فرعون نے شادی تو کر لی تھی۔ زبردستی۔پر وہ پاس نہیں جا پایا اللہ تعالی نے اسے نا مرد بنا دیا تھا۔ اللہ تعالی نے دکھایا تھا کہ ظالم اپنا ظلم تو کر سکتا ہے پر کسی کے ساتھ زبردستی رشتہ نہیں بنا سکتا۔
2026-08-31 19:36:59
635
mahi :
کیونکہ فرعون ظالم تھا بد کردار نہیں
2026-08-26 04:13:38
289
Syco :
تو سنو حضرت موسیٰ کی پرورش مقصود تھی اور حضرت آسیہ جنت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں جب حضرت خدیجہ کا انتقال ہونے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خدیجہ جبت میں اپنی سوکن کو سلام کہنا پوچھا آپ کی تو میرے علاوہ کوئی بیوی نہیں تو آپ نے بتایا اللّٰہ آسیہ کو جنت میں میری بیوی بنا دیا ہے قرآن کی تفسیر پڑھو بھائی
2026-09-04 16:03:15
77
twins_15 sisters :
تصویر میں جو سوال اٹھایا گیا ہے، وہ اکثر لوگوں کے ذہنوں میں آتا ہے۔ سورہ النور کی آیت نمبر 26 میں ارشاد ہوتا ہے: "اَلْخَبِيْثٰتُلِلْخَبِيْثِيْنَوَالْخَبِيْثُوْنَلِلْخَبِيْثٰتِ وَالطَيِّبٰتُلِلطَيِّبِيْنَوَالطَيِّبُوْنَلِلطَيِّبٰتِ" (ترجمہ: ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لیے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لیے، اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے ہیں)۔اس آیت کے باوجود حضرت آسیہ (جو کہ ایک نہایت نیک اور پاکیزہ خاتون تھیں) کا نکاح فرعون (جو تاریخ کا بدترین کافر اور ظالم شخص تھا) سے کیوں ہوا؟ علماء اور مفسرین نے اس کے درج ذیل تین اہم جوابات بیان کیے ہیں:1۔ آیت کا اصل مفاد (باتوں اور کردار کی پاکیزگی)اکثر مفسرین کے مطابق اس آیت کا بنیادی مقصد یہ بتانا ہے کہ پاکیزہ لوگ پاکیزہ باتیں اور اچھے کام کرتے ہیں، جبکہ برے لوگ گندی باتیں اور برے کام کرتے ہیں۔ یہ آیت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگائے گئے جھوٹے الزام (واقعہ افک) کی برائت میں نازل ہوئی تھی، جس کا مطلب یہ تھا کہ اللہ کے نبی پاک ہیں تو ان کی زوجہ بھی پاکیزہ ہیں۔ یہ کوئی ایسا کونیاتی قانون (Cosmic Law) نہیں ہے کہ دنیا میں کبھی کسی نیک انسان کی شادی کسی برے انسان سے ہو ہی نہیں سکتی۔2۔ شریعت کا فرقحضرت آسیہ اور فرعون کا معاملہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت سے پہلے یا ان کے دور کا ہے۔ اس وقت کے قانون اور شریعت میں کسی مومنہ عورت کا نکاح کسی کافر مرد سے ممنوع (حرام) نہیں ہوا تھا۔ اسلام (شریعتِ محمدیؐ) میں اب یہ قانون واضح کر دیا گیا ہے کہ کسی مسلمان عورت کا نکاح کافر مرد سے نہیں ہو سکتا۔3۔ دنیاوی آزمائش اور مصلحتِ الٰہیاللہ تعالیٰ دنیا میں اپنے بندوں کو مختلف طریقوں سے آزماتا ہے۔حضرت آسیہ کے لیے آزمائش: وہ فرعون جیسے ظالم کے محل میں رہیں لیکن انہوں نے اپنے ایمان کو محفوظ رکھا اور صبر کی اعلیٰ مثال قائم کی، جس کی وجہ سے اللہ نے انہیں دنیا و آخرت میں بلند مقام عطا فرمایا اور قرآن میں ان کی تعریف کی۔حضرت موسیٰؑ کی پرورش: اللہ کی حکمت تھی کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جان بچانے اور خود فرعون کے محل میں ان کی پرورش کا ذریعہ حضرت آسیہ کو بنایا جائے۔اس کے برعکس مثالیں بھی قرآن میں موجود ہیں، جیسے حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام دونوں اللہ کے برگزیدہ اور پاکیزہ نبی تھے، لیکن ان کی بیویاں نافرمان اور گندے کردار کی تھیں۔ یہ سب اس بات کی دلیل ہے کہ دنیا آزمائش کی جگہ ہے جہاں خاندانی رشتے انسان کے اپنے ایمان اور اعمال کے آڑے نہیں آتے
2026-09-03 15:26:03
67
❤️prince❤️of❤️hazara❤️ :
قرآن مجید کی بات پر شک کرنا والا مسلمان نہی ہو سکتا
2026-09-07 17:53:44
47
📚sakoon,📚 :
پاک کے لئے پاک جنت میں ہو گا دنیا میں آزمائش ہے بادشاہ قرآن کریم کوئی مذاق نہیں ہے اس کو غور وفکر سے پڑھا کریں
2026-08-30 16:33:29
92
razajutt :
qu ka wo Zanaa ni karta ta or donu Pak ta
2026-08-25 10:32:13
22
❣️cute girl ❣️ :
us ne bad me Islam qubol Kiya tha Allah ki bate insan kabhi nh Jan sakta na wo Allah ko Samaj sakta h insan jald Baz Hota h☺️☺️☺️
2026-08-25 10:03:42
64
نور 🖤 :
دنیا کے لیے نہیں کہا ، آخرت میں ایسا ہو گا ، ورنہ بہت سارے لوگ ہیں جو اچھے ہیں لیکن ان کا ہمسفر اچھا نہیں ۔۔۔۔۔
2026-08-27 06:32:35
78
Sana Malik 🥰🥰 :
کیونکہ وہاں پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پرورش ھونی تھی حضرت آ سیہ کے ہاتھوں بیشک جو اللّٰہ جانتا ھے وہ ھم نہیں جانتے
2026-09-01 10:43:33
63
✨💫علیزہ کھوکھر💫✨ :
کیونکہ حضرت اسیہ کو حضرت موسی علیہ السلام کی پرورش کرنی تھی فرعون کے گھر میں
2026-09-01 14:25:57
51
bala princess :
bat to sahi ha lakin jab firon hazrat Asia ka sat azdawaji taluq kaim karny ki koshishq karta to faristy Allah ky hukam sa darmiyan ma parda khara kardeta to islihaz sa pak orty pak mardo ka liya
2026-08-30 12:23:30
8
M shah :
کیونکہ وہاں پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پرورش ہونی تھی حضرت آسیہ کے ہاتھوں....... بیشک ، جو اللہ جانتے ہیں وہ ہم نہیں جانتے
2026-09-06 17:51:33
12
Moon Girl💫✨ :
فرعون نے شادی تو کر لی تھی۔ زبردستی۔پر وہ پاس نہیں جا پایا اللہ تعالی نے اسے نا مرد بنا دیا تھا۔ اللہ تعالی نے دکھایا تھا کہ ظالم اپنا ظلم تو کر سکتا ہے پر کسی کے ساتھ زبردستی رشتہ نہیں بنا سکتا۔
2026-09-07 01:11:26
14
. :
Allah ne farishto ko kaha mai vo janta hu jo tum nhi jante wo to farishte the or ham insan zamin asman ka frq he 😊
2026-08-25 14:52:35
6
◌⑅⃝●♡⋆♡Mano♡⋆♡ :
beshk Allah behtr janta h jo Allah janta h wo hm ni or yh swal uthna b ni chahiye agr Allah hm sy swal kry to hm to jwab b ni dy paen gy so jo Allah janta h behtr janta h
2026-08-25 15:56:44
5
➤⃝⃝𝐈𝐒𝐋𝘼𝙈𝐈𝐂 girl ❤️ :
🖤:دنیا کے لیے نہیں کہا ، آخرت میں ایسا ہو گا ، ورنہ بہت سارے لوگ ہیں جو اچھے ہیں لیکن ان کا ہمسفر اچھا نہیں ۔۔۔۔۔
2026-09-07 16:16:04
23
Ma khud 🤩😎 :
:دنیا کے لیے نہیں کہا ، آخرت میں ایسا ہو گا ، ورنہ بہت سارے لوگ ہیں جو اچھے ہیں لیکن ان کا ہمسفر اچھا نہیں ۔۔۔۔۔
2026-08-29 01:21:09
8
Kajal :
Bhai JB Allah nay quran may frmadea..to asay svalo ke gunjaish nhi bchti...beshak. Allah behter janta h🥰
2026-08-26 05:41:09
7
🎀❣️𝓑𝓾𝓽𝓽 𝓢𝓪𝓱𝓲𝓫𝓪❣️🎀 :
Allah ki Marzi alhamdulillah ham shak ni krte bs 🙁
2026-09-08 08:58:46
5
BinyameenBadsha.78 :
کیونکہ وہاں پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پرورش ھونی تھی حضرت آ سیہ کے ہاتھوں بیشک جو اللّٰہ جانتا ھے وہ ھم نہیں جانتے
2026-08-26 10:56:08
10
Malik Zaadi :
q k tb Quran ni kh rha tha ye hazrat Muhammad SW ki umat k liay h goor krain wo hzart mosa as ka door tha itna pichy na jao asia or frauon tk ab ki socho or achy amal kro ta k any wali Zindagi skoon ki becheni ki na ho
2026-09-03 08:03:55
12
Adeel ansari :
یہ حکم قرآن میں ہے اور حضرت آ سیہ کا واقع پہلے گزر چکا تھا قرآن مجید بعد میں نازل ہوا اور اس کے احکام بھی اس کے بعد نا کوئی پیغمبر آ یے گا اور نا کوئی کتاب
2026-08-31 17:59:21
12
️꧁༺ بنتِ حوا ༻꧂ :
یہ جنّت کیلئے ہے آیت 🥰دنیا کے لئے نہیں
2026-09-04 18:17:45
11
Thvm :
q k Allah g ne Hazrat Mussa ale Islam ki parwarish k Liye unka intekhab Kiya tha or unka wha hona zaroori tha Nabiyon k zamano mein aisi boht c batein Hain Jin tak hamati fehm risaee nhi Inko Allah pak k maslihat samjhein or jisse logon k Liye hidyat ka zariya bnya ha قرآن خود اس کی مثال دیتا ہے: فرعون کی بیوی آسیہؓ ایمان والوں کے لیے مثال ہیں، جبکہ فرعون کافر تھا۔ اسی طرح حضرت نوحؑ اور حضرت لوطؑ کی بیویاں ایمان نہیں لائیں، حالانکہ وہ اللہ کے نبیوں کے نکاح میں تھیں۔ (سورۃ التحریم 10)
یعنی نکاح کسی انسان کے ایمان اور کردار کی ضمانت نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کبھی کسی نیک شخص کو ایسے رشتے کے ذریعے آزماتے اور ایک بہت خوبصورت بات یہ ہے کہ حضرت آسیہؓ کی نیکی فرعون کی وجہ سے کم نہیں ہوئی، اور فرعون کی برائی آسیہؓ کی وجہ سے ختم نہیں ہوئی۔ ہر انسان اپنے ایمان اور عمل کا خود ذمہ دار ہہیں، اور کبھی کسی برے شخص کے گھر میں کسی نیک انسان کو اپنی نشانی بنا دیتے ہیں۔ 🤍
2026-08-25 14:49:49
21
To see more videos from user @shezada_874, please go to the Tikwm
homepage.