسول تینوں قرآن ہی بیان کرتے ہیں۔ لہٰذا ان مذکورہ بالا بیانات میں اطاعت واحد کا تصور ہی عیاں ہے اور یہ صرف ما انزل ﷲ وحی کی اطاعت ہے۔ قرآن وحی ہے اور وحی جو خارجی اور اختیار کے بغیر ہو ما انزل ﷲ ہوتی ہے۔ اگر غیر نبی بھی اس کا ابلاغ کرے یا آیت کا درست ترجمہ لوگوں تک پہنچا دے تو اس کو ماننا، اُس پر عمل کرنا کسی بشر کی نہیں ﷲ ہی کی اطاعت ہو گی۔ کفّار کہتے تھے کہ آپ نے قرآن کو خود گھڑ لیا ہے۔ فرمایا اگر یہ قرآن میں نے خود گھڑ لیا ہے تو یہ عقل و فہم میری مانند تمہارے پاس بھی ہے تم بھی اس کی مثل بنا لاؤ اگر عقل و فہم میں نبی ما فوق البشر ہے تو خود گھڑنے کا کافرانہ نظریہ درست ماننا پڑے گا کیونکہ ما فوق البشر کا کلام بھی ما فوق البشر ہے یہ چیلنج عدل پر مبنی نہیں ہے لہٰذا ہر نبی نوعِ بشر ہے اور یہ چیلنج اب بھی ہے۔ عقل و فہم میں دوسرے انسان رسول کے ہم پلہ ہونے کے باوجود اس قرآن کی مثل نہیں بنا سکتے۔ ثابت ہوا کہ رسول ﷲ کے پاس اپنی عقل و فہم سے بڑھ کر جو شے تھی وہ قرآن تھا۔ قرآن کے علاوہ رسول ﷲ کی ذاتی بشری حدیثوں کا چیلنج نہیں۔ اگر اس قرآن کے علاوہ بھی کوئی خفی وحی ہوتی تو اسے بھی بطور چیلنج پیش کیا جاتا۔ اس قرآن کی اوّل اتباع آپ نے کی اور ہر انسان کو اسی کی اتباع کا حکم دیا۔یہ ایک امانت تھی جسے دوسروں تک بھی پہنچانا تھا یہ کوئی ذاتی ملکیت نہ تھی جس میں آپ کو ذرہ بھر بھی اختیار ہوتا کہ جو چاہیں ظاہر کریں اور جو چاہیں چھپائیں۔ اس لئے حکم تھا کہ جو تیری طرف نازل ہوا ہے۔ دوسروں تک پہنچاؤ۔

About