@offlinefeelings04: @𝟐𝟕.𝟎𝟓.𝟐𝟎𝟐𝟒 ᥫ᭡ کانٹوں کا کیا قصور، پیر تو میں نے رکھا تھا، مجھے معلوم تھا راستہ آسان نہیں پھر بھی میں چلتا رہا۔ جس راہ میں درد لکھا تھا، اسے اپنی قسمت سمجھ کر قبول کرتا رہا۔ لوگوں نے سمجھایا بہت، مگر دل نے ہر بار تمہاری طرف جانے کا راستہ چن لیا۔ زخم ملتے رہے اور میں ہر زخم کو محبت کی قیمت سمجھ کر سہتا رہا۔ آخر ایک دن احساس ہوا کہ تکلیف کانٹوں نے نہیں، میری اپنی امیدوں نے دی تھی۔ میں نے غلط لوگوں سے وفا مانگی اور پھر اپنی ہی وفاداری کا ماتم کرتا رہا۔ اب نہ راستے سے شکایت ہے، نہ کانٹوں سے کوئی گلہ باقی ہے۔ بس افسوس اتنا ہے کہ جس منزل کو اپنا سمجھا، وہ کبھی میری تھی ہی نہیں۔ اور اب زخمی قدموں کے ساتھ واپس لوٹنا بھی ممکن نہیں، کیونکہ دل وہیں کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔