@irfanquets6: ہم اُس سے اپنی کمزوریاں بانٹتے ہیں، اپنے خوف بتاتے ہیں، اپنی خاموشیاں سمجھنے دیتے ہیں… اور دل میں یہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ شخص کبھی ہمیں اکیلا نہیں چھوڑے گا۔ مگر وقت ہمیشہ وہ نہیں کرتا جو ہم سوچتے ہیں۔ آہستہ آہستہ وہی شخص بدلنے لگتا ہے جسے ہم اپنا سہارا سمجھتے تھے۔ باتیں کم ہو جاتی ہیں، توجہ بدل جاتی ہے، رویہ اجنبی سا لگنے لگتا ہے… اور پھر ایک دن احساس ہوتا ہے کہ جس شخص کے سامنے ہم نے خود کو سب سے زیادہ محفوظ سمجھا تھا، ہم اسی کے سامنے سب سے زیادہ بےبس ہو گئے ہیں۔ تب سمجھ آتا ہے کہ زندگی کی کچھ آزمائشیں دشمن بن کر نہیں آتیں… وہ اُس شخص کے روپ میں آتی ہیں جس پر ہم نے سب سے زیادہ یقین کیا ہوتا ہے۔ اور شاید سب سے تلخ سبق یہی ہے: کسی کو اپنا سہارا ضرور سمجھو، مگر اپنی پوری دنیا مت بنا لینا… کیونکہ لوگ بدل سکتے ہیں، مگر ٹوٹا ہوا یقین دوبارہ پہلے جیسا نہیں ہوتا۔ 🥀